مقبول ترین ، زندگی بدل دینے والا ناول۔۔۔ قسط نمبر 50

05 جون 2017 (13:45)

ابویحییٰ

’’عبد اللہ! حشر کے دن کے معاملات اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ تمھیں اگر حشر کے معاملات سے کوئی دلچسپی باقی رہ گئی ہے تو دوبارہ وہاں چلے چلو۔‘‘، کچھ دیر بعد صالح نے مجھ سے مخاطب ہوکر کہا۔

’’اس وقت حساب کتاب کہاں تک پہنچا ہے؟‘‘، ناعمہ نے دریافت کیا۔

’’لوگوں کی زیادہ بڑی تعداد آخری زمانے میں پیدا ہوئی تھی۔ وہ سب اب نمٹ چکے ہیں۔ مسلمانوں اور مسیحیوں اور ان کے معاصرین کا عمومی حساب کتاب ہوچکا ہے۔ اس وقت یہود کا حساب چل رہا ہے۔ یوں سمجھ لو کہ بیشتر انسانیت کی تقدیر کا فیصلہ ہوچکا ہے۔ دیگر امتوں میں لوگوں کی تعداد بہت ہی کم تھی اس لیے اب بہت زیادہ وقت نہیں لگے گا۔‘‘

’’میرے استاد، فرحان احمد کا کیا ہوا۔ تمھیں کچھ معلوم ہے؟‘‘

مقبول ترین ، زندگی بدل دینے والا ناول۔۔۔ قسط نمبر 49 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

’’نہیں میرا ان سے کوئی براہ راست تعلق نہیں۔ اس لیے میں ان کے بارے میں کچھ نہیں جان سکتا۔ یہ تو میں جانتا ہوں کہ وہ یہاں حوض پر نہیں ہیں۔باقی اللہ بہتر جانتا ہے کہ ان کا کیا ہوگا۔ویسے بہتر ہے کہ اب تم اٹھ جاؤ۔‘‘

’’ٹھیک ہے ۔ ہم لوگ چلتے ہیں۔‘‘، میں نے نشست سے اٹھتے ہوئے کہا۔

ناعمہ اور بچے بھی اپنی نشستوں سے اٹھ گئے۔ ناعمہ نے اٹھتے ہوئے کہا:

’’میں ان بچوں کے ہمراہ ان کے خاندانوں کے پاس جارہی ہوں۔ یہاں وی آئی پی لاؤنج میں تو صرف آپ کے بچے آسکتے ہیں۔ ان کے بچے تو نیچے انتظار کررہے ہیں۔ میں ان کے پاس جارہی ہوں۔ اور ہاں مجھے اپنے جمشید کے لیے کوئی نئی دلہن بھی ڈھونڈنی ہے۔‘‘

اس آخری بات پر ہم سب ہنس پڑے سوائے جمشید کے۔ اس کی سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ نئی دلہن کی بات پر ہنسے یا اپنی سابقہ بیوی کی ہلاکت پر افسوس کرے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہم حشر کے میدان کی سمت جارہے تھے کہ راستے میں ایک جگہ نحور اور شائستہ نظر آئے۔ انھیں دیکھ کر میری حسِ مزاح بیدار ہوگئی۔ میں نے صالح سے کہا:

’’آؤ ذرا چلتے چلتے انھیں تنگ کرتے جائیں۔‘‘

ان دونوں کا رخ جھیل کی طرف تھا اس لیے وہ ہمیں قریب آتے ہوئے دیکھ نہیں سکے۔ میں شائستہ کی سمت سے اس کے قریب پہنچا اور زور سے کہا:

’’اے لڑکی! چلو ہمارے ساتھ۔ ہم تمھیں ایک نامحرم مرد کے ساتھ گھومنے پھرنے کے جرم میں گرفتار کرتے ہیں۔‘‘

شائستہ میری بلند آواز اور سخت لہجے سے ایک دم گھبراکر پلٹی۔ تاہم نحور پر میری بات کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ انھوں نے اطمینان کے ساتھ مجھے دیکھا اور کہا:

’’پھر تو مجھے بھی گرفتار کرلیجیے۔ میں بھی شریک جرم ہوں۔‘‘، یہ کہتے ہوئے انہوں نے دونوں ہاتھ آگے پھیلادیے۔ پھر ہنستے ہوئے کہا:

’’مگر مسئلہ یہ ہے کہ یہاں نہ جیل ہے اور نہ سزا دینے کی جگہ۔‘‘

’’جیل تو یہاں نہیں ہے، مگر سزا ضرور مل سکتی ہے۔ وہ یہ کہ مغویہ ہی کے ساتھ آپ کی شادی کرادی جائے۔ ساری زندگی ایک ہی خاتون کے ساتھ رہنا وہ بھی جنت میں بڑی سزا ہے۔‘‘

اس پر نحور نے ایک زوردار قہقہہ بلند کیا۔ شائستہ جو میرے ابتدائی حملے کے بعد سنبھل چکی تھی، ہنستے ہوئے بولی:

’’ویسے تو آپ لوگ توحید کے بڑے قائل ہیں، مگر اس معاملے میں آپ لوگوں کی سوچ اتنی مشرکانہ کیوں ہوجاتی ہے؟‘‘

نحور نے چہرے پر مصنوعی سنجیدگی لاتے ہوئے کہا:

’’آپ کو معلوم ہے عبداللہ! مشرکوں کا انجام جہنم ہوتا ہے۔ اس لیے آئندہ آپ شائستہ کے سامنے ایسی مشرکانہ گفتگو مت کیجیے گا وگرنہ آپ کی خیر نہیں۔‘‘

صالح نے اس گفتگو میں مداخلت کرتے ہوئے کہا:

’’شائستہ! آپ اطمینان رکھیں۔ یہ عملاً موحد ہیں۔ ان کی ایک ہی بیگم ہیں۔‘‘

اس پر نحور مسکراتے ہوئے بولے:

’’یہ ان کا کارنامہ نہیں، ان کے زمانے میں یہ مجبوری تھی۔ خیر چھوڑیں اسے۔ یہ بتائیے کہ آپ کی بیگم صاحبہ ہیں کہاں؟‘‘

میں ابھی تک سنجیدگی اختیار کرنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ میں نے ان کی طرف شرارت آمیز انداز میں دیکھتے ہوئے کہا:

’’ہمیں بعض دوسرے بزرگوں کی طرح بیگمات کے ساتھ گھومنے کی فراغت میسر نہیں۔‘‘

’’لیکن دوسروں کی فراغت کو نظر لگانے کی فرصت ضرور میسر ہے۔‘‘، نحور نے اسی لب و لہجے میں ترکی بہ ترکی جواب دیا۔

’’ہم خوش ہونے والے لوگ ہیں، نظر لگانے والے ہرگز نہیں۔‘‘

’’مگر آپ نے مجھے تو نظر لگادی ہے۔‘‘، پھر مزید وضاحت کرتے ہوئے بولے:

’’میرے پیغمبر یرمیاہ نبی کو شہادت دینے کے لیے بلالیا گیا ہے۔ میں چونکہ ان کا قریبی ساتھی تھا، اس لیے میرا وہاں موجود ہونا ضروری ہے۔‘‘

یہ آخری بات کہتے ہوئے ان کے چہرے پر سنجیدگی آگئی تھی۔

’’آپ جارہے ہیں؟‘‘، شائستہ نے پوچھا۔

’’ہاں۔ تم اپنے گھر والوں کے پاس چلی جاؤ۔ میں کچھ دیر تک ان معاملات میں مصروف رہوں گا۔ عبد اللہ نے مجھے نظر جو لگادی ہے۔‘‘

یہ کہہ کر وہ ان فرشتوں کے ساتھ روانہ ہوگئے جو انہیں لینے آئے تھے۔(جاری ہے)

مقبول ترین ، زندگی بدل دینے والا ناول۔۔۔ قسط نمبر 51 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

(ابویحییٰ کی تصنیف ’’جب زندگی شروع ہوگی‘‘ دور جدید میں اردو زبان کی سب زیادہ پڑھی جانے والی کتاب بن چکی ہے۔ کئی ملکی اور غیر ملکی زبانوں میں اس کتاب کے تراجم ہوچکے ہیں۔ابو یحییٰ نے علوم اسلامیہ اور کمپیوٹر سائنس میں فرسٹ کلاس فرسٹ پوزیشن کے ساتھ آنرز اور ماسٹرز کی ڈگریاں حاصل کی ہیں جبکہ ان کا ایم فل سوشل سائنسز میں ہے۔ ابویحییٰ نے درجن سے اوپر مختصر تصانیف اور اصلاحی کتابچے بھی لکھے اور سفر نامے بھی جو اپنی افادیت کے باعث مقبولیت حاصل کرچکے ہیں ۔ پچھلے پندرہ برسوں سے وہ قرآن مجید پر ایک تحقیقی کام کررہے ہیں جس کا مقصد قرآن مجید کے آفاقی پیغام، استدلال، مطالبات کو منظم و مرتب انداز میں پیش کرنا ہے۔ ان سے براہ راست رابطے کے لیے ان کے ای میل abuyahya267@gmail.com پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔)

مزیدخبریں