دین نے ہمیں جھکنا سکھایا،ہر جگہ سازشی عناصر موجود ہیں، سپریم کورٹ وہ جگہ ہے جہاں کچھ عرصہ قبل کپڑے سکھائے گئے: نہال ہاشمی

دین نے ہمیں جھکنا سکھایا،ہر جگہ سازشی عناصر موجود ہیں، سپریم کورٹ وہ جگہ ہے ...
دین نے ہمیں جھکنا سکھایا،ہر جگہ سازشی عناصر موجود ہیں، سپریم کورٹ وہ جگہ ہے جہاں کچھ عرصہ قبل کپڑے سکھائے گئے: نہال ہاشمی

  


اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)اپنی شعلہ انگیز تقریر کی وجہ سے پارٹی رکنیت اور سینیٹ کی نشست سے ہاتھ دھونے والے نہال ہاشمی نے کہاکہ وہ عدالت عظمیٰ کے شکرگزار ہیں جنہوں نے ان کا موقف سنا ، میرے جیسے محب وطن پاکستانی کیساتھ زیادتی ہوئی ہے ، کچھ قوتیں چاہتی ہیں کہ ادارے ٹکرائیں اور سیاسی افراتفری ہو، یاد ہوگا کہ یہاں پر قمیض ٹانگی جاتی تھی، کپڑے دھوکر دھوبی گھاٹ بنایا گیاتھا، میری تقریر غلط تھی تو غلط چیزکو بار بار کرنا اور اس کو بنیاد بنا کر اداروں پر حملہ کرنا بھی جرم ہے ، دوسرے کے توے پر لچھے تلنے والوں کو پتہ چل جائے گا کہ دراصل کس کس نے پاکستان کے اداروں پر حملہ کیا۔

سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نہال ہاشمی نے بتایاکہ وہ قانون کے طالبعلم ہیں اور اداروں کااحترام و عزت کرتے ہیں ، میری تقریر کو توڑ مروڑ کر پیش کیاگیا، اگر کسی صحافی کے پاس تقریر کا مکمل ٹرانسکرپٹ ہے تو وہ دکھائیں ، 14منٹ کی تقریر محب وطن پاکستانی کی تھی ، مخصوص حصہ آپ نے چوبیس گھنٹے بہت دکھائے ، اس سے شاید پاکستان کی خدمت ہو،میں عدالت عظمیٰ کومیں نے کہاکہ میں متاثرہ ہوں ، یہ یقینا ان قوتوں کا کام ہے جو چاہتی ہیں کہ ادارے ٹکرائیں ، سیاسی افراتفری اور سی پیک نہ ہو۔یادنہیں کہ یہاں پر کھڑے ہوکر عمران خان نے کہاتھا کہ چینی صدر نہیں آرہا، یہاں پر مت آنا، ججوں کو للکاراتھااور بدتمیزی کی ، آئی جی کو کہاتھا کہ میں تمہیں گردن سے پکڑ کر لاﺅں گا،الیکشن کمیشن کیساتھ بھی ایسا ہی کیا، ان لوگوں نے بے ایمانی سے میری تقریر کوتوڑ مروڑ کر پیش کیا۔

نہال ہاشمی کا کہناتھاکہ یہ بھی جرم ہے کہ کسی غلط چیز کو باربار پیش کیاجائے ، اس چیز کو بنیاد بنا کر اداروں پر حملہ کرنا بھی جرم ہے ، عمران خان نے اب بھی حملہ کیاتووہ میرے ساتھ شریک جرم ہوں گے ، جب میں جواب جمع کراﺅں گا تو بتاﺅں گا کہ توہین عمران خان نے کی ہے ، میں نے نہیں ۔ اللہ اور اداروں سے ڈرتاہوں، ان لوگوں سے نہیں ڈرتاجنہوں نے عدالتوں کیخلاف بیان دیا ،جن جن لوگوں نے میرے کندھے پر بندوق رکھ کر عدالتوں کیخلاف بیان دیا، وہ سارے توہین عدالت کیس میں آئیں گے ،قانون کا طالبعلم ہوں اور مجھے علم ہے کہ یہ سکیشن اے ڈی کیا بتاتاہے ۔ سائبر کرائم ایکٹ کوبھی جمع خاطررکھیں، میں نے تقریر میں کہاکہ دین نے جھکنا سکھایا، عدلیہ کے آگے جھکتے ہیں، میں نے بتایاکہ ہرادارے میں چندسازشی لوگ ہیں، اگر نہیں ہیں تو کیوں آتے ہیں درخواستیں لے کر ، کبھی سپاہی کو ماراجاتاہے تو کبھی کلرک کو دبایاجاتاہے ۔ ساری زندگی پاکستان کے ہر کرپٹ آدمی کیخلاف بولاہوں۔

ان کاکہناتھاکہ عدالت نے اچھے طریقے سے سنا اور عمرہ پر جانے کا موقع دیا، جواب مانگا ہے ، یہ پاکستان کا لینڈمارکنگ کیس ہوگا، میں نے جرم نہیں کیا اور مجھے سزا نہ دی جائے ۔ دنیا کا قانون ہے کہ کسی کو جرم نہ ہونے پر سزا نہیں دی جاتی ، جب تک صفائی کا موقع نہ دیاجائے ، بغیر سنے مجھ پر حملے ہورہے ہیں، یہ نہیں ہوسکتا، میری ذات ، پارٹی اور پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی، دوسرے کے توے پر لچھے تلنے والوں کو پتہ چل جائے گا کہ دراصل کس کس نے پاکستان کے اداروں پر حملہ کیا۔

یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ سپریم کورٹ نے نہال ہاشمی کو اپنی تقریر پر 16 جون تک جواب جمع کرانے کی مہلت دے دی۔

جسٹس اعجاز افضل خان کی سربراہی میں پاناما کیس کا خصوصی بنچ نہال ہاشمی کی تقریر پر ازخود نوٹس کی سماعت کررہا ہے۔ سماعت سے قبل اٹارنی جنرل نے بطور استغاثہ شواہد سپریم کورٹ میں جمع کرائے، شواہد میں نہال ہاشمی کی وڈیو اور تقریر کا متن شامل ہے۔

جسٹس اعجازافضل نے نہال ہاشمی سے استفسار کیا کہ آج کی تاریخ جواب جمع کرانے کے لئے مقرر کی گئی تھی، کیا آپ نے جواب جمع کروا دیا ہے۔ جس پر نہال ہاشمی نے جواب داخل کروانے کے لئے مزید وقت مانگتے ہوئے کہا کہ عدالت سے روٹی روزی کما رہا ہوں، کوئی وکیل کیس لینے کوتیارنہیں۔ سماعت کے دوران نہال ہاشمی نے درخواست کی کہ ان کی تقریرکی وڈیوعدالت میں چلائی جائے۔ جس پرجسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ اسے بہت ہلکا لے رہے ہیں، آپ اپنا جواب جمع کرائیں،عدالت اس کا جائزہ لے گی۔نہال ہاشمی نے کہا کہ عدلیہ کی تضحیک کا تصور بھی نہیں کرسکتا، براہ مہربانی کیس کی آئندہ سماعت عید کے بعد مقرر کی جائے، آخری عشرے میں اورجواب دینے سے پہلے اللہ کے پاس جانا چاہتا ہوں۔ جس پر جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیئے کہ آپ کو پوزیشن واضح کرنے کیلئے مکمل وقت دیا جائے گا اور فرد جرم کے لئے عید سے بعد کی تاریخ مقرر کر لی جائے گی۔ سپریم کورٹ نے نہال ہاشمی کو اپنی تقریر پر16 جون تک جواب جمع کرانے کی مہلت دیتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

مزید : قومی