’میرے ساتھ اس عمر میں سب کے سامنے یہ حیوانیت کی گئی، اب اس ملک میں زندہ نہیں رہ سکتی‘ 50 سالہ بھارتی خاتون کی خود کشی کی کوشش، اس کے ساتھ گھر والوں کے سامنے کیا شرمناک کام کیا گیا؟ بھارت کا اصل چہرہ بے نقاب ہوگیا

’میرے ساتھ اس عمر میں سب کے سامنے یہ حیوانیت کی گئی، اب اس ملک میں زندہ نہیں ...
’میرے ساتھ اس عمر میں سب کے سامنے یہ حیوانیت کی گئی، اب اس ملک میں زندہ نہیں رہ سکتی‘ 50 سالہ بھارتی خاتون کی خود کشی کی کوشش، اس کے ساتھ گھر والوں کے سامنے کیا شرمناک کام کیا گیا؟ بھارت کا اصل چہرہ بے نقاب ہوگیا

  


نئی دلی(نیوز ڈیسک) بھارت میں گینگ ریپ کے واقعات قابو سے باہر ہو چکے ہیں اور بھیانک جرم کا نشانہ بننے والی خواتین کیلئے معاشرے کی حقارت اور بے حسی عزت لٹنے سے بھی بڑا المیہ بن گئی ہے۔ چند دن قبل ڈاکوﺅں نے جیوار سے بلند شہر جاتی ایک گاڑی کو روک کر اس میں بیٹھے افراد کو اُتار لیا اور مردوں کے سامنے ان کی خواتین کی اجتماعی آبرو ریزی کی۔ اس ظلم کا نشانہ بننے والی چار مسلمان خواتین میں سے ایک کی عمر 50 سال ہے۔ ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق یہ خاتون اپنے ساتھ ہونے والے ظلم پر زندگی سے ہی مایوس ہو گئی ہے اور گزشتہ روز اس نے خود کو پھندے سے لٹکا کر ہلاک کرنے کی کوشش کی ہے۔

گاﺅں کے قریب جنگل میں پڑی نوجوان لڑکی کی لاش، گاﺅں والوں نے دیکھی تو ہر طرف خوف پھیل گیا، فوری پولیس کو بلالیا گیا لیکن دراصل یہ کیا چیز تھی؟ آکر پولیس والوں نے دیکھا تو ان سب کے چہرے شرم سے لال ہوگئے کیونکہ۔۔۔

رپورٹ کے مطابق خاتون اپنے خاوند، 28 سالہ بیٹے، 26 سالہ بہو اور 18سالہ بیٹی کے ساتھ مقیم ہے۔ اجتماعی آبرو ریزی کے واقعے کے بعد سے وہ شدید نفسیاتی مسائل کا شکار ہے ۔ معاشرے میں بدنامی اور پولیس کی بے حسی نے اسے اتنا مایوس کردیا کہ وہ خود کشی کی کوشش پر مجبور ہوگئی۔

خاتون کی نوعمر بیٹی نے بتایا کہ وہ سحری کا کھانا تیار کرنے کیلئے اٹھی تو اپنی ماں کو چھت والے پنکھے کے ساتھ دوپٹہ باندھ کر لٹکنے کی کوشش کرتے ہوئے دیکھا۔ اس کے شور مچانے پر اس کا والد اور بھائی بھی اٹھ گئے اور بمشکل تمام خاتون کو بچایا۔

واضح رہے کہ بھارت میں خواتین کی اجتماعی آبرو ریزی کے واقعات اس بڑے پیمانے پر ہورہے ہیں کہ پوری دنیا میں اس صورتحال پر سخت تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے۔ مزید بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ بھارتی معاشرے میں اجتماعی آبرو ریزی کا نشانہ بننے والی خواتین کیلئے تو بدنامی اور رسوائی کے باعث زندہ رہنا مشکل ہوجاتا ہے لیکن ان کی عزت پامال کرنے والوں کا اکثر سراغ تک نہیں مل پاتا۔ اس لحاظ سے یہ کیس بھی مختلف نہیں ہے۔ ڈاکوﺅں نے چار خواتین کی ان کے رشتہ دار مردوں کے سامنے کئی گھنٹے تک عصمت دری کی اور پھر انہیں کھیتوں میں چھوڑ کر فرار ہوگئے تھے، مگر پولیس اب تک ایک بھی ملزم کو گرفتار نہیں کرپائی۔

مزید : ڈیلی بائیٹس