کیا تارکین وطن پاکستانی نہیں؟

کیا تارکین وطن پاکستانی نہیں؟
کیا تارکین وطن پاکستانی نہیں؟

  

ایک اندازے کے مطابق اس وقت نوے لاکھ کے قریب پاکستانی دوسرے ممالک میں عارضی یا مستقل آباد ہیں ان میں وہ بھی شامل ہیں جو خود حالات کے ستائے ہوئے اپنا وطن چھوڑ گئے تھے اور وہ بھی ہیں جن کی پیدائش تو دیار غیر میں ہوئی مگر ان کی جڑیں پاکستان میں ہیں کیونکہ ان کا جنم انہی تارکین وطن پاکستانیوں کے ہاں ہوا۔ سرکاری طور پر یا اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق تارکین وطن پاکستانیوں کی تعداد سات اعشاریہ چھ ملین ہے جس میں سے چار ملین صرف مڈل ایسٹ ممالک میں ہیں اور ڈیڑھ ملین برطانیہ میں آباد ہیں جو دنیا کی دوسری بڑی کمیونٹی ہے برطانیہ کے اندر۔ عرب ممالک میں سب سے زیادہ پاکستانی سعودی عرب میں ہیں جن کی تعداد ڈیڑھ ملین سے زیادہ ہے۔ متحدہ عرب امارات میں بارہ لاکھ سے زائد پاکستانی محنت مزدوری کر رہے ہیں۔

اومان میں پاکستانیوں کی تعداد دو لاکھ چالیس ہزار کے قریب ہے۔ امریکہ میں 2010 تک پونے چار لاکھ کے قریب پاکستانی آباد تھے اب تک چار لاکھ سے تجاوز کر چکے ہوں گے۔ کینیڈا میں 2016 تک ایک لاکھ چھپن ہزار، اٹلی میں ایک لاکھ آٹھ ہزار سے زائد، کویت میں ایک لاکھ چودہ ہزار ایک سو بیالیس، بحرین میں ایک لاکھ دس ہزار، قطر ایک لاکھ پچیس ہزار، فرانس میں ایک لاکھ چار ہزار، ملائشیا میں ایک لاکھ بیس ہزار، جرمنی میں تہتر ہزار، افغانستان میں اکہتر ہزار، یونان میں چونتیس ہزار( یونان کے اندر حقیقت میں اس سے کہیں زیادہ تعداد ہے پاکستانیوں کی ) اسپین میں 2016 تک کی رپورٹ کے مطابق تارکین پاکستانیوں کی تعداد بیاسی ہزار تھی تاہم حقیقت میں اس سے زیادہ ہے۔

تھائی لینڈ میں پینسٹھ ہزار پاکستانی ہیں، آسٹریلیا میں باسٹھ ہزارسے زائد اور ناروے میں 2017 تک پاکستانیوں کی تعداد تنتالیس ہزار سات سو چھہتر تھی۔

اس کے علاوہ بیلجیئم، ہالینڈ، سویڈن، پرتگال، ڈنمارک جاپان اور نیوزی لینڈ میں پاکستانی بڑی تعداد میں آباد ہیں ویسے تو شاید ہی کوئی ایسا ملک ہو گا جہاں پاکستانی نہ ہوں۔ ترکی کے اندر بھی اچھی خاصی تعداد ہے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق تارکین وطن پاکستانی ہر سال بیس ملین ڈالر کا زر مبادلہ پاکستان بھیجتے ہیں۔

پاکستانی روپوں میں 2173 ارب روپیہ بنتا ہے۔ یہ تو وہ رقم ہے جو تارکین وطن پاکستانی اپنے عزیزوں کے نام پر اور خیرات وغیرہ کی مد میں براہِ راست پاکستان بھیجتے ہیں جس کا فائدہ زرمبادلہ کی صورت میں پاکستان کو پہنچتا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان کے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد بیرون ملک ان تارکین وطن بھائیوں سے جو فوائد حاصل کرتے ہیں ان کا شمار کرنا ہی مشکل ہے۔

سیاستدان ہوں یا مذہبی راہنما، فوجی ہوں یا سول بیوروکریٹ ، میڈیا پرسنز ہوں یا فلم انڈسٹری کی شخصیات اداکار ہوں یا کھلاڑی سب ہی بیرون ملک سیر کے دوران اپنے ان تارکین وطن بھائیوں کے مہمان بنتے ہیں اور ان کے میزبان میزبانی میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے، اور جب تک یہ لوگ ان کے مہمان ہوتے ہیں، یعنی ایئرپورٹ پر لینڈ ہونے سے واپس ایئرپورٹ ٹیک آف کرنے تک ان مہمانوں کی ایک پائی خرچ نہیں ہونے دیتے۔

اس کے علاوہ کبھی پاکستان پر کوئی آفت آجائے، کوئی مشکل گھڑی آن پڑے تو پاکستان میں بسنے والوں سے کہیں زیادہ تارکین وطن پاکستانی مدد کو پہنچتے ہیں۔

یہ بستے تو کسی دوسرے ملک میں ہیں روزگار اور فوائد بھی اسی ملک سے لیتے ہیں لیکن ان کے دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ ان کے چار آدمی جہاں بھی اکٹھے ہوں ان کی گفتگو کا موضوع پاکستان ہی ہوتا ہے، پاکستان کے حالات پر پاکستان میں رہنے والے اتنے فکر مند نہیں ہوتے جتنا فکر اوورسیز پاکستانیوں کو لاحق رہتا ہے۔

اب آتے ہیں ذرا تارکین پاکستانیوں کی اپنے وطن میں حالت زار اور انکی اہمیت کی جانب، پاکستان نے کبھی ان تارکین وطن کو پاکستانی تصور ہی نہیں کیا۔ ان کو کسی قسم کی کوئی سہولت دینا تو درکنار الٹا بیشمار مشکلات پیدا کی جاتی ہیں، آج جبکہ دنیا بھر میں کئی ممالک کی اور بہت سی نجی ایئر لائنز کے درمیان سخت مقابلے کا رحجان ہے اور یہ ایئرلائنز طرح طرح کی سہولیات کے ساتھ سستی ٹکٹوں کی پیشکش کرتی ہیں لیکن آج بھی تارکین پاکستانیوں کی بڑی تعداد صرف پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن ہی پر سفر کرنے کو ترجیج دیتی ہے۔

لیکن پی آئی اے کا حال یہ ہے کہ وہ اپنے ان مسافروں کے لیے مسائل کھڑے کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے۔نہیں دیتی۔ ابھی حال ہی میں لاہور اوسلو کی فلائٹ کی ٹکٹیں بیچ دی گئیں حالانکہ یہ روٹ بند کر چکے تھے۔

کئی فیملیز نے لاہور سے اوسلو کے لیے چھ مئی کی ٹکٹیں خرید رکھی تھیں اور ایک ہفتہ قبل آگاہ کیا گیا کہ لاہور اوسلو فلائٹ نہیں جا رہی لہذا آپ اسلام آباد سے نو مئی کو جا سکتے ہیں۔ اب ذرا غور کیا جائے کہ لاہور اور لاہور سے ساہیوال تک کے رہنے والوں کے لیے لاہور یا اسلام آباد سے جانا برابر ہے؟ لاہور سے اسلام آباد تک ایک فیملی کے پہنچانے کا خرچ تیس ہزار روپے سے زائد ہے۔ کیا یہ پی آئی اے کی ذمہ داری نہیں کہ وہ اپنے مسافروں کو دوسرے ایئرپورٹ پہنچانے کا بندوبست کرے؟

یہ تارکین وطن پاکستانی کون ہیں اور تارک وطن کیوں ہوئے؟ جی یہ وہ پاکستانی ہیں جن کو ملک نے روزگار دیا نہ تحفظ، تعلیم کی سہولت دی نہ عزت نفس، تو یہ چار و ناچار ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے اور کچھ کو خود ریاست پاکستان نے مزدوری کے لیے دوسرے ممالک بھیجا تاکہ یہ مال کما کر پاکستان بھیجیں۔ لیکن آج ان کو پاکستانی تسلیم کرنے ہی سے انکاری ہو گئے ہیں۔ ان کو ووٹ کا حق ہے نہ ملکی پالیسیوں میں ان کی رائے کو دخل ہے۔( ویسے تو ملک کے اندر رہنے والے مزدور اور کسان طبقے کو بھی ملکی پالیسیوں میں مخل نہیں ہونے دیا جاتا لیکن ان کو ووٹ کا حق تو ہے) کسی شہری، لوکل، صوبائی یا قومی اسمبلی میں تارکین وطن کے لیے کوئی سیٹ ہے نہ کسی پالیسی مرتب کرنے والے ادارے میں۔ اس کی مثال تو ایسے ہی کہ اگر وہاڑی کے کسی گاوں سے کوئی محنت مزدوری کرنے لاہور آجائے یا گجرات کے کسی گاوں سے کوئی کراچی میں مزدوری کرنے چلا جائے اور جب یہ واپس گاوں آئیں تو ان کو بے دخل کر دیا جائے، آپ اس گاوں کے کسی کام میں دخل دے سکتے ہیں نہ ووٹ کا حق رکھتے ہیں، آپ سے کسی کام میں مشورہ درکار ہے نا آپ کسی پالیسی مرتب کرنے میں شامل ہو سکتے ہیں۔

حالانکہ تارکین وطن ملکی پالیسیوں میں شامل ہو کر پاکستان کو بہت زیادہ فوائد دے سکتے ہیں کیونکہ ان کے پاس ترقی یافتہ ممالک کے تجربات ہوتے ہیں۔ آپ سب جانتے ہیں کہ یورپ کے تمام ممالک میں ایک نہایت مضبوط بلدیاتی نظام ہے اور ان بلدیاتی اداروں میں یورپین پاکستانیوں کی اچھی خاصی تعداد بھی منتخب ہوتی ہے۔ بلکہ اب تو کئی یورپی ممالک کی اسمبلیوں میں پاکستانی موجود ہیں۔

کیا وہ پاکستان میں اپنا مثبت کردار ادا نہیں کر سکتے؟ پاکستان میں یہ کیوں سمجھ لیا گیا ہے کہ صرف اپر کلاس ہی کے لوگ پالیسی میکر ہو سکتے ہیں، حالانکہ انکی پالیسیوں کی بدولت ملک کی حالت سامنے ہے۔ اگر آپ تارکین وطن پاکستانیوں سمیت ملکی آبادی کے 98% دماغ کو ایک طرف کر کے مفلوج کر دیں گے اور صرف دو فیصد کے دماغ پر انحصار کریں گے تو پھر ترقی کیسے ممکن ہوگی؟

سوال تمام پاکستانی سیاسی جماعتوں سے کہ کیا انہوں نے اپنے اپنے منشور میں تارکین وطن پاکستانیوں کے لیے بھی کچھ رکھا ہے؟ اگر نہیں تو کیا آپ ان کو اپنا تسلیم نہیں کرتے؟

تارکین وطن بھائیوں سے بھی گزارش ہے کہ وہ بھی جاگیں اور دوسروں کے نعرے لگانے کی بجائے اپنے حقوق کے لیے آپس میں اتحاد پیدا کریں۔

مزید :

رائے -کالم -