شفاف الیکشن 

شفاف الیکشن 
شفاف الیکشن 

  

ہمارے ملک میں لفظ ‘‘غدار’’ اور ‘‘سازش’’ اپنی شہرت کی بلندیوں پر ہیں، ‘‘غدار ‘‘کا لفظ عموماً مختلف افراد کے لئے استعمال ہو رہا ہے مگر ‘‘سازش ‘‘کا لفظ سنتے ہی صرف ‘‘ خلائی مخلوق ‘‘ ذہن میں آتی ہے۔ لفظ ‘‘غدار ‘‘کے چند مخصوص موسم ہیں مگر لفظ ‘‘ سازش ‘‘ سدا بہار ایسی نوعیت اختیار کر چکا ہوا ہے ۔ پاکستان میں اس وقت ‘‘ سازش ‘‘ ایک تو شریف خاندان کے خلاف ہو رہی ہے اور دوسری چونکہ جمہوریت اس وقت مجمند ہے اور الیکشن ان ایکشن ہیں تو الیکشنز کے خلاف ہو رہی ہے، ورنہ جمہوریت کے خلاف تو’’ سازش ‘‘ سدا بہار ہوتی ہے جمہوریت ہو تو اس کو ختم کرنے کے لئے سازش اور اگر نہ ہو تو جمہوریت کی راہ روکنے کے لئے ‘‘سازش’’۔

میرے خیال میں خلائی مخلوق پر الیکشنز کے خلاف ‘‘سازش ‘‘ کرنے کا الزام بالکل 160بے بنیاد ہے کیونکہ الیکشنز کے التوء سے خلائی مخلوق کو نہ تو کوئی فائدہ ہے اور نہ بروقت الکشنز ان کے لئے نقصان دہ ہیں، درحقیقت اصل 160سازش بروقت الیکشنز کے نام پر عوام کے ساتھ ہو رہی ہے، سوائے ایک سیاستدان ڈاکٹر طاہر القادری کے کسی بھی سیاستدان نے بروقت الیکشنز کی بجائے شفاف الیکشنز کا مطالبہ نہیں کیا، اور تو اور عمران خان صاحب جنہوں نے سال دو ہزار چودہ میں کہا تھا کہ اگلا الیکشن انتخابی اصلاحات کے بغیر نہیں ہونے دینگے ،نے بھی انتخابی عمل پر ایک چپ سی سادھ لی ہے اور لگتا ہے کہ جب سے الیکٹیبلز ان کے ہتھے چڑھے ہیں لفظ دھاندلی ان کی میموری سے ڈیلیٹ ہو گیا ہے۔

160آئین اور قانون پر مکمل عمدرآمد کروانے کا بارہا عزم دہرانے والے معزز چیف جسٹس ثاقب نثار صاحب سے نہایت ادب سے گزارش ہے کہ آئین کے آرٹیکل 224 کی صرف ایک شق الیکشن ساٹھ دن میں کرانے کا ذکر کرتی ہے جبکہ اسی آئین کے آرٹیکل 62 کی سات اور آرٹیکل 63 کی پندرہ سے زیادہ شقیں انتخابی عمل اور امیدوار کی جانچ پڑتال سے متعلق ہیں اور الیکشن ایکٹ 2017 کی شقیں 160 132 اور 133 بھی انتخابات کے قواعد و ضوابط کی تشریح کرتی ہیں، چیف جسٹس صاحب جس طرح آپ نے لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ آئین کی صرف ایک شق پر عملدرآمد کروانے کے لئے معطل کیا ہے اسی طرح آئین کی مذکورہ بالا شقوں پر عملدرآمد کے لئے بھی واضح احکامات صادر فرمائیں۔

160چیف جسٹس صاحب کیا ایک ووٹر کو اپنے امیدوار کے صرف پاکستانی شہری ہونے کا پتا نہیں ہونا چاہئے کیا ووٹر کو امیدوار کے ذرائع آمدن سے آگاہ نہیں ہونا چاہئے کیا؟؟ ووٹر کا یہ بھی حق نہیں کہ وہ اپنے نمائندہ کے ادا کردہ ٹیکسز سے متعلق آگاہ ہو ،کیا امیدوار کے اثاثے جاننے کے حق سے بھی ووٹر کو محروم رکھا جائے گا؟ یہ وہ تمام سوالات ہیں جو امیدوار کے نامزدگی فارم سے نکال دئیے گئے ہیں اور آپ نے ان فارمز پر تصدیق کی مہر ثبت کر دی ہے، 160اگر آج آپ نے صرف ایک شق کی بحالی کے لئے اپنی آنکھیں بند کیں تو روز محشر آپ اس بات کے جوابدہ ہونگے۔

160تمام قانونی ماہرین کی متفقہ رائے ہے کہ نامزدگی فارمز سے متعلق لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے سے الیکشن التواء کا تاثر بالکل غلط ہے کیونکہ الیکشن کے لئے تقریباً پچیس ہزار نامزدگی فارمز درکار ہیں جو کہ صرف ایک دن میں پبلش ہو سکتے ہیں، افسوس ناک بات یہ ہے کہ سیاسی بدمعاشیہ کے اپنی اسکروٹنی کی تخفیف کے عمل پر وہ ادارے جو آئین کو اس کی روح کے مطابق نافذ کرنے کا اختیار رکھتے ہیں اس بدمعاشیہ کا آلہ کار بنے ہوئے ہیں، تمام سیاسی اور مذہبی جماعتیں اس تعفن شدہ نظام کے تحت الیکشن کروانے کی جلدی میں ہیں، کسی کو بھی نظام کی بہتری کی فکر نہیں، بروقت الیکشن سے ملکی خزانے کے منہ بھی ان پر بروقت کھل جائیں گے اس لئے انہیں بروقت الیکشن سے غرض ہے۔

160شفاف الیکشن کے مطالبے کو سازش کہنے والے اگلے پانچ سال تک ایک دوسرے پر سازشی الیکشن کے الزامات لگاتے ہے ۔160کوئی چار حلقوں کو 160رو رہا ہوتا ہے تو کوئی بتا رہا ہوتا ہے یہ آ راو 160کا الیکشن ہے، الیکشن اس نظام کی خرابیوں کے ساتھ منعقد ہوا تو اس کے مضمرات کے ذمہ دار تمام ادارے اور وہ تمام سیاسی جماعتیں ہونگی جنہوں نے چپ کا روزہ رکھا ہوا ہے، جس نظام کی وجہ سے آج پاکستان مسائل سے دوچار ہے اسی نظام کا تحفظ سب نے اپنے اوپر فرض کر لیا ہوا ہے اور عوام کو ایک دن الیکشن کا دے کر پانچ سال عوام کا خون نچوڑنے کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔ آخر میں چیف جسٹس صاحب سے اپیل ہے کہ بروقت ایکشن لیتے ہوئے عوام کے خلاف ہونے والی سیاسی سازش کو ناکام بنائیں اور آئین کی روح کے مطابق الیکشن کا انعقاد ممکن بنا کر تاریخ کے سنہری حروف میں اپنا نام لکھوائیں ۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -