صدقہ فطر

صدقہ فطر

  

صدقہ  فطر کی اہمیت

صدقہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے اور اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے اپنے مسلمان بھائیوں کی مالی مدد کرنے کو کہا جاتا ہے۔اگر یہ خرچ یا خیرات یا مالی مدد اللہ کی طرف سے فرض کی گئی ہے تو یہ لازمی صدقہ ہو گا جیسے زکوٰۃ یا صدقہ ئ فطر۔اگر یہ رضا کارانہ ہو تو اسے نفلی صدقہ یا خیرات کہا جائے گا۔فطر کا لفظ افطار سے ہے۔اس کا مطلب ہے کہ روزہ کھولنا۔ پس صدقہ ئ فطر سے مراد ہے یا افطار یا فطر کا صدقہ،یعنی روزہ کھولنے کا صدقہ۔صدقہ ئ فطر اس کا نام اس لئے ہے کہ یہ رمضان کے روزے پورے ہونے، یعنی افطار ہونے پر اللہ کے شکرانے کے طور پر دیا جاتا ہے۔اسے روزہ کھولنے کا صدقہ یا زکوٰۃ فطر بھی کہا جاتا ہے۔

صدقہ  فطر کا ذکر قرآن میں نہیں ہے۔ تاہم رسولؐ اللہ کی احادث میں نہ صرف اس کا ذکر ہے، بلکہ اس کے اصول و ضوابط بھی بتائے گئے ہیں۔ اس کا حکم رمضان2ھ میں جب روزے فرض ہوئے عید سے دو روز قبل دیا گیا اور نبی کریمؐ نے اسے ہر مسلمان مرد و عورت پر لازمی قرار دیا۔ حضرت ابن ِ عمرؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمؐ نے کھجور کا ایک صاع یا جو کا ایک صاع صدقہ ئ فطر ہر غلام اور آزاد، مرد اور عورت، چھوٹے اور بڑے مسلمان پر فرض قرار دیا (بخاری، مسلم، ابو داؤد، ترمذی)۔ حضرت عبداللہ ابن ِ عباسؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرمؐ نے صدقہ ئ فطر فرض فرمایا تاکہ روزہ دار فضول اور نازیبا قسم کی باتوں سے پاک ہو جائے اور مسکینوں کو کھانا میسر آ جائے،جس نے اُسے عید کی نماز سے پہلے ادا کیا تو وہ ایک قبول ہونے والا (فطر کا) صدقہ ہے، اور جس نے اُسے نماز کے بعد ادا کیا وہ صدقوں میں سے ایک صدقہ ہے (ابو داؤد، ابن ِ ماجہ)۔ حضرت ابن ِ عمرؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرمؐ نے صدقہ ئ فطر فرض قرار دیا اور فرمایا اس روز ان (فقراء و مساکین) کو غنی کر دو۔(بیہقی)

صدقہ ئ فطر کا مقصد یا اس کی حکمت احادیث میں موجود ہے اور وہ یہ ہے کہ روزے دار سے روزے کے معاملے میں جو چھوٹی موٹی غلطیاں یا کوتاہیاں ہو گئی ہوں اُس سے وہ پاک ہو جائے اور مسکینوں کو کھانا میسر آ سکے اور انہیں کچھ مال یا اشیاء مل جائیں تاکہ وہ اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ عید کی خوشیوں میں شریک ہو سکیں۔

صدقہ ئ فطر کے بارے میں بھی حسب ِ معمول مسلمان فقہاء میں بہت اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔ بعض کے نزدیک یہ فرض اور واجب ہے، بعض اسے سنت سمجھتے ہیں اور بعض اس کا حکم زکوٰۃ فرض ہونے کے بعد منسوخ سمجھتے ہیں تاہم جمہور کے نزدیک اس کی ادائیگی لازمی اور نہایت ضروری ہے۔

صدقہ ئ فطر کے قواعد و ضوابط

٭…… کس پر فرض یا واجب ہے:جمہور کے نزدیک صدقہ ئ فطر ہر مسلمان پر واجب ہے، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، آزاد ہو یا غلام، چھوٹا ہو یا بڑا، امیر ہو یا غریب،عاقل ہو یا مجنوں۔ نابالغ، مجنوں، غلام اور نوکر کا صدقہ ان کا ولی یا آقا ادا کرے گا۔ یہ حکم عام ہے اور اس میں مالدار ہونے کی شرط نہیں۔ تاہم بعض فقہاء کی رائے میں صدقہ ئ فطر صرف ایسے لوگوں پر واجب ہے، جو زکوٰۃ دینے کے اہل ہیں،یعنی اہل نصاب ہیں۔بعض کے نزدیک چونکہ یہ بدنی صدقہ ہے مالی صدقہ نہیں، اِس لئے اسے قرض لے کر بھی ادا کرنا چاہئے۔یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ صدقہ ئ فطر صرف روزہ رکھنے والے مسلمان پر ہی نہیں،بلکہ روزہ نہ رکھنے والے مسلمان پر بھی فرض ہے۔

٭…… کتنا دیا جائے: حضرت ابن ِ عمرؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرمؐ نے کھجور کا ایک صاع یا جو کا ایک صاع صدقہ ئ فطر ہر غلام اور آزاد مرد اور عورت اور چھوٹے اور بڑے مسلمان پر فرض کیا ہے(بخاری، مسلم، ابو داؤد)۔ صحابہ کرامؓ کشمش اور پنیر کا بھی ایک صاع صدقہ ئ فطر دیتے تھے۔ حضرت عمرؓ کے زمانے میں گندم کی فراوانی ہوئی تو لوگ گندم میں بھی صدقہ ادا کرنے لگے۔ امیر معاویہؓ اپنے دور میں مدینہ آئے اور اس رائے کا اظہار کیا کہ شام کی گندم کا آدھا صاع کھجور کے ایک صاع کے برابر ہو سکتا ہے۔بعض لوگوں نے اس رائے کو اختیار کیا اور بعض نے نہیں۔امام ابو حنیفہؒ کے علاوہ باقی تینوں اماموں کی رائے ہے کہ گندم کا صدقہ ئ فطر بھی ایک صاع ہی ہے۔ صاع کے وزن کے بارے میں بھی اختلاف ہے۔ بعض اسے ساڑھے چار کلو کے برابر، بعض اسے ساڑھے تین کلو کے برابر، بعض اسے ڈھائی کلو کے برابر اور بعض اسے دو کلو چھ چھٹانک کے برابر سمجھتے ہیں۔عام طور پر اسے ساڑھے تین کلو کے برابر لیا جاتا ہے۔ صدقہ جنس یا اس کی قیمت میں ادا کیا جا سکتا ہے اور خاندان کے تمام افراد کی طرف سے سربراہ ادا کرتا ہے۔

٭…… کس جنس میں دیا جائے:حضرت ابو سعیدؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرمؐ کے زمانہ میں ہم کھانے(گندم) یا کھجور یا جو یا کشمش یا پنیر کا ایک صاع(فی کس) بطور صدقہ دیا کرتے تھے۔ پس صدقہ ئ فطر گندم، جو، آٹا، ستو، کھجور، کشمش، پنیر وغیرہ میں ادا کیا جا سکتا ہے یا ان چیزوں کی بازاری قیمت میں۔ امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک ان میں سے اس چیز کا صدقہ افضل ہے جو سب سے قیمتی ہو۔ نیز صدقہ ئ فطر میں قیمت بھی دی جا سکتی ہے،بلکہ قیمت دینا افضل ہے۔ امام شافعی کے نزدیک ہر اس چیز کا صدقہ ئ فطر دیا جا سکتا ہے، جس پر عشر لگتاہے۔ گندم کا صدقہ ئ فطر دینا افضل ہے، مگر قیمت دینا جائز ہے۔ امام مالک کے نزدیک ہر اس چیز کا صدقہ ئ فطر دینا جائز ہے،جو لوگوں کی عام خوراک ہوا البتہ کھجور کا دینا افضل ہے۔ امام احمد کے نزدیک ہر پھل یا غلہ جو غذا کے کام آتا ہو صدقہ ئ فطر میں دیا جا سکتا ہے۔ البتہ کھجور کا دینا افضل ہے۔ اُن کے نزدیک قیمت کا دینا جائز نہیں۔ ہمارے نزدیک صدقہ ئ فطر ایک عام یا متوسط مسلمان گندم یا جو میں یا اس کی قیمت میں ادا کر سکتا ہے، تاہم امیر آدمی کو کشمش یا پنیر یا عمدہ اجوا کھجور کی مقدار میں یا اُس کی قیمت کے برابر ادا کرنا چاہئے۔ رمضان کے آخری عشرہ میں مختلف مکاتب فکر کے علماء اپنے مسلک کے لوگوں کے لئے عام طور پر صدقہ ئ فطر کی مقدار اور قیمت فی کس مقرر کر دیتے ہیں۔

٭…… کب دیا جائے: بعض کے نزدیک یکم شوال کو صبح کی نماز کے بعد اور عید کی نماز کے لئے جانے سے پہلے اسے ادا کیا جائے، بعض کے نزدیک آخری روزہ افطار کرنے کے بعد سے لے کر نماز عید سے پہلے ادا کر دیا جائے۔ بعض اسے پیشگی ادا کرنے کے بھی قائل ہیں اور بعض ایک دو روز عید سے پہلے ادا کر دیتے ہیں۔ ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ نبیؐ نے فرمایا:”…… جس نے اُسے عید کی نماز سے پہلے ادا کیا تو وہ ایک قبول ہونے والا صدقہ ہے اور جس نے اُسے نماز کے بعد ادا کیا تو وہ صدقوں میں سے ایک صدقہ ہے۔

(ابو داؤد، ابن ماجہ)

٭…… کس کو دیا جائے: صدقہ ئ فطر چونکہ غریب لوگ بھی دیتے ہیں، اِس لئے اسے لینے والے غریبوں کے غریب یعنیPoorest of the Poor ہوتے ہیں۔ آپ یوں سمجھیں کہ جن لوگوں کو زکوٰۃ دی جاتی ہے،صدقہ ئ فطر لینے والے اُن سے بھی غریب ہوتے ہیں۔غیر مسلموں کو نہیں دیا جا سکتا۔ تاہم مستحق مسلمان ملازموں، ہمسایوں اور رشتہ داروں کو دینا افضل ہے،لیکن اکثر فقہاء کے نزدیک صدقہ ئ فطر کے مصارف بھی وہی ہیں،جو زکوٰۃ کے ہیں،یعنی زکوٰۃ کے مستحقین ہی صدقہ ئ فطر کے مستحق ہیں۔

٭…… کیسے دیا جائے:آخری روزے کی افطاری کے بعد بلکہ عیدالفطر کے دن صبح کی نماز کے بعد آپ اپنے گھر کے افراد شمار کریں اور جو آپ کے فل ٹائم نوکر ہیں اُن کی بھی گنتی کریں۔صبح کی نماز تک اگر آپ کے ہاں کوئی بچہ پیدا ہوا ہے تو اس کو بھی شمار کیا جائے گا۔پس کل افراد پر جس جنس میں آپ صدقہ دینا چاہتے ہیں اُس جنس کی مقدار کا حساب لگائیں۔ مقدار کو ضرب دیں اُس جنس کی فی کلو قیمت سے اور یوں صدقے کی رقم نکالیں اور ادا کریں۔

مثال نمبر:1نور دین ایک متوسط کلاس کا آدمی ہے۔اس کے چار بچے اور ایک بیوی ہے۔ان بچوں میں ایک بچہ ایسا ہے،جو عید کے دن فجر کی نماز سے ایک گھنٹہ پہلے پیدا ہوا ہے۔

پس اس بچے کو بھی شامل کیا جائے گا اور خاندان کے صدقہ ئ فطر کا یوں حساب کیا جائے گا۔

خود4+بچے+بیوی=کل افراد6۔ صدقہ گندم21=31/2 x6 کلو۔ قیمت35روپے کلو کے حساب سے735 روپے۔ پس اس کا صدقہ بنا مبلغ735روپے۔

مثال نمبر:2 نصیر احمد ایک امیر صنعتکار ہے۔ اس کے چار بیٹے، تین بیٹیاں اور دو بیویاں ہیں۔ یعنی اسے ملا کر خاندان کے کل10افراد ہیں۔اس کے سرونٹ کوارٹر میں اس کے دو ڈرائیور، ایک چوکیدار، ایک کھانا پکانے والا باورچی اور ایک گھر کی صفائی کرنے والی خاتون سمیت پانچ نوکر رہتے ہیں۔ اس کے ہاں اس کی ایک بہن اپنے خاوند اور تین بچوں کے ساتھ عید منانے آئی ہوئی ہے۔اس کا صدقہ ئ فطر یوں کیلکولیٹ کیا جائے:

10خاندان کے افراد5+ نوکر 5+مہمان= کل افراد20

صدقہ اجوا کھجوروں میں 70=20x31/2 کلو

قیمت2000روپے فی کلو کے حساب سے 1,400,0000= 70x 2000:

پس واجب الادا صدقہ ئ فطر مبلغ ایک لاکھ چالیس ہزار روپے۔

نوٹ: گھر کے افراد اگر اپنا الگ الگ صدقہ ئ فطر دینا چاہیں تو وہ ایسا کر سکتے ہیں۔ اگر مہمان اپنا صدقہ ئ فطر خود دینا چاہتے ہیں تو وہ ایسا کر سکتے ہیں۔ اگر کوئی نوکر اپنا صدقہ ئ فطر خود دیا چاہتا ہے تو اُسے اجازت ہے۔پس ضروری نہیں کہ صدقہ ئ فطر اجتماعی طور پر ادا کیا جائے اور گھر کا سربراہ ہی ادا کرے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -