عید سعید ……مذہبی، سماجی، ثقافتی تہوار

عید سعید ……مذہبی، سماجی، ثقافتی تہوار
عید سعید ……مذہبی، سماجی، ثقافتی تہوار

  



رمضان المبارک فیوض و برکات کا مہینہ ہے جس کا ہر لمحہ بیکراں اور اَن گنت رحمتوں کا امین ہے، اسی ماہ مبارک میں فرقان حمید نازل ہوا، یہی وہ ماہ مبارک ہے، جس کے آخری عشر ے میں لیلۃ القدر ہے، جس میں کی گئی ایک نیکی اور عبادت ہزار مہینوں کی عبادت سے زیادہ ہے۔ ماہِ صیام ضبط نفس اور تزکیہ نفس کا بھی مہینہ ہے، خالق حقیقی کے تابعدار اور فرمانبردار بندے بن کر اس ماہِ منور میں صرف اللہ اور اس کے رسول اکرمؐ کے احکامات کی پیروی کریں اور اس کام سے اجتناب کریں،جو اللہ اور اس کے محبوب کو ناپسند ہے۔اس مبارک مہینے میں سحر و افطار کی روح پرور، پُر رونق ساعتیں ہیں جن میں بندے اور اس کے خالق کے درمیان عہد ہوتا ہے کہ سحر سے لے کر غروب آفتاب تک وہ نہ کچھ کھائے گا اور نہ ہی کچھ پئے گا،اس کے باوجود کہ اسے کھانے پینے کی اشیاء بھی میسر ہوتی ہیں۔ اس ماہ کریم کے روحانی فوائد تو ہیں ہی، مگر اس کے طبی فوائد بھی کمال ہیں۔

یہ 2016ء کی بات ہے کہ جاپان کے ایک سائنس دان کو کینسر کے سد باب کے حوالے سے اس کی برس ہا برس کی تحقیق پر انہیں نوبل پرائز سے نوازا گیا تو ان سے پوچھا گیا کہ انہوں نے کون سی دوائی ایجاد کی ہے، جس پر انہیں نوبل پرائز سے نوازا گیا ہے، تو انہوں نے بتایا کہ یہ پرائز انہیں کوئی دوائی تخلیق کرنے پر نہیں دیا گیا،بلکہ انہوں نے طویل تحقیق کے بات ایسے عوامل دریافت کیے ہیں جن پر عمل کیا جائے تو انسان کو کبھی کینسر نہیں ہوسکتا۔ جب ان سے عوامل کے بارے میں استفسار کیا گیا کہ وہ کیا ہیں تو جاپانی سائنس دان نے جواب دیا کہ ایک سال کے دوران اگر کوئی شخص تسلسل کے ساتھ یا وقفوں کے بعد بیس پچیس دن تک آٹھ سے نو گھنٹے تک نہ کچھ کھائے اور نہ پیئے تو اس کو کینسر نہیں ہو گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب آپ اس دوران کچھ نہیں کھاتے تو جسم کو بہرحال اپنی خوراک چاہئے اور وہ بدن کے فاسد اور زہریلے مادے، خصوصاً وہ جراثیم یا مادے جو کینسر کا سبب بن سکتے ہیں، کھا جاتا ہے، جس کے سبب انسان کینسر جیسے موذی مرض سے محفوظ رہتا ہے۔ مسلمانوں پر روزے اس وقت فرض کئے گئے، جب نہ تو یونیورسٹیاں تھیں نہ ہی آٹی ٹی ٹیکنالوجی اور نہ ہی سائنس ترقی یافتہ تھی، یہ مظاہر ہی ہیں جو اللہ کی حاکمیت اور قدرت کے جیتے جاگتے ثبوت ہیں۔ جدید ترین تحقیقات نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اسلام دین فطرت ہے اور فطرت خدا کی عطا کردہ ایسی نعمت ہے، جس کا جس قدر شکر ادا کیا جائے کم ہے۔

ماہِ صیام کے اختتام پر روزہ دار کو اللہ کریم نے عید کے تہوار سے نوازا ہے۔ تہوار اور بھی کئی ہیں، مگر عید کی خصوصیات ان تمام تہواروں سے الگ اور مختلف ہیں۔ عید روزہ دار کے لئے ایک انعام بھی ہے، تہوار عید پہلودار ہے اور اس کا ہر ایک پہلو انسانیت اور غریب پروری سے منسلک ہے۔ عید کے نمایاں پہلوؤں میں مذہبی، سماجی، ثقافتی اور انسانی پہلو شامل ہیں۔ روزہ دار اپنے مال سے زکوٰۃ، صدقہ خیرات دیتا ہے، جو پسماندہ طبقہ کے لئے ہوتا ہے، جبکہ عید کے دن نماز عید سے پہلے فطرانہ ادا کرنا ضروری ہے، جو غریب لوگوں کو دیا جاتا ہے تاکہ وہ بھی عید کی خوشیوں میں شریک ہو سکیں۔ غربا کو نئے کپڑے بھی دیئے جاتے ہیں اور انہیں عمدہ کھانا بھی کھلایا جاتا ہے،جو وہ عام دنوں میں مہنگائی کے باعث کھانے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ سماجیات کے حوالے سے عزیزو اقارب اور دوست احباب میں پرانے گلے شکوے اور رنجشیں دور کی جاتی ہیں اور ایک دوسرے سے گلے مل کر عید کی مبارک باد کے ساتھ ہی یہ کدورتیں اور ناراضگیاں ختم ہوجاتی ہیں

عید ایک ثقافتی تہوار بھی ہے کہ پوری مسلم اُمہ رمضان کے روزوں کے بعد عید کے روز نہا دھو کر اپنے اپنے نئے علاقائی اور قومی لباس زیب تن کرکے ایک دوسرے کے ہاں جاتے ہیں، جہاں عید کی مناسبت سے سویاں اور دیگر لوازمات تناول کئے جاتے ہیں۔لوگ ایک دوسرے سے بغلگیر ہوتے ہیں، عید کے روز اپنے اپنے علاقے اور اپنی اپنی زبانوں میں ثقافتی تقریبات اور محافل بندوبست کے ساتھ ساتھ علاقائی کھیلوں کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے، جبکہ عید سعید کے انسانی پہلو بھی ہیں، یعنی غریب پروری، غربا میں لباس کی تقسیم کے ساتھ ان کی مالی اعانت کی جاتی ہے۔یہ جو اچھے اور نیک کام ہم ماہ صیام اور ایام عید میں سرانجام دیتے ہیں،اگر ہم یہی کام ہمیشہ کے لئے اپنی روز مرہ زندگی میں اپنائیں تو پاکستان کا ہر شہری ضروریات زندگی کا محتاج نہیں رہے گا۔

مزید : رائے /کالم