فیصل آباد، ہومیوپیتھی اور ڈاکٹر اشرف

فیصل آباد، ہومیوپیتھی اور ڈاکٹر اشرف
فیصل آباد، ہومیوپیتھی اور ڈاکٹر اشرف

  

1980ء سے پہلے پی ٹی وی میں ملازمت کے سلسلے میں کوئٹہ میں قیام کے دوران مجھے Farangitis ہوگئی اس بیماری میں گلے میں زخم ہوجاتا ہے اورانسان بار بارگلا صاف کرنے پر مجبور ہوتا ہے اور گلا ہے کہ صاف نہیں ہوتا اس بیماری کا ایلوپیتھی میں کوئی علاج نہیں،تاہم کوئی ڈاکٹر آپ کو یہ بات نہیں بتائے گا مجھے بھی بڑی دیربعداس کاپتہ چلا کوئٹہ سے میرا تبادلہ اسلام آباد ہوگیا۔ یہاں ایک صحافی صدیق راعی مجھے مشہور دانشوراورادیب ممتاز مفتی کے پاس لے گئے ممتاز مفتی صاحب ہومیوپیتھی کی پریکٹس بھی کرتے تھے،تاہم وہ اس خدمت کا کوئی معاوضہ نہیں لیتے تھے پھران کے ذریعے ان کے ایک دوست ڈاکٹر اشفاق صاحب سے تعارف ہوگیا وہ دیرتک F-7 میں کلینک کرتے رہے دونوں اب اس دنیا میں نہیں لیکن ان کے ذریعے میرا ہومیوپیتھی سے تعارف ہوگیا اور میں سمجھتا ہوں بہت اچھا ہوا۔انہی دنوں میرا تبادلہ فیصل آباد بیورو میں ہوگیا۔ پی ٹی وی نے یہ بیورو پرانے سرگودھا ڈویژن پرمشتمل علاقے میں سیاسی اور سماجی سرگرمیوں کی کوریج کے لئے قائم کیا تھا۔

فیصل آباد بیورو پیپلز کالونی ایکسٹینشن اور پھر ڈی گراؤنڈ کے قریب شفٹ ہو گیا۔میرے دفترکے قریب چھوٹی ڈی گراؤنڈ میں ایک ہیومیو پیتھک ڈاکٹرمحمد اشرف چوہدری کلینک کرتے تھے۔میں ایک دن ان کے پاس چلاگیا اور یوں ان سے یہ ملاقات تقریباً تیس سال تک محیط ہوگئی اس دوران ہومیو پیتھی سے میرا شغف بڑھتا گیااوراب میں زیادہ تر ہومیو پیتھک دوائیاں ہی استعمال کرتا ہوں اورمیری اس دلچسپی سے کئی دوست بھی مستفید ہوتے رہتے ہیں۔

بڑی عجیب بات ہے کہ بہت سارے پڑھے لکھے لوگ ہومیوپیتھی کو ایک Hoax ہی سمجھتے ہیں لیکن حقیقت میں ہومیو پیتھی ایک بہت اچھا طریقہ علاج ہے کیونکہ یہ کافی حد تک بے ضرر بھی ہے مؤثر بھی اور سستا بھی اور اس طریقہ علاج میں Holistic اپروچ ہے بڑی دوائیاں بیک وقت کئی بیماریوں کو متاثر کرتی ہیں لیکن ایلوپیتھی میں Specialization ہے۔ ہر ڈاکٹر ایک مرض کا علاج کرتا ہے دوسری تکلیف کے لئے دوسرے ڈاکٹر کے پاس جانا پڑتا ہے اور پھر تیسرے کے پاس۔میں اپنے تجربے کی بات کررہا ہوں میں نے لندن اور پیرس میں بھی ہومیو پیتھک ڈاکٹروں کو کنسلٹ کیاہے بہت سے لوگوں کے لئے یہ شاید حیرت کی بات ہو کہ پیرس کی ہر فارمیسی پر ہومیوپیتھک دوائیں بھی دستیاب ہیں۔

اب سوچنے کی بات ہے کہ فرانس اور جرمنی جیسے ترقی یافتہ ممالک میڈیکل کے شعبے میں کسی غیر سائنٹیفک چیز کو کیسے برداشت کر سکتے ہیں ہاں یہ ضرور ہے کہ پاکستان میں ہومیو پیتھی کی ایجوکیشن کا معیار ایلوپیتھی کے مقابلے میں بہت کمزور ہے اور ڈاکٹروں کا معیار بھی بہت پست ہے شایدیہی وجہ ہے کہ ہومیوپیتھی زیادہ مقبول نہیں ہے۔ ہومیو پیتھی کے بانی ڈاکٹر ہانمین نے تو سنگل ریمیڈی کا اصول دیا تھا لیکن آج کل ڈاکٹر پیسے بٹورنے کے لئے مریضوں کو ایک تھیلا مختلف دوائیوں کا بھرکر دے دیتے ہیں جن میں پڑیاں بھی ہوتی ہیں کمپاونڈ دوائیاں بھی اور بہت کچھ۔حالانکہ بعض امراض میں شا ید بلند طاقت کی ایک پڑیا ہی کافی ہو لیکن بازار میں بیٹھا ہوا ڈاکٹر پھر مریض سے کتنے پیسے مانگے گا؟

فیصل آباد میں کافی عرصہ میرا قیام رہا اور ڈاکٹر اشرف کے علاوہ اوربہت سے لوگوں سے تعلقات قائم ہوئے۔ ڈاکٹر صاحب کے کلینک کے قریب ہی امپورٹ ایکسپورٹ کا دفتر تھا وہاں سے بھی بعض افسران ڈاکٹر صاحب کے زیرعلاج رہے۔ اس طرح ٹریڈ اینڈ کامرس کے جمشید خٹک صاحب اور ملک سرفراز مرحوم سے بھی دوستی ہوئی۔ ویسے اسی پروفیشنل گروپ کے آصف غفور صاحب، اظہر چوہدری صاحب، بخاری صاحب اور زاہد خان صاحب سے بھی دوستی کا تعلق ہے۔ اس کے علاوہ مشہور صحافی اورسوشل ایکٹویسٹ زمان خان، اعجازحشمت،میاں سجاد سعید،ڈاکٹرآغا سجاد حیدراورڈاکٹر ذاکرکے علاوہ کئی دوسرے اصحاب سے بھی قریبی تعلقات ہیں۔ ان میں سے زمان خان اور ڈاکٹر ذاکر کے علاوہ باقی لوگ اب دنیا میں نہیں رہے۔اعجاز حشمت لیفٹیننٹ جنرل مجیب الرحمن کے برادر نسبتی تھے اور صحافت کرتے تھے۔ میاں سجاد سعید میاں زاہد سرفراز کے کزن تھے اور بزنس کرتے تھے وہ پنجاب یونیورسٹی میں شعبہ صحافت میں میرے کلاس فیلوتھے۔ ڈاکٹر آغا سجاد حیدر پی اے آر سی کے ممبربن گئے اور ڈاکٹر ذاکر گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے وائس چانسلر رہے۔

بہت سے صحافیوں سے بھی تعلقات رہے اُن میں سے بھی بہت سے لوگ اب زندہ نہیں ہیں لیکن زمان خان اور ڈاکٹر اشرف سے مسلسل رابطہ رہا۔ ڈاکٹر اشرف سے بھی وہ رابطہ اب منقطع ہو گیا کیونکہ وہ ہارٹ اٹیک کے نتیجے میں اچانک چل بسے ان کی عمر تو شاید اسی سال کے قریب تھی لیکن بظاہر انہیں کوئی بیماری نہیں تھی اوروہ زندگی کی دلچسپیوں میں پوری طرح شریک تھے۔ انہوں نے تقریباً55 سال ہومیو پیتھی کی پریکٹس کی دوستوں اور غریبوں کو مفت دوائیاں دیں وفات سے ہفتہ پہلے انہوں نے مجھے بتایا کہ انہوں نے ڈاکٹر طاہر القادری کی ایک دیرینہ تکلیف کا کامیاب علاج کیا جس پر ڈاکٹر صاحب نے انہیں کئی تحفوں سے نوازا،کئی سینئر سرکاری افسر اورجج ان کے زیر علاج رہے۔سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج جسٹس منیر اے شیخ سے ان کا قریبی رابطہ تھا میری بھی ایک دفعہ انہوں نے ملاقات کرائی۔سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری بھی ایک دفعہ ان کے کلینک پر آئے۔سپریم کورٹ کے ایک اور چیف جسٹس (ر)تصدق حسین جیلانی صاحب بھی مسلسل ان سے رابطے میں رہتے تھے۔

غیر ممالک میں مقیم بہت سے دوست ان سے دوائی لے جاتے تھے میرا تو ان سے فون پر اکثر ہیومیو پیتھی پر تبادلہ خیال ہوتا رہتا تھا۔ملاقاتیں بھی ہوتی رہیں،پچھلے دنوں اسلام آباد میں میرے پاس آئے تو مجھے ساتھ بٹھالیا اور راولپنڈی سی ایم ایچ میں ہم نے فیصل آباد کی مشہور شخصیت محترمہ صبیحہ شکیل کے میاں شکیل صاحب کی عیادت کی اور علاج پر تبادلہ خیال کیا۔پھر بعد میں سابق ایڈیشنل سیشن جج اعظم گورایہ صاحب سے دلچسپ ملاقات ہوئی وہ غائبانہ مجھے میاں اشتیاق ایڈووکیٹ مرحوم کے حوالے سے جانتے تھے۔ڈاکٹر صاحب چند ہفتوں کے بعد پھر آئے تو ان کے ساتھ ان کے ہم زلف ڈاکٹر طفیل صاحب تھے وہ آج کل ڈیرہ غازی خان یونیورسٹی کے وائس چانسلر ہیں۔یوں انہوں نے ایک وسیع حلقے سے دوستی اور محبت کا رشتہ قائم رکھا۔میرا خیال ہے کہ دوستوں کو دیر تک ان کی کمی محسوس ہوتی رہے گی۔

مزید :

رائے -کالم -