میرے قنوطی رجحانات!

میرے قنوطی رجحانات!
میرے قنوطی رجحانات!

  

آج عیدالفطر ہے، مسلم امہ کی عظیم اور روائتی خوشیوں کے چند ایام میں ایک عظیم دن! …… ”قارئین کو عید مبارک“ والا جملہ منہ سے نکالنے پر مجبور ہوں لیکن اما بعد؟…… کیا کروں کہ اما بعد قنوطیت مجھے اپنے حصار میں لے لیتی ہے…… شیخ سعدی کی حمد کا وہ شعر یاد آ رہا ہے کہ: مغفرت دارد امید از لطفِ تو…… زانکہ خود فرمودہ ای لا تقنطو“…… خدائے ذوالجلال کی رحمت سے مایوس ہونے والا شیطان ہے لیکن اس کے باوجود قنوطی دباؤ ہے کہ کم نہیں ہو رہا۔ سوچتا ہوں کیا ہر گزرا ہوا دن آج کے مبارک دن سے زیادہ مبارک تھا یا میرا وہم ہے جو یہی کہہ رہا ہے کہ ہاں ہر گزرا دن آج سے کئی گنا بہتر تھا۔ آج کی عید ہرگزشتہ عید سے مایوس کن ہے۔ میری جوانی کے بعد میری دو نسلیں جوان ہو گئیں۔ ان کے سامنے اپنی جوانی اور اس سے پہلے لڑکپن اور بچپن کی عیدوں کی ثناء خوانی کرتا ہوں تو وہ میرے منہ کو یوں تکنے لگتے ہیں جیسے میں جھوٹ بول رہا ہوں، ریا کاری سے کام لے رہا ہوں اور حقیقت کو چھپا رہا ہوں۔ وہ سچ ہی تو سمجھتے ہیں! میری دو جوان نسلوں نے یہی تو محسوس کیا ہے کہ ان کی ہر عید، گزشتہ عید سے زیادہ مایوس کن تھی، مشکل تھی اور آج بھی ہے۔

مجھے یقین ہے جب عید کی نماز ادا کرنے جاؤں گا تو عید گاہ کے چاروں طرف سیکیورٹی کا ایک حصار ہو گا، جو میری جامہ تلاشی لے گا، جیسے میں نماز ادا کرنے نہیں، فریضہ ء دہشت گردی و تخریب کاری ادا کرنے عید گاہ میں آیا ہوں۔ میں ہاتھ اوپر اٹھا لوں گا اور گارڈ یا پولیس یا رینجر کا اہلکار میری بغلوں کو تھپتھپائے گا، قمیص کے اندر پہنی ہوئی خودکش جیکٹ کو تلاش کرے گا یا کسی دستی بم کی ٹوہ میں ہو گا۔ عید گاہ میں داخلے کے بعد بھی مجھے یہ خیال ستاتا رہے گا کہ اگر کوئی دہشت گرد پُرعزم ہے، اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر آیا ہے تو اسے سیکیورٹی کا یہ حصار ہرگز ہرگز نہیں روک سکے گا!

ماہ رمضان جو کل گزر گیا اس کی فضیلت کے کیا کیا ترانے تھے جو میڈیا نے نہیں سنوائے یا پڑھائے لیکن اسی ماہِ مقدس میں کیا فوج اور کیا پولیس کے جوانانِ رعنا شہید نہیں کئے گئے؟…… ان کی تصاویر میڈیائی سکرینوں اور اخبارات کے صفحات میں ہم سب نے نہیں دیکھیں؟…… کیا ان کو قتل کرنے والے کلمہ گو مسلمان نہیں تھے؟…… کیا ان کے لواحقین آج عیدالفطر کی خوشیوں میں شریک ہوں گے؟…… کہا جاتا ہے کہ ہم حالتِ جنگ میں ہیں۔ یہ حالتِ جنگ گزشتہ 20،25 برسوں سے ہم پر طاری ہے یعنی پوری ایک نسل اس دوران پیدا ہوئی اور پروان چڑھی ہے، ان سے پوچھ کے دیکھ لیجئے انہوں نے اپنی عمر میں کوئی ایسی عید بھی دیکھی ہے جو بھول کر بھی خوشیوں اور مسرتوں کی کوئی نوید لائی ہو؟…… میں دعوے سے کہہ رہا ہوں کہ ان کا جواب نفی میں ہو گا۔ کیا یہ سب کچھ امید ہے یا نومیدی ہے؟ اگر نومیدی ہے تو اسی کو تو قنوطیت کہا جاتا ہے…… ”لاتقنطو“ پر ایمان کیسے لاؤں؟

ہمارے میڈیا نے ہمارے ماضی ء قریب کے سیاسی حالات کا ہمیں گویا حافظ بنا دیا ہے۔کل کے گزرے رمضان میں ہم نے نمازِ تراویح پڑھیں اور اس ماہ کا آخری عشرہ سخت گرم موسم میں گزرا لیکن اسی عشرہ میں سندھ میں پولیس کے دو جوان آفیسر کچے کے علاقے میں شہید ہو گئے، شمالی وزیرستان میں فوج کے درجن بھر اہلکار شہادت پا گئے۔ مہنگائی کا طوفان امڈا رہا اور وہ جو موہوم سی امید ہمارے وزیراعظم نے قوم کو دلائی تھی کہ کراچی کے سمندر میں اتنا تیل اور اتنی گیس نکلے گی کہ سعودی عرب اور کویت کی ٹوٹل آئل اینڈ گیس پروڈکشن کی مقدار سے بھی زیادہ ہو گی، اس کا کیا ہوا؟…… کون ہے جوان کی دوسری امید افزا باتوں اور خوش آئند وعدوں پر اعتبار کرے گا؟ انہوں نے اپنی انتخابی مہم کے دوران جو بلند بانگ تسلیاں قوم کو دی تھیں اور قوم کی نوجوان نسل نے ان پر اعتبار کرلیا تھا کیا ان کی طرف بھی کسی پیشرفت کا آغاز ہوا ہے؟

ابھی کل کی بات ہے مکہ مکرمہ میں او آئی سی کا اجلاس ہوا تھا۔ اس میں ہمارے وزیراعظم نے فلسطین اور کشمیر کے مسلمانوں کی حالتِ زار کا رونا کس دلسوزی سے رویا تھا، ان کے لب و لہجے میں صداقت کی جو گونج تھی وہ آپ نے بھی سنی اور میں نے بھی……لیکن جب درجنوں مسلم ممالک کی اس تنظیم نے اس اجلاس کے بعد جو اعلامیہ جاری کیا، کیا اس میں کشمیر کا ذکر بھی تھا؟…… کیا اچھا ہوتا اگر فلسطین کا ذکر بھی نہ ہوتا!…… کیا کشمیر کا ذکر نہ کرکے او آئی سی نے اپنی مسلم دشمن اور غیر مسلم دوست پالیسیوں پر مہر نہیں لگا دی؟…… یہ کاہے کی اسلامک کانفرنس ہے؟…… اس کو تو نان اسلامک کانفرنس کہنا زیادہ بہتر ہو گا، جی چاہتا ہے آج سے اس کا نام ”آرگنائزیشن آف نان اسلامک کانفرنس“ رکھ دوں۔ کیا مکہ مکرمہ سے بھی بڑھ کر مقدس کوئی دوسرا شہر ہے؟…… اگر اس شہر میں بیٹھ کر بھی مسلمان حکمرانوں کی آنکھوں کی بینائی کہیں کھو گئی ہے اور ان آنکھوں کو کشمیری مسلمانوں کی حالتِ زار نظر نہیں توتُف ہے ایسی ”مسلم امہ“ پر۔ پاکستان کو اس پر غور کرنا چاہیے کہ وہ کون سے عوامل اور کردار ہیں جنہوں نے کشمیر کا ذکر اس مشترکہ اعلامیہ سے گول کروایا ہے اور مسلم امہ کی آستینوں کے وہ سانپ کون سے ہیں جو اس کی یک جہتی کو ڈس رہے ہیں۔ کیا یہ سب کچھ پاکستانی مسلمانوں کے لئے یاس اور حرماں نصیبی کا باعث نہیں؟

پاکستان کے داخلی محاذ پر دیکھتا ہوں تو سوچتا ہوں کہ اسی ماہِ رمضان میں پاکستان آرمی کے دو سینئر افسروں کو جس جرم کی پاداش میں سزائے موت اور عمر قید سنائی گئی ہے اور جس سویلین کو موت کی سزا دی گئی ہے، اس سے کیا ظاہر ہوتا ہے؟ کیا ان تین افسروں نے پاکستان کی ملٹری اور سویلین ساکھ کو ناقابلِ تلافی نقصان نہیں پہنچایا؟ جب 30مئی کی شب میڈیا پر یہ خبر بریک کی گئی تو یقین کیجئے مجھے اپنی آنکھوں اور کانوں پر یقین نہیں آ رہا تھا۔ ہمارے جو لوگ پاک آرمی کو ”مقدس گائے“ کہا کرتے تھے ان کا بیانیہ کس طرح چکنا چور ہوا ہے؟…… میں سمجھتا ہوں کہ اب یہ ”منحوس گائے“ ہے۔ کیا ایک مچھلی سارے تالاب کو گندہ نہیں کر دیتی؟ کون سی ایسی عظیم الانعام تقرری ہے جو جنرل اقبال کو نہ دی گئی؟ بریگیڈ، ڈویژن اور کور کی کمانڈ…… جی ایچ کیو میں ملٹری آپریشن ڈائریکٹوریٹ کے کرتا دھرتا اور پاکستان آرمی کے ایڈجوٹنٹ جنرل…… کون سا اور بڑا منصب تھا جو جنرل اقبال کو نہیں دیا گیا۔ آرمی کے سارے آپریشنل پلان اسی کی تحویل میں تھے۔ اتنی بڑی اور گرانقدر ذمہ داری اگر فوج نے جنرل اقبال کے کاندھوں پر ڈالی تھی تو اس اعتماد کا کیا حشر نشر اس وردی پوش نے کیا؟ اور دوسرا وردی پوش جو ایک ستارے والا جرنیل (بریگیڈیر) بھی کہلاتا ہے اس نے قومی رازوں کو جس طرح اغیار کے ہاتھوں بیچا اس کی مثال دنیا کی افواج میں آپ کو شاذ و نادر ہی ملے گی۔

اور اس سویلین ڈاکٹر کو بھی دیکھئے جو ایک حساس ادارے میں تعینات تھا۔ قوم نے اس پر کتنا اعتماد کیا تھا اور اس نے اس اعتماد کو کیا ٹھیس پہنچائی اس کی تفصیل اگرچہ GHQ نے نہیں بتائی لیکن سوشل میڈیا پر جو تفصیلات آئیں اور آ رہی ہیں، وہ رونگٹے کھڑے کر دینے والی ہیں۔ فیلڈ جنرل کورٹ مارشل میں جو شہادتیں سامنے آئیں وہ اتنی مسکت اور ناقابلِ تردید تو تھیں ناں کہ جن کی موجودگی میں اتنے اعلیٰ مناصب کے حامل افسروں کو موت اور عمر قید کی سزائیں دی گئیں …… دوسرے الفاظ میں آپ کا GHQ اور آپ کی ISI معرضِ خطر (Vulnerable) میں ٹھہرتی ہے۔ جس کاؤنٹر انٹیلی جنس ایجنسی نے یہ تمام ریکٹ بے نقاب کیا ہے اس کی پروفیشنل مہارتوں اور علم و فن کو سلام۔ لیکن یہی سلام تو ہم جنرل اقبال اور بریگیڈیر رضوان کو بھی برس ہا برس تک کرتے رہے!…… کیا یہ سب کچھ قنوطیت کے شدید دورے کے لئے کافی نہیں؟ ان سول اینڈ ملٹری افسروں کے کرتوت سن کر پوری پاکستانی قوم کو شرمندگی کا سامنا ہے جو ماتم گسار ہے کہ:

قومے فرو ختند و چہ ارزاں فروختند

نئے پاکستان بنانے والوں کا ایک اور سکینڈل آج کل میڈیائی گردش میں ہے۔ایک وزیر صاحبہ کی ہمشیرہ صاحبہ کا کیس تو آپ نے سن اور پڑھ لیا ہو گا۔ تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں۔ وزیر صاحبہ کا اپنا سفارشی خط واپس لینا، اقرار جرم کے مترادف نہیں تو اور کیا ہے؟ یہ لوگ قوم کے نمائندے ہیں۔ ان سے قوم نے جو توقعات وابستہ کر رکھی تھیں ان کا آبگینہ کس طرح چور چور ہوا ہے!…… کہا جا رہا ہے کہ انکوائری ہو گی اور معلوم کیا جائے گا کہ سچ کیا ہے اور جھوٹ کیا ہے۔ لیکن انکوائری کس بات کی؟ کوئی چیز مشکوک تو ہے نہیں۔ سب کچھ عیاں اور ظاہر و باہر ہے۔ یہ انکوائریوں کا ڈھونگ اب ختم ہونا چاہیے۔

اسی ماہ رمضان میں شمالی وزیرستان کے دو ”معزز“ اراکینِ اسمبلی کا احوال آپ جان چکے ہیں۔ دونوں سیکیورٹی فورسز کی تحویل میں ہیں۔ حد یہ ہے کہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ان کے پروڈکشن آرڈر جاری کئے جائیں!…… کیا خرکمر پوسٹ پر حملے اور اس حملے میں جاں بحق ہونے والوں کو فراموش کر دیا جائے؟

سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس کے کے آغا کا کیس حکومت اور اپوزیشن کے درمیان شدید وجہِ تنازعہ ہے۔یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے اور کون کیا گل کھلاتا ہے اس کا پتہ آنے والے ایام میں لگ جائے گا۔

کیا درج بالا تمام اشاریئے اس سمت اشارہ نہیں کر رہے کہ ہم پاکستانیوں کو تقنطو پر اعتبار کرنا چاہیے یا لاتقنطو پر؟…… قوم کو دو تماشے ابھی اور بھی دیکھنے پڑیں گے۔ ایک یہ کہ ہمارے الیکٹرانک میڈیا کے درجنوں ٹی وی چینلوں نے عیدالفطر کے ”پُرمسرت“موقع پر ”عید، ٹرو اور مرو“ کے تین دنوں کے لئے ناچ گانے کے بہت سے پروگرام پہلے سے تیار کر رکھے ہوں گے۔ مزاحیہ مشاعرے ہوں گے، انٹرویوز ہوں گے، بزرگوں کے پندہائے سود مند سنوائے جائیں گے، جواں سال لڑکے لڑکیوں کی امنگوں کی ترجمانی کی جائے گی اور بتایا جائے گا کہ گویا پاکستان میں سب کچھ ٹھیک ٹھاک جا رہا ہے…… سیاسی حالات معمول پر ہیں …… داخلی امن و امان کی صورتِ حال ”حد درجہ“ تسلی بخش ہے…… مہنگائی چند روزہ ہے اور آنے والے بجٹ کا دباؤ بھی بس ایک دو برس کی ”مار“ ہے…… میڈیا آزاد اور خود مختار ہے، اخبار اگر 40،50روپے کا ہو گیا ہے تو پھر کیا ہے، ایسا تو ہوتا ہی رہتا ہے، سفارشی کلچر اگر پریکٹس کیا جا رہا ہے تو مٹی پاؤ…… فوج اگر اپنے راز بیچنے والوں کو سزائے موت دے رہی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ سارے سینئر ملٹری آفیسرز اسی رنگ میں رنگے ہوئے ہیں۔ آخرریوڑوں میں کالی بھیڑیں بھی تو ہوتی ہیں۔ ان کو گوارا کیا جائے…… اور ہاں سچ دوسرا تماشا یہ ہوگا کہ عید، ٹرو اور مرو کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے جس ملک گیر احتجاجی مہم کا مژدہ قوم کو سنا رکھا ہے اس کی سونامی بھی تو آنے کو ہے۔ جغرافیائی گلیشیئر پگھل کر اگر آنے والے ہفتوں میں ملک میں سیلابوں کی ریل پیل کر دیں گے تو کوئی بات نہیں، سیاسی گلیسیئر بھی اس شدت سے پگھلیں گے کہ سپر سیلاب کی آمد آمد ہو گی…… انشاء اللہ ……

پیوستہ رہ شجر سے امیدِ بہار رکھ

مزید :

رائے -کالم -