ٹیکس ایمنسٹی سکیم کو وسعت دینے کی بھرپور حمایت کرتے ہیں: افتخار علی ملک 

ٹیکس ایمنسٹی سکیم کو وسعت دینے کی بھرپور حمایت کرتے ہیں: افتخار علی ملک 

  

کراچی(اکنامک رپورٹر)پاک امریکہ بزنس کونسل کے بانی چیئرمین افتخار علی ملک نے کہا ہے کہ فیڈریشن پاکستان چیمبرز آف کامرس، اس کے منسلکہ چیمبرز، تجارتی اداروں اور تنظیموں سمیت ملک بھر کی بزنس کمیونٹی وزیراعظم عمران خان کی اعلان کردہ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم اور ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کی مکمل اور بھر پور حمایت کرے گی تاکہ معیشت کو مضبوط کرنے میں مدد مل سکے اور موجودہ ٹیکس دہندگان پر بوجھ کو کم کیا جا سکے۔ یہاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے افتخار علی ملک نے کہا کہ ٹیکس نادہندگان کو ٹیکس نیٹ میں لانے اور معمولی ٹیکس ادائیگی پر غیر دستاویزی اور چھپائے گئے ملکی و غیر ملکی اثاثے ظاہر کرنے کیلئے یہ حکومتی اقدام انتہائی مناسب ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاہ دھن کو سفید کرنے، ٹیکس دہندگان کے اعتماد کو بڑھانے، ایس ایم ایز، ایکسپورٹ ویئر ہاؤسز اور زرعی شعبہ کیلئے مراعات، مس ڈیکلیریشن اور سمگلنگ  کے حوالے سے شعور پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں ٹیکس وصولیوں کا نظام انتہائی پیچیدہ ہے اس لئے عالمی ماحول کے مطابق اس کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ ٹیکس ایمنسٹی سکیم کے نتیجے میں صنعتکاری اور ریئل اسٹیٹ کے علاوہ معیشت کے دیگر سیکٹرز میں نئی سرمایہ کاری کو فروغ دینے اور کاروباری لاگت میں کمی اور آسانیاں پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ افتخار علی ملک نے کہا کہ پاکستان میں اس قسم کی ایمنسٹی سکیم کی ضرورت اس لئے بھی ہے کیونکہ لوگوں نے دہشت گردی اور ماضی میں قانون سازی کی خراب صورتحال کی وجہ سے اپنا پیسہ بیرون ملک منتقل کر دیا تھا۔ ملک میں امن و امان کے حالات اب مکمل طور پر بحال ہوچکے ہیں اور لوگوں کو  نئی سکیم کا بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔ ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ریونیو کی لیکیج روکنے اور ٹیکس نیٹ میں توسیع سے بھاری ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبے ٹیکس دہندگان کو فائدہ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ 220 ملین آبادی میں سے صرف ایک فیصد افراد ٹیکس ادا کر رہے ہیں جس کا مطلب ہے کہ ایک فیصد پاکستانیوں کو 220 ملین لوگوں کا بوجھ اٹھانا پڑتا ہے اور یہ فرق سنجیدہ حکومتی کوششوں کے ذریعے ختم ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک شدید اقتصادی بحران سے گزر رہا ہے۔

جس پر اثاثوں کے اعلان اور ٹیکس ادا کر کے قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے۔ معیشت کی ڈاکومینٹیشن اقتصادی ترقی کے لئے بہت اہم ہے اور  انکم ٹیکس رجسٹریشن کو آسان بنانے کیلئے حکومت متعلقہ قانون میں ترمیم کرے۔ انہوں نے چیئرمین ایف بی آر کے اس اولین بیان کا خیر مقدم کیا کہ ٹیکس دہندہ کو پیشگی اطلاع اور چیئرمین ایف بی آر کی اجازت کے بغیرکوئی بینک اکاؤنٹ منجمد نہیں ہوگا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ٹیکس دہندگان کو مزید مراعات دی جائیں اور ٹیکس نیٹ کو بڑھانے اور ٹیکس دہندگان کی تعداد بڑھانے کے لئے ٹیکس نظام میں اصلاحات متعارف کرائی جائیں۔ 

مزید :

کامرس -