ہتھ سٹو…… توانوں دو عیداں مبارک

ہتھ سٹو…… توانوں دو عیداں مبارک
ہتھ سٹو…… توانوں دو عیداں مبارک

  

یورپ کے دو ملکوں نے زیر سمندر ایک سرنگ بنانے کا فیصلہ کیا جو ان دو ممالک کو آپس میں جوڑ دے۔ سرنگ بنانے کے لئے دنیا کی بڑی بڑی کمپنیوں نے اپنی اپنی آفرز بھیجیں جو کہ کروڑوں اربوں ڈالرز کی تھیں۔ انہی آفرز میں ایک پیشکش تھی کہ یہ کام صرف 5ہزارڈالر میں کر دیا جائے گا۔ آٰفر کرنے والے کو انٹرویو کے لئے طلب کر لیا گیا۔ انٹرویو کے دوران حکام نے پوچھا کہ اتنے کم پیسے میں زیر سمندر سرنگ کیسے بنے گی تو ہمارے پیارے سردار بنتا سنگھ بولے ویری سمپل میں فرانس رہتا ہوں اور وڈے بھرا سنتا سنگھ اٹلی ادھر سے میں بیلچہ پکڑوں گا ادھر سے بھراجی، بس کھودتے کھودتے جہاں ہم آپس میں ٹکرائیں گے آپ کی سرنگ بن جائے گی۔

حکام نے مسکرا کر کہا فرض کریں وہ ادھر سے نکل جائے اور آپ ادھر سے اور دونوں کا ملاپ نہ ہوا تو بنتا سنگھ بولا ہتھ سٹو تہاڈی دو بن جان گی(ہاتھ پھینکیں آپ کی دو سرنگ بن جائیں گی) مبارک ہو پوری قوم کو ہینگ لگی نہ پھٹکری اور قوم کو دو دو عیدیں وہ بھی سرکاری سرپرستی میں مل گئیں۔ نئے پاکستان کی برکت سے آپ صبح پشاور میں عید کریں اگلے دن آپ کراچی میں عید کی خوشی میں کیکلی ڈالتے پھریں۔ رہے ہمارے فواد چودھری تو ان کے پاس کڑھنے اور سڑی سٹنے کے علاوہ کوئی آپش نہیں۔ وہ بے چارے مفتی منیب کو سنبھالتے رہے اور گول پوپلزئی صاحب نے کر دیا۔

فواد صاحب آپ ایوں زندہ ہے بھٹو زندہ ہے پر تنقید کرتے ہیں بھیا بھٹو زندہ ہو نہ ہو ضیاء الحق مائنڈ سیٹ زندہ ہے۔ پوری دنیا میں سرکاری علماء ریاست کے ماتحت ہوتے ہیں پاکستان واحد ملک ہے جہاں ریاست ان مولویوں کے تھلے لگی ہوئی ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ کے پی کے حکومت اتنی آسانی سے ایک مخصوص فکر اور سوچ رکھنے والے عالم کے چرنوں میں بیٹھ گئی۔ لکھ لیجئے یہ رجحان ایک اورمسالک کے تصادم کو جنم دے گا۔ ایک چین ہے کہ وہ مصنوعی چاند بنا کرلے آتا ہے اور ہم چین سے بھی ترقی کر گئے ہیں ہم مصنوعی چاند پر جب چاہیں عید منا سکتے ہیں۔ ہماری تو ویسے بھی قسمت خراب ہے۔

ہمارا تو چاند بچپن سے ہرجائی ہے۔ ہمیشہ پوپلزئیوں کے چوبارے پر نمودار ہوتا رہا ہے بہر حال فواد دل چھوٹا نا کریں اپنے موقف پر ڈٹے رہیں ایک نا ایم دن چاند سائنس کے چوبارے سے ضرور نمودار ہو گا۔ خان صاحب کا بچہ سر پر ٹوپی رکھے نماز کے لئے جا رہا تھا۔ اس کا باپ پنکھا لگا کر حقہ پی رہا تھا۔ دادا بولا بے شرما اپنے بیٹے کو دیکھ نماز پڑھنے جا رہا ہے اور تو حقہ پی رہا ہے۔ خان صاحب بولے ابا فیر ویکھیا تربیت دا فرق (ابا جی دیکھا تربیت کا فرق) اب یہ تو دادا ابو کو چاہیے کہ کے پی کے حکومت سے پوچھیں کہ اس جگ ہنسائی کی ضرورت کیا تھی۔ جماعتوں میں ڈسپلن ذمہ دار کی تربیت کا فرق بولتا ہے۔ لگتا ہے خان صاحب نے اس جانب بھی توجہ نہیں دی۔ خیر اب تو تیر کمان سے نکل چکا۔ پوپلزئی صاحب نے سائنس اور رویت کمیٹی دونوں کو شکست دے دی۔ میری رائے یہ ہے کہ انہیں کے پی کے کا وزیراعلیٰ بنا دیا جائے۔ میٹرو بس کا روٹ جس بھونڈے انداز میں بنایا گیا کم از کم پوپلزئی صاحب جنہیں چوبیس گھنٹے پہلے چیزیں نظر آ جاتی ہیں اس روٹ کی تنگی کو ضرور دیکھ لیں گے۔

جیسے پوری قوم ایک دن عید نہیں منا سکتی اس طرح ایک عرصے سے نوازشریف اور شہبازشریف اکٹھے عید نہیں کر رہے ہیں۔ خیر بڑے میاں صاحب تو عمران خان کی سخت محنت کے سبب ایک عرصہ بعد پاکستان میں عید کریں گے۔ میاں شہباز شریف درست کہتے ہیں کہ اتنی مہنگائی میں یہ عید پھیکی پھیکی رہے گی۔ میاں صاحب ساڈا کی اے ہم آپ کے دور میں کونسا کمخواب پہنا کرتے تھے۔

ہماری خیر ہے آپ تو موج مستی میں ہیں نا آپ تو پنجرہ توڑ کر شہباز کی طرح پرواز کر چکے ہیں قوم جئے یا مرے آپ کا مسئلہ نہیں۔ سنتا سنگھ نے پریتو کا ہاتھ پکڑ کر رومانٹک انداز میں کہا پریتوآپ کے ہاتھ بہت گرم ہیں اور گرم ہاتھ خلوص و وفا کی نشانی ہوتے ہیں،پریتو بولی بے غیرتا مینوں بخارا اے۔ ہم نے تو جس لیڈر کا ہاتھ پکڑا گرم ہی پایا۔

ساڈا دھیان اس کے خلوص پر رہا اُچیاں شاناں تے پُٹھے دھیاناں والا لوٹ مار کے بخار میں مبتلا رہا۔ قوم بھانڈے میں وڑتی گئی اور اسکا اقبال بلند بلکہ بلند ترین ہوتا گیا۔ قوم کے بچے بھوکے مرتے رہے اور اسکی اولادیں ہنڈیوں، ٹیٹیوں اور حرام کی کمائی سے پل کر قومی لیڈر بنتے گئے۔ سنتا سنگھ کا دھیانت ہو گیا۔ جنازہ کمرے میں رکھا گیا جہاں بہت گرمی اور حبس تھا کسی نے کہا منجھی باہر لے آؤ ہوا چل رہی ہے۔ منجھی باہر آ گئی اچانک بوندا باندی شروع ہو گئی۔ جلدی جلدی ارتھی اندر لائی گئی۔ کسی کہا کہ لے آؤ باہر بارش رک گئی ہے۔

سو ایک بار پھر چارپائی باہر نکالی گئی۔ اچانک پھر بارش شروع ہو گئی۔ سب بولے جلدی جلدی اندر لے چلو میت بھیگ رہی ہے۔ اچانک سنتا سنگھ منجھی سے اٹھ کر بیٹھ گیا اور بولا ظالمو مرنے کے بعد تو خجل نہ کرو۔ یہ سیاسی جماعتیں پوری قوم کو اندر باہر کے چکر میں خجل کرتی ہیں لیکن ہم ایسے مردے ہیں کہ ایک بار بھی نہیں کہتے یار مارتو دیا ہے اب خجل نہ کرو۔ کیا مردار قوم ہیں ہم۔

ہمارے سادگی اور بھولے پن کی انتہا ہے۔ کہ جنے لایا گلی اس دے نال ٹر چلی 1947ء سے یہی ہو رہا ہے۔ بیگم نے سنتا سنگھ کو پچاس کے دو نوٹ دیئے اور کہا ایک کی پیاز اور دو سرے نوٹ سے آلو لے آنا۔ تھوڑی دیر بعد سنتا سنگھ واپس آیا اور بولا میں بھل گیا کہڑے نوٹ توں پیاز لیانے سی تے کس نوٹ دے آلو لانے تھے ساری زندگی دو نوٹ لے کر بھولنے والی قوم ہمیشہ بھول جاتی ہے کہ کس جماعت نے ہمیں پیاز کرنا ہے اور کس نے آلو ڈالنے ہیں۔

آپ جس وقت یہ تحریر پڑھ رہے ہوں گے عید آپ کے گرد چھیاں چھیاں گاتی پھر رہی ہو گی۔ سوچتا ہوں بھوک غربت کے باوجود اللہ کا شکر ہے ہم اپنے آل اولاد کے ساتھ خوشی غمی کے لمحے اکھٹے گزار رہے ہیں۔ سوچتا ہوں اس دولت کا کیا فائدہ اس امارت بنک بیلنس کاروبار کو ٹھپوں، فلیٹوں کا کیا فائدہ کہ تین بار کا منتخب وزیر اعظم آج جیل میں ہوگا جن کے لئے اس نے یہ عذاب کمایا وہ بیٹے لندن کے کسی خوبصورت ریسٹورنٹ کے آرام دہ ڈائسننگ ہال میں بیٹھ کر انجوائے کر رہے ہوں گے۔ اختلافات اپنی جگہ پر قسم سے دکھ ہوتا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -