حادثاتی سنگر نہیں باقاعدہ گلوکاری سیکھی ہے:مظہرراہی

حادثاتی سنگر نہیں باقاعدہ گلوکاری سیکھی ہے:مظہرراہی

  

لاہور(فلم رپورٹر)بین الاقوامی شہرت یافتہ بھنگڑاسٹار مظہرراہی نے کہاکہ میں حادثاتی سنگر نہیں ہوں باقاعدہ موسیقی کی تربیت حاصل کی ہے یہی وجہ ہے کہ میرا ہر آنے والا گیت پرستاروں کی امیدوں پر پورا اترتا ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میری فیملی میرے گانے کے سخت خلاف تھی مگر میں نے ان کی مخالفت کے باوجود اپنی گلوکاری کا آغاز 1998 میں شروع کردیا تھا۔

شروع شروع میں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ گلوکاری کے لیئے اپنے گاﺅں سے لاہور آنا پڑتا اور لاہور میں کوئی جاننے والا نہ ہونے کی وجہ سے کافی مشکل پیش آتی مگر میں نے گانے اور سیکھنے کا عمل چھوڑا نہیں۔میں نے لاہور میں میوزک کی باقاعدہ تعلیم حاصل کی جب میرے گائے ہوئے گانوں نے مقبولیت حاصل کرنا شروع کردی تو میرے والدین کو لگا کہ میں بطور گلوکاراپناکیرئیر بنانے میں کامیاب ہو چکا ہوں تو انہوں نے مجھے سپورٹ کرنا شروع کر دیا میرے گائے ہوئے گانے ”چٹھیئے نی چٹھئیے“،”توں نئیں بولدی رانو“ ،”چورنی“ اور بسنت کے لیئے گایا ہوا گانا”اکھ وی لڑانی اے تے گڈی وی اڑانی اے“ زبان ذدعام ہوئے تو میں لاہور شفٹ ہوگیاجہاں میرا گائیکی کا سفر شروع ہو گیا اسی دوران مجھے کراچی سے آفر آئی جہاں میں نے سپرہٹ سونگ اپنے پرستاروں کو دئیے۔مظہرراہی نے کہاکہ میں اب تک بیسیوں ممالک میں اپنے ملک کا پر چم اونچا کر چکا ہوں جن میں بھارت سمیت دوبئی،مسقط،امریکہ ،جاپان،بحرین،افریقہ ،یوکے اورانگلینڈ سمیت دیگر ممالک شامل ہیں۔اپنے نئے پراجیکٹس بارے بات چیت کرتے ہوئے مظہرراہی نے کہاکہ میرا نیا ویڈیو ”سوہنا معشوق ہووے“ان دنوں دھوم مچائے ہوئے ہیں اس کے ابتک یوٹیوب پر لاکھوں ویوز اور لائکس ہیں جبکہ اس کو کروڑوں لوگوں نے ٹک ٹاک پر ویڈیوز بنائی ہیں۔ان دنوں ان کا نیا گانا”نچدی شکیرا“،”سجناں وے رواوی نہ“ کا ویڈیو بھی مکمل ہو چکاہے جبکہ گلوکارہ نوراں لعل کے ساتھ بھی ان کا ڈیوٹ”کڑی لالٹین ورگی“ کا ویڈیو مکمل ہو چکاہے۔

جسے جلد ریلیز کیا جائیگا۔مظہرراہی نے مذید کہاکہ آجکل دکھاوے کا دور ہے اچھی گلوکاری کے ساتھ ساتھ اچھی ویڈیو بھی ضرور ی ہے کیونکہ مقابلہ بازی اتنی زیادہ ہو چکی ہے کہ آپ کو اچھے سے اچھا ویڈیو بنانا ضروری ہے انہیں فلموں کی بھی آفرز ہیں کیونکہ ان کا ایک گانا”نہ پچھ وے چناں“ فلم انڈسٹری میں دھوم مچا چکاہے۔

مزید :

کلچر -