رویت ہلال،مفتی پوپلزئی فواد چودھری پر بھاری پڑگئے، قمری کیلنڈر ردی کی نذر

رویت ہلال،مفتی پوپلزئی فواد چودھری پر بھاری پڑگئے، قمری کیلنڈر ردی کی نذر

تجزیہ؛نعیم مصطفٰے

تحریک انصاف کی وفاقی حکومت اپنے ”رول ماڈل صوبے“ خیبرپختونخوا میں عیدالفطر پر بھی رویت ہلال کا تنازع حل کروانے میں کامیاب نہیں ہو سکی، جبکہ اس کے مقابلے میں مسجد قاسم خان پشاور کے خطیب مفتی شہاب الدین پوپلزئی نے مذہبی تقلید، طاقت اور اثرو رسوخ کا لوہا منوا لیا۔وفاقی وزیر سائنس ٹیکنالوجی فواد چودھری کا تیار کردہ پانچ سالہ قمری کیلنڈر ایک صوبے نے ابتدا میں ہی ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا۔یوں حکومت کی طرف سے مذہبی ہم آہنگی کے حوالے سے کئے جانے والے تمام دعوے ہوا میں تحلیل ہو گئے،ایک صوبے میں جہاں پی ٹی آئی مسلسل دوسری بار اقتدار میں آئی ہے اور اس کا بھرپور کریڈٹ لینے کی پوری کوشش بھی کی جا رہی ہے، وہاں وفاق کی ایک نہیں سنی گئی۔ مقامی نوعیت کی ایک رویت ہلال کمیٹی کے فیصلے پر پوری صوبائی حکومت نے لبیک کہا اور سرکاری سطح پر ایک روز قبل ہی عیدالفطر منا لی گئی، حیران کن امر یہ ہے کہ صوبے میں بیٹھے وفاق کے سب سے بڑے نمائندے گورنر بھی اس فیصلے میں شامل ہو گئے، جبکہ خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے بعض وفاقی وزراء اور مشیر بھی صوبائی حکومت کے ہمنوا بنے دکھائی دیئے،ویسے تو خیبرپختونخوا(پرانے سرحد) میں چاند دیکھنے کا تنازع کوئی نیا نہیں ہے، بلکہ شاید قیام پاکستان کے بعد سے ہی چلا آ رہا ہے اور اب تو یہ باقاعدہ روایت بن چکا ہے لیکن موجودہ حکومت نے بعض معاملات میں جو دعوے اور وعدے وعید کئے تھے اس تناظر میں یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ کم از کم رویت ہلال کے معاملے میں ہم مذہبی و قومی ہم آہنگی پیدا کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے،لیکن اگر ایسا نہیں ہو سکا تو اس کی وجوہات جاننے کی اشد ضرورت ہے۔وزارت اطلاعات کا قلمدان چھوڑنے اور سائنس و ٹیکنالوجی کی وفاقی وزارت سنبھالنے کے بعد فواد چودھری نے سب سے بڑا کارنامہ یہ انجام دیا تھا کہ پانچ سال کے لئے قمری کیلنڈر تیار کروا دیا ہے۔پہلے 100سال، پھر50سال اور 10 سال کا کہا گیا، پھر پانچ پر ہی اکتفا کر لیا گیا، لیکن اس پر بھی عملدرآمد نہ ہونا لمحہ فکریہ ہے۔ ایک طرف تو وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ قمری کیلنڈر کی تیاری سے پہلے تمام اسٹیک ہولڈرز کو آن بورڈ نہیں لیا گیا، حتیٰ کہ وفاقی وزارتِ مذہبی امور یا صوبائی حکومتوں سے بھی کوئی بات نہیں کی گئی، پھر رویت ہلال کے حوالے سے متعلقہ تنظیموں کو اعتماد میں لیا جانا چاہئے تھا۔اسلامی نظریاتی کونسل اور مرکزی رویت ہلال کمیٹی والے بھی اس بارے میں متضاد آرا رکھتے ہیں،رمضان المبارک کا چاند دیکھنے پر بھی تنازعہ کھڑا ہوا تھا اور اہل خیبر نے مفتی پوپلزئی کے اعلان پر پورے پاکستان سے ایک روز قبل روزہ رکھ لیا تھا، اس فیصلے کو دیکھ کر  ہی اگر ہم نے کوئی سنجیدہ کوشش کی ہوتی تو آج عید کی رویت ہلال پر مسئلہ نہ بنتا،جس مرکزی رویت ہلال کمیٹی پر حکومت سالانہ بھاری اخراجات کرتی ہے وہ بھی اس حوالے سے تذبذب کا شکار ہے اور یوں لگتا ہے جیسے اندھیرے میں ہاتھ پاؤں مار رہی ہے۔پرویز خٹک کی صوبائی حکومت نے ایک سال اچھا کام یہ کیا تھا کہ مفتی پوپلزئی کو عید کا چاند دیکھنے کے وقت بیرون ملک بھجوا دیا تھا جس وجہ سے اہل خیبر نے اِس سال عید پوری قوم کے ساتھ منائی۔ موجودہ حکومت ایسا ہی کوئی اقدام کر لیتی تو بہتر ہوتااور ہماری رویت ہلال کی وجہ سے جگ ہنسائی نہ ہوتی۔یہ بات ٹھیک ہے کہ معیشت کو سنبھالا دینے کرپشن ختم کرنے، احتساب کا موثر نظام متعارف کروانے، گڈ گورننس، عوامی شکایات کے ازالے، گھر کی دہلیز پر انصاف کی فراہمی اور اس قسم کے دیگر بڑے فیصلوں کے لئے زیادہ وقت درکار ہے، لیکن رویت ہلال کا معاملہ تو شاید اتنا زیادہ وقت نہیں مانگتا، ہم اس قسم کے چھوٹے موٹے تنازعات کیوں حل نہیں کر پا رہے، ایسا میکنزم کیوں نہیں بنایا جا رہا کہ اس طرز کے معمولی امور پر حکومتی رٹ قائم کی جا سکے، یہ وہ سوال ہے جس پر پی ٹی آئی حکومت کو بڑی سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے اور اسے اپنی پہلی ترجیح بنا کر قوم کو اعتماد میں لیا جائے۔ خیبر میں ایک روز قبل عید منانے کے فیصلے کے بعد بعض اطراف سے جو تبصرے سامنے آئے وہ بھی لچسپی سے خالی نہیں،صوبائی وزیر اطلاعات برادرم شوکت یوسفزئی نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ مفتی شہاب الدین پوپلزی کو مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا سربراہ بنا دیا جائے تو سارے معاملات حل ہو جائیں گے۔ کمیٹی کے چیئرمین مفتی منیب الرحمن نے بھی اس کا بڑا خوبصورت جواب دیا کہ حکومت بھی پوپلزئی کے حوالے کر دی جائے تاکہ سارے کام ہی ایک روز پہلے ہی ہو جایا کریں۔ اس ساری صورت حال سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ہم ایک نہایت سنجیدہ مذہبی معاملے میں کس حد تک غیر سنجیدہ ہوتے جا رہے ہیں، جہاں تک مفتی پوپلزئی کا تعلق ہے تو اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ مذہبی اعتبار سے خاصے مستند اور اثرو رسوخ رکھنے والے عالم دین ہیں،اُن کے والد ِ بزرگوار مفتی پوپلزئی بھی جیّد مذہبی رہنما تھے۔ پوپلزئی خیبرپختونخوا میں پختونخوں کی سب سے بڑی قوم درانی کی ایک ذیلی شاخ ہے جو سیاسی طور پر بھی خاصی مضبوط اور بااثر سمجھتی جاتی ہے۔دوسری جانب مسجد قاسم علی خان پشاور کی مرکزی جامع ہے جو مغل شہنشاہ اورنگزیب عالمگیر کے دور میں قاسم علی خان نامی شخص نے تعمیر کروائی تھی جو ایک نامور اخبار نویس اور معروف حکومتی شخصیت تھے۔ یہ مسجد مشہور قصہ خوانی بازار کے قریب واقع ہے۔ آج تک کسی نے بھی پوپلزئی کے ساتھ بیٹھ کر رویت ہلال پر استدلال نہیں کیا اور کسی نتیجے پر پہنچنے کی کوئی ٹھوس کوشش ہی نہیں کی گئی۔یہ ایک حساس معاملہ ہونے کے ساتھ ساتھ مذہبی ہم آہنگی کا مسئلہ بھی ہے جو علمی و دینی بحث و تمحیص اور دانش کے ذریعے حل کا متقاضی ہے۔ یہ بھی کہا جا رہا کہ خیبرپختونخوا اور ملحقہ قبائلی علاقہ جات(موجودہ انضمام شدہ اضلاع) کے رہائشی اکثر سعودی عرب کے ساتھ عید منانے کو ترجیح دیتے ہیں اور شاید اس مرتبہ رمضان المبارک، عیدالفطر پر بھی یہی  فیصلہ کیا گیا۔ بہرحال یہ بحث چلتی رہے گی، خوش کے اس موقع پر اہل خیبرکو ٹرو اور دیگر علاقے کے رہنے والے پاکستانیوں کو عیدالفطر کی ڈھیروں خوشیاں مبارک ہوں!۔

مزید : تجزیہ