کراچی،تاجروں نے عید کی خریداری کو مجموعی طور پر غیر تسلی بخش قرار دیدیا

کراچی،تاجروں نے عید کی خریداری کو مجموعی طور پر غیر تسلی بخش قرار دیدیا

  

کراچی (اکنامک رپورٹر) تاجروں کا عید سیل سیزن مہنگائی کی نذر ہوگیا،تاجروں نے عید کی روایتی خریداری کو مجموعی طور پر غیر تسلی بخش قرار دے دیا، عید کی خریداری کے حوالے سے شناخت رکھنے والی اہم مارکیٹیں توقعات کے برعکس خریداروں کی توجہ حاصل نہ کرسکیں، خریداروں کا رحجان جنرل اسٹورز سے سپر مارکیٹوں اور مارکیٹوں سے شاپنگ مالز کی جانب ہوگیا، رمضان المبارک کے دوسرے عشرے میں مارکیٹوں میں امڈ آنے والا خریداروں کا ریلا مصنوعی ثابت ہوا، رواں سال 45سے 50ارب روپے کا متوقع عید سیل سیزن 35ارب روپے تک محدود رہا، عید پر فروخت کیلئے پیش کی گئیں مصنوعات بھی مہنگی ہوگئیں، قیمتوں میں اوسطاً 20تا 25فیصد اضافے سے خریداروں کی قوتِ خرید شدید متاثر ہوئی، جبکہ رمضان المبارک میں گرانفروشوں نے اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں کو آسمان پر پہنچاکر غریب اور متوسط طبقے کی کمر توڑ دی عید کی خریداری پر جس کے شدید اثرات مرتب ہوئے، آل کراچی تاجر اتحاد کے چیئرمین عتیق میر نے موجودہ صورتحال کو انتہائی مایوس کُن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تاجر مندی اور کساد بازاری کے ازالے کیلئے سال بھر عید سیل سیزن کا انتظار کرتے ہیں انھوں نے کہا کہ ڈالر، پیٹرول، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے سے سفید کالر افراد کی مشکلات بڑھ گئیں، ہوشربا مہنگائی، بیروزگاری اور قوتِ خرید میں کمی کے باعث خریداروں کے ارمانوں اور دکانداروں کی امیدوں پر پانی پھرگیا،استطاعت سے محروم عوام عید کی خریداری محدود کرنے پر مجبور ہوگئے، بیشتربازاروں میں نظر آنے والی گہما گہمی ونڈو شاپنگ ثابت ہوئی، تجارتی مراکز میں چہل پہل کا سب سے زیادہ فائدہ ٹریفک پولیس کو ہوا، نو پارکنگ سے گاڑیاں اٹھانے اور جرمانوں کا سلسلہ زور و شور سے جاری رہا، جیب کتروں کی بھی چاندی ہوگئی، حفاظتی پولیس نے سنیپ چیکنگ کی آڑ میں جی بھر کر عیدی بنائی،  بیشتر دکانوں میں تیار کردہ50 فیصد سے زائد مال فروخت نہ ہوسکا، گذشتہ سال کے مقابلے میں فروخت میں مجموعی طور پر 30فیصد تک کمی رہی، تاجروں کو عید بعد کاریگروں اور کارخانے داروں کو رقوم کی ادائیگی کے لالے پڑگئے، 80فیصد خریداری خواتین اور بچوں کے ملبوسات تک محدود رہی، گذشتہ سال کی طرح رواں سال رمضان المبارک کا آخری عشرہ کاروباری طور پر توقعات کے برخلاف رہا، پتھارے، کیبن، اسٹالز اور ٹھیلے متوسط اور کمتر وسائل کے حامل طبقے کی خریداری کا محور بن گئے، انھوں نے کہا کہ چند بڑے بازاروں کے علاوہ شہر کے بیشتر تجارتی مراکز خریداروں کے منتظر رہے، بڑی مارکیٹوں میں لگائی جانے والی رعائتی سیل بھی خریداروں کو متوجہ نہ کرسکی، مقامی طور پر تیار کردہ مصنوعات کے مقابلے میں درآمدی اشیاء کی خریداری عروج پر رہی سب سے زیادہ پذیرائی چینی مصنوعات کو حاصل ہوئی، رواں سال ملک کے مختلف شہروں سے منگوائی گئی سلے سلائے مردانہ و زنانہ کپڑوں کی بہترین ورائٹی بھی استطاعت سے محروم خریداروں کیلئے پُر کشش ثابت نہ ہوسکی، خریداری ریڈی میڈ گارمنٹس، جوتے، مصنوعی زیورات اور زیبائش کے سامان تک محدود رہی، گل پلازہ، گولڈ مارک اور چند شاپنگ مالز حسبِ سابق خریداروں کی خصوصی توجہ کا مرکز رہے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -