نواز شریف کوذاتی معالج سےنہ ملنےدیناگری ہوئی حرکت،بلاتاخیرجیل میں کرٹیکل کئیریونٹ اورڈاکٹرمہیاکیا جائے:شہباز شریف

نواز شریف کوذاتی معالج سےنہ ملنےدیناگری ہوئی حرکت،بلاتاخیرجیل میں کرٹیکل ...
نواز شریف کوذاتی معالج سےنہ ملنےدیناگری ہوئی حرکت،بلاتاخیرجیل میں کرٹیکل کئیریونٹ اورڈاکٹرمہیاکیا جائے:شہباز شریف

  

 لندن(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر محمد شہباز شریف نے پنجاب حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نواز شریف کوذاتی معالج سےنہ ملنےدیناگری ہوئی حرکت ہے،بلاتاخیرجیل میں کرٹیکل کئیریونٹ اورڈاکٹرمہیاکیا جائے۔

نجی ٹی وی کے مطابق سابق وزیر اعظم  نوازشریف سے کوٹ لکھپت جیل میں اہلخانہ کی ملاقات نہ کرانےپرشہباز شریف نے سخت اظہارِمذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ نوازشریف کوطبی سہولیات فراہم کرناحکومت کی قانونی ذمےداری ہے، نوازشریف کوجیل میں طبی سہولت مہیانہ کرنا افسوسناک ہے۔شہباز شریف کا کہنا تھا کہ بلاتاخیرجیل میں کرٹیکل کئیریونٹ اورڈاکٹرمہیاکیا جائے.

واضح رہے کہ اس سے قبل مریم نواز شریف نےکہا تھا کہ میری عید اس دن ہو گی جب میرے والد گھر آئیں گے ،گزشتہ عید الضحی والد کے ہمراہ جیل میں گزارنے کے بعد یہ پہلی عید ہے جو اپنے والدین کے بغیر گزار رہی ہوں، والد سے ملنے نہیں دیا گیا، نوازشریف عید الضحی ، رمضان اور عید الفطر جیل میں اسلیئے گزار رہے ہیں کیونکہ انہوں نے آئین پاکستان پر عمل کرنے کے مطالبے کا جرم کیا ہے۔

دوسری طرف سابق وزیر اعظم  اور  پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر نائب صدر شاہد خاقان عباسی نے بھی جیل میں  نوازشریف کی بگڑتی صحت پر اظہار تشویش، ذاتی معالج، گھروالوں سے ملاقات پر پابندیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ محمد نوازشریف کی جیل میں طبیعت دن بدن بگڑ رہی ہے، انجائنا کا روزانہ تین سے چار مرتبہ دردہونا سنگین خطرے کی علامت ہے، حکومت نے محمد نوازشریف کے لئے ہنگامی طبی انتظامات واپس لے لئے ہیں جبکہ ایمبولنس کی سہولت بھی واپس لے لی گئی ہے،انجائنا کے مسلسل درد کی شکایت کے باوجود کوئی معالج بھی کسی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے موجود نہیں، خدانخواستہ کسی ہنگامی صورتحال میں نوازشریف کی جان بچانے کا کوئی فوری طبی انتظام دستیاب نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسے کسی بھی نقصان کا ذمہ دار اور قصور وار عمران خان ہوگا ، ہمارا ہاتھ اوراس کا گریبان ہوگا ،حالات کو دیکھ کر یہ کہنے پر مجبورہوں کہ میاں صاحب کے قتل کی سازش ہورہی ہے، پہلے میاں صاحب کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان کو ملنے کی اجازت دینے سے انکار کیاجاتا رہا،ڈاکٹر عدنان جیل گئے تو وہاں نہ کوئی ڈاکٹر ڈیوٹی پر موجود تھا، نہ ہی طبی امداد کا کوئی بھی ہنگامی انتظام مہیا ہے، ہمارا مطالبہ ہے کہ فوری طورپر ہنگامی اور فوری طبی امداد کا یونٹ جیل پہنچایا جائے، ایمبولینس دستیاب کی جائے۔

شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ یہ قتل کی سازش نہیں تو اور کیا ہے کہ انجائنا کا شدید درد ہونے کے باوجود اب تک کوئی ٹیسٹ نہیں ہوا؟ حکومت کو میاں صاحب کی صحت وسلامتی سے دلچسپی نہیں، ورنہ انجائنا کے درد کے بعد فوری طبی امداد مہیا کی جاتی؟حکومت نہ ڈاکٹر مہیا کررہی ہے اور نہ ہی میاں صاحب کے ذاتی معالج کو اجازت دے رہی ہے، پھر قتل عمد نہ سمجھاجائے توکیا سمجھا جائے؟۔

مزید :

قومی -