سانس لینے کا صحیح طریقہ جس سے آپ کی بیماریاں دور ہوجائیں

سانس لینے کا صحیح طریقہ جس سے آپ کی بیماریاں دور ہوجائیں
سانس لینے کا صحیح طریقہ جس سے آپ کی بیماریاں دور ہوجائیں

  


برمنگھم(نیوز ڈیسک)سانس تو سب ہی لیتے ہیں لیکن ضروری نہیں کہ سب کا سانس لینے کا طریقہ بھی ٹھیک ہو۔ جی ہاں، کچھ لوگ ناک کی بجائے کی منہ سے بھی سانس لیتے ہیں، جس کا فائدہ کوئی نہیں اور نقصانات بہت ہیں۔ اس کے برعکس اگر آپ منہ سے سانس نہ لیں، اور ناک سے لمبی سانس لینے کی مشق بھی کریں، تو اس کے فوائد آپ کو حیران کر دیں گے۔

سائنسی جریدے ”جے نیوروسی“ میں شائع کی گئی تازہ ترین تحقیق میں یہ حیران کن انکشاف کیا گیا ہے کہ جو لوگ منہ کھول کر سانس لیتے ہیں ان کی یادداشت ایسے لوگوں کی نسبت قدر کمزور ہوتی ہے جو صرف ناک سے سانس لیتے ہیں ۔ سائنسدانوں نے اس تحقیق کیلئے نوجوانوں کے دو گروپوں پر تجربات کیے اور ناک و منہ سے سانس لینے والوں کے دماغ میںجاری سرگرمیوں کا تقابلی مطالعہ کیا ۔

تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ ان کے تجربات یہ ظاہرکرتے ہیں کہ جب ہم ناک سے سانس لیتے ہیں تو حسی اعضاءاور دماغ کے اندر یادداشت کے نیٹ ورک کے درمیان ابلاغ ہوتا ہے جو ہماری یادداشت کو بہتر بنانے کا سبب بنتا ہے۔ ناک سے سانس لینا میموری انکوڈنگ اور یادداشت میں موجود چیزوں کو پھر سے ذہن میں لانے کی صلاحیت کو بہتر بناتا ہے جبکہ یادداشت میں بڑی تعداد میں معلومات محفوظ کرنے کیلئے بھی مدد گار ثابت ہوتا ہے۔

ناک سے سانس لینا اس لیے بھی اچھا ہے کہ اس طرح ماحول میں موجود آلودگی فلٹر ہوجاتی ہے اور ہمارے پھیپھڑوں تک نہیں پہنچتی جبکہ آکسیجن بھی بہتر طور پر ہمارے خون میں شامل ہوتی ہے اور یوں ناک سے سانس لینا دل کی صحت کیلئے بھی بہتر ثابت ہوتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آپ منہ کھول کر سانس لیتے ہیں تو اپنی صحت کیلئے بہت سے مسائل پیدا کررہے ہیں ، خصوصاً دل ، پھیپھڑوں اور دماغ کی صحت کیلئے یہ اچھا نہیںہے۔ اول تو منہ سے سانس لینے سے پرہیز کرنا چاہیے، اور دوم یہ کہ ناک کے ذریعے گہری سانسیں لینے کی مشق بھی کرنی چاہیے۔ اس کا سادہ طریقہ یہ ہے کہ ناک کے ذریعے گہری سانس اند رکھینچیں اور پھر منہ کے ذریعے اسے خارج کریں۔ جسم کے اندر سانس پانچ سے چھ سیکنڈ تک کھینچیں، چند لمحے اسے روک کر رکھیں، اور پھر منہ کے ذریعے اسے باہر خارج کریں۔ اس عمل کو بار بار دہرائیں تا کہ مذکورہ بالا تمام فوائد آپ کو حاصل ہو سکیں۔

مزید : تعلیم و صحت