بھارتی مہم جوئی کے خطرناک نتائج

بھارتی مہم جوئی کے خطرناک نتائج

  

آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل اور پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ بھارت آگ سے نہ کھیلے بھارتی مہم جوئی کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے، جنہیں کنٹرول کرنا ممکن نہیں ہو گا، پاکستان کی مسلح افواج ویسا ہی جواب دیں گی جس کا مظاہرہ بھارت پچھلے سال دیکھ چکا ہے، بھارت نے پلوامہ ٹو کا ڈرامہ بھی کر لیا اور اِن ساری کارروائیوں کا مقصد پاکستان کے خلاف مہم جوئی کے لئے سٹیج تیار کرنا ہے، بھارتی قیادت اپنی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کے لئے مہم جوئیوں کو ایک ذریعہ سمجھتی ہے، بھارت نے پاکستان پر عجیب و غریب قسم کے الزامات لگائے جو جھوٹے ثابت ہوئے۔ میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ بھارت رواں سال کنٹرول لائن پر جنگ بندی معاہدے کی1229 مرتبہ خلاف ورزی کر چکا ہے، ایل او سی پر 22سویلین شہید اور 90 سے زائد زخمی ہوئے،پاکستان نے حال ہی میں دو کواڈ کاپٹر مار گرائے ہیں،سینئر بھارتی فوجی قیادت بار بار مبینہ لانچنگ پیڈ سے دراندازی کی بات کرتی ہے۔ یہ بات اس کی پیشہ ورانہ صلاحیت پر بھی سوالیہ نشان چھوڑتی ہے، دُنیا کے سب سے زیادہ ملٹرائزڈ زون میں شامل علاقے میں کوئی کیسے دراندازی کر سکتا ہے، بھارت نے اپنی آرٹلری مقبوضہ کشمیر کے سول علاقے میں تعینات کی ہے تاکہ جوابی کارروائی ہو تو سویلین کو بھی نقصان پہنچے۔ ان کا کہنا تھا پاکستانی فوج بہت بہتر طریقے سے جارحیت کا جواب دے رہی ہے۔

مقبوضہ کشمیر میں نوجوانوں پر جس طرح عرصہئ حیات تنگ کیا جا رہا ہے اس کے جواب میں لاک ڈاؤن کی کرفیو جیسی پابندیوں کے باوجود نوجوان بڑی تعداد میں احتجاج کے لئے باہر نکل رہے ہیں، جو نوجوان شہادتیں قبول کر رہے ہیں اُن کا تعلق کشمیر کے جانے پہچانے خاندانوں سے ہے، ان کے بارے میں یہ بھی معلوم ہے کہ وہ کہاں رہتے اور کیا کام کرتے ہیں،اِس لئے کوئی ہوش مند ان پر یہ الزام تو نہیں لگا سکتا کہ یہ باہر سے آئے ہوئے درانداز ہیں یہ مقامی کشمیری نوجوان ہیں، جن کے دِلوں میں آزادی کا شعلہ موجزن ہے اور وہ اپنی اِس جدوجہد میں کامیاب نظر آتے ہیں، تمام تر تشدد کے باوجود بھارتی فوج ان کی سرگرمیوں کو روکنے میں ناکام رہی ہے اپنی اِس ناکامی سے توجہ ہٹانے کے لئے بھارت نے کشمیر کے محاذ کو مسلسل گرم رکھا ہوا ہے اور جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سویلین آبادی کو بھی گولہ باری کا نشانہ بنایا جاتا ہے، قریبی کھیتوں میں کام کرنے والے کسان بھی نشانہ بنتے رہتے ہیں۔

پاکستان کے ساتھ بھارت کی چھیڑ خانیوں کا یہ سلسلہ تو پرانا ہے،اب اُس نے نیپال، چین کے ساتھ بھی سرحدی تنازعات کا باب کھول دیا ہے،نیپال تو خشکی میں گھرا ہوا مُلک ہے اور کئی امور میں بھارت کا محتاج ہے،لیکن چین نے لداخ کے علاقے میں اس کی جارحانہ کارروائیوں کا جس طرح جواب دیا ہے اس پر اندرونِ مُلک بھی مودی حکومت نکتہ چینی کا نشانہ بن رہی ہے۔بھارت کی اپوزیشن جماعتوں کا خیال ہے کہ قومی سلامتی کے امور کے بارے میں مودی کے مشیر اُنہیں ایسے معاملات میں اُلجھا رہے ہیں،جن کا نقصان بھارت ہی کو ہو گا،پاکستان نے بروقت متنبہ کر دیا ہے کہ مہم جوئی کے نتائج خطرناک ہوں گے، پاک فوج کے ترجمان نے اِس موقع پر یہ یاد دلانا ضروری سمجھا کہ کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے بھارت کو گذشتہ برس کی جارحیت کو ذہن میں رکھنا چاہئے، جب پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے حملہ کیا گیا اور بالا کوٹ کے ”دہشت گردی کے کیمپ“ تباہ کرنے اور ”350 دہشت گردوں“ کو ہلاک کرنے کے بے سروپا دعوے کئے گئے،اِن بے بنیاد دعوؤں کا زمین پر تو کوئی ثبوت نہیں تھا، البتہ بھارتی پائلٹ کی گرفتاری اس کی ناکامیوں کی داستان کھل کر بیان کر رہی تھی، فراخ دِلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان نے اس پائلٹ کو جلد ہی رہا کر دیا،لیکن اس فراخ دلانہ سلوک کا بھی بھارت کی جانب سے کوئی مثبت جواب نہ ملا، بے بنیاد دعوؤں کے سلسلے کو جب کہیں بھی پذیرائی نہ ملی تو بھارت کو بالآخر تسلیم کرنا پڑا کہ اس کے فضائی حملے کے نتیجے میں پاکستان کا کوئی نقصان نہیں ہوا تھا۔27فروری(2019ء) کو بھارت کے اس ڈراؤنے خواب کی یاد دہانی وقتاً فوقتاً اِسی لئے کرانا پڑتی ہے کہ بھارت پاکستان کے خلاف کسی نئی جارحیت سے پہلے سو مرتبہ سوچ لے، بھارتی فوجی قیادت کو یہ تو معلوم ہو چکا ہے کہ پاکستان کے خلاف کسی قسم کی جارحیت کا فوری اور منہ توڑ جواب ملے گا،اِس لئے وہ اب اپنی ناکامیوں کی پردہ پوشی کے لئے کنٹرول لائن پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں کرتا رہتا ہے،لیکن پاکستان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا تو پھر یہ جنگ ایل او سی تک محدود نہیں رہے گی اور اس کا دائرہ وسیع ہو کر پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے، بھارتی جارحیت کی صورت میں اس کے وہ ہمسائے بھی موقع سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں،جن کے ساتھ اس نے سرحدی جھڑپوں اور تنازعات کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے،اِس لئے خود بھارت کے اپنے مفاد میں ہے کہ وہ نہ صرف پاکستان کے خلاف معاندانہ کارروائیوں کا سلسلہ روک کر بہتر تعلقات کا راستہ اپنائے،بلکہ خطے کے مفاد میں اپنے دوسرے ہمسایوں کے ساتھ بھی تنازعات حل کرے، مقبوضہ کشمیر میں مظالم کا سلسلہ بھی بند ہونا چاہئے،دُنیا کو بھی اس ریاستی دہشت گردی کا نوٹس لینا چاہئے، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس متعدد بار اپیل کر چکے ہیں کہ کورونا کی وبا کے اِس زمانے میں ساری دُنیا جنگ بند کر کے اپنی توجہ اِس مہلک وائرس کے خاتمے پر مرکوز کرے، لیکن بھارت اس پر کوئی توجہ نہیں دے رہا اور پہلے کی طرح جارحانہ کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔پاک فوج کے ترجمان نے بھارت کو بہت بروقت خبردار کر دیا ہے، خطے کے امن کے مفاد میں بھارت کو اِس انتباہ پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، جارحیت کے نتائج تباہ کن ہوں گے۔

مزید :

رائے -اداریہ -