سٹیل ملز کے حوالے سے اہم ترین فیصلہ!

سٹیل ملز کے حوالے سے اہم ترین فیصلہ!

  

اقتصادی رابطہ کمیٹی نے بالآخر سٹیل ملز کے ماہانہ نقصان سے بچنے اور اس کی نجکاری کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ دور کرنے کا عزم کرکے فیصلہ کر ہی لیا اور طے کیا ہے کہ سٹیل ملز کے تمام ملازمین کو فارغ کر دیا جائے۔ ملز کے نو ہزار 360ملازمین کو ایک ماہ کے نوٹس پر فارغ کیا جائے گا اور ان کو گولڈن ہیند شیک کی رعائت ملے گی۔ اس مقصد کے لئے رابطہ کمیٹی نے 18ارب روپے کی بھی منظوری دے دی ہے۔یہ سٹیل مل جو ذوالفقار علی بھٹو نے سوویت روس کے تعاون سے تعمیر کرائی تھی۔ ملک کی پہلی اور اہم ترین فیکٹری تھی، اس میں توسیع کا جزو بھی رکھا گیا تھا، سٹیل ملز کا ڈھانچہ ایک وسیع رقبے پر ہے تو اس کے ساتھ ہی بہت زیادہ اراضی بھی مختص ہے۔ اس اراضی کے بعض حصوں پر قبضہ گروپ قابض ہے تو ملازمین کی کالونی بھی بنی ہوئی ہے۔ سٹیل ملز عرصہ سے بند ہے اور کوئی پیداوار نہیں ہوتی۔ یوں یہ سرکاری خزانے پر بوجھ اور بنکوں سے قرض لے کر ملازمین کو تنخواہیں ادا کی جاتی ہیں، ملز کی نجکاری کا کئی بار فیصلہ ہوا لیکن سیاسی وجوہ اور ملازمین کے احتجاج کے باعث ممکن نہ ہوا، اب موجودہ دور میں قومی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کی صدارت میں فیصلہ کیا اور راہ نکالی کہ سب ملازمین کو گولڈن ہینڈشیک کے ذریعے فارغ کر دیا جائے اور یوں یہ کانٹا نکل جائے تو ملز کے مستقبل کا فیصلہ ہو، کچھ عرصہ قبل رشین فیڈریشن نے دلچسپی ظاہر کی تھی کہ وہ ملز بحال کرکے پیداوار شروع کر سکتی ہے، تاہم اس پر بھی کوئی فیصلہ نہ ہوا،اب رابطہ کمیٹی کے فیصلے کی روشنی میں یہ تصور ہے کہ ملازمین کی ذمہ داری ختم ہونے کے بعد ملز کی نجکاری یا کسی دوسرے فیصلے میں آسانی ہوگی، یہ بہتر فیصلہ نظر آتا ہے، اگرچہ اس کی راہ میں بھی مشکلات ہوں گی۔ پہلی بات تو پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے بیان کی صورت میں سامنے آئی ہے اور پھر ملازمین بھی احتجاج کریں گے، جبکہ مل کے اثاثے واگذار کرانا بھی بڑا مسئلہ ہوگا، اگر اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اس فیصلہ پر عمل ہوا تو قومی خزانے کا مستقل بوجھ ختم ہو سکے گا۔

مزید :

رائے -اداریہ -