جہاز کا حادثہ، کورونا وائرس

جہاز کا حادثہ، کورونا وائرس
جہاز کا حادثہ، کورونا وائرس

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


پی آئی اے کا بدقسمت جہاز جو کراچی میں تباہ ہوا ہے اس پر جتنا بھی افسوس اور دکھ کا اظہار کیا جائے وہ کم ہے اس جہاز کے مسافروں کو جب یہ معلوم ہوا کہ ہم اب نہیں بچ سکتے تو ان مسافروں کی حالت اس چند منٹ کی ویڈیو میں دیکھی جا سکتی ہے جس میں بے چارے مسافر بے یارو مدد گار رَو رَو کر اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگ رہے ہیں لیکن آناً فاناً جہاز گر جاتا ہے اور دو مسافروں کے بچ جانے کا معجزہ ہے یہ اللہ تعالیٰ کو اختیار ہے کہ وہ جو چاہے کر سکتا ہے لیکن اس چند منٹ کی ویڈیو کو دیکھ اور سن کر شائد ہی کسی کے آنسو نہ نکلے ہوں بہر حال بہت ہی افسوس ناک حادثہ وہ بھی عید کے موقع پر ہوا اللہ تعالیٰ شہید ہونے والوں کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے لواحقین کو صبر جمیل عطا کرے اس حادثہ کا کون ذمہ دار ہے کس کی کوتاہی ہے یہ تو انکوائری کرنے والے ہی بتائیں گے ویسے تو پاکستان میں کافی جہازوں کے حادثات ہو چکے ہیں کسی کی رپورٹ شائع نہیں ہوئی افسوس ناک خبر کہ ان سابقہ حادثات میں شہید ہونے والے لواحقین کو معاوضہ تک نہیں ملا شائد وہ بھی عدالتوں کے حکم امتناع پر رکا ہوا ہے وزیر اعظم عمران خان نے اعلان کیا ہے کہ وہ تمام جہازوں کے حادثات پر ہونے والی رپورٹوں کو پبلک کر دیں گے مگر شائد اب بہت دیر ہو چکی ہے کئی سالوں سے دبائی گئی انکوائریوں میں ذمہ دار لوگ مر کھپ گئے ہوں گے یا گم نام ہو چکے ہیں بہر حال اس موجودہ واقعہ کی رپورٹ ضرور آنی چاہئے اور ذمہ داروں کے خلاف سخت سے سخت ایکشن بھی ہونا چاہئے اور لواحقین کو فوری معاوضہ ادا کیا جائے باقی ساری دنیا میں کورونا وائرس نے ترقی یافتہ ملکوں کے تکبر اور غرور کو مٹی میں ملا دیا ہے اور ترقی پذیر ملک عوام تو پہلے ہی مختلف حوالوں سے پریشان ہیں، دوسرے ملکوں کی طرح پاکستان میں بھی کورونا وائرس سے عوام بیمار ہو رہے ہیں حکومت نے اس بیماری سے عوام کو محفوظ رکھنے کے لئے لاک ڈاؤن بھی کیا جو کئی ہفتے تک جاری رہا لاک ڈاؤن کے باوجود عوام نے اپنی مصروفیت کم نہیں کی چونکہ بے شمار لوگوں کا دوکانداروں کا مزدوروں کا اور کچے ملازمین کا دارو مدار روز کمانا اور روز کھاتا ہوتا ہے حکومتی اداروں اور دوسرے پرائیویٹ اداروں اور مخیر حضرات نے ہر طرح سے ضرورت مند لوگوں کی امداد کی لیکن اس کے باوجود وہ نہ ہو سکا جو عوام کے لئے ہونا چاہئے تھا حکومتی ادارے اربوں کی امداد کا اعلان کرتے ہیں ساری صوبائی حکومتیں بھی اربوں روپوں کی امداد کا اعلان کر رہی ہیں اور امداد لینے والے شائد بہت ہی گم نام لوگ ہیں یا امداد دینے والوں نے اپنے خاص خاص لوگوں کو نوازا ہے میرا بھی علاقہ ٹاؤن شپ اور اردگرد گرین ٹاؤن، فیصل ٹاؤن، جوہر ٹاؤن وغیرہ ہے، یہاں پر جو حق دار غریب اور دہاڑی دار مزدور دوکاندار جن کی دوکانیں عید سے پہلے بند تھیں ان کو تو شائد کچھ نہیں ملا میں حکومتی اعلانات پر یقین کر رہا ہوں کہ انہوں نے اربوں روپے تقسیم کئے ہیں قومی خزانے سے نکلے ہیں ان کا حساب 5، 7 سال بعد ہو گا اگر نیب اور ایف آئی اے کو ختم نہ کردیا گیا، یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو رہی ہے کہ سابقہ کرپشن کے بادشاہوں کے خلاف ایکشن زیرو ہو گیا ہے۔ ملک کی حالت بہت ہی افسوس ناک ہے مہنگائی نے عوام کا جینا مشکل کر دیا ہے عوام کو کورونا کی پریشانی اور اپنے بچاؤ کی فکر تو بہت ہے لیکن زندہ رہنے کے لئے ان کو روز گار، کھانے پینے کی اشیاء کی ضرورت ہے پاکستان میں اچھے دماغ نہیں یا اچھے کام کرنے والے ختم ہو گئے ہیں کیونکہ کوئی بھی معاشرہ قحط الرجال یا بانجھ پن کا شکار نہیں ہوتا اصل المیہ یہ ہے کہ ہم اچھے ذہن اور اچھے کردار کے لوگ جو واقعی اچھے شعبوں میں بڑی نوعیت کے کام کر رہے ہیں یا کرنا چاہتے ہیں ان کو دیوار سے لگا دیا گیا ہے ان کی پذیرائی کے مقابلے میں من پسند افراد جو چاپلوس بھی ہوں اور یرغمال بننے کا حوصلہ رکھتے ہوں وہ ہماری ترجیحات کا حصہ بن جاتے ہیں کوئی بھی معاشرے کی سمت کسی بڑے دباؤ کی سیاست کے بغیر درست نہیں ہوتی جبکہ ہمارے دباؤ کی سیاست اختیارات اور وسائل کی جنگ کو اپنی ذات اور خاندان تک محدود کرنے سے جڑی ہے ہماری ریاست، حکومتوں، سیاستدانوں، پالیسی ساز اداروں انتظامی آفیسران اہل دانش اور میڈیا رائے عامہ بنانے والے افراد اور اداروں کو اپنی موجودہ روش سے چھٹکارا حاصل کرنا ہوگا کیونکہ موجودہ طرز حکمرانی، نظام اپنی افادیت کھو چکا ہے 18 ترمیم کے بعد جو ہمیں لولی پوپ دیا گیا کہ اختیارات نچلی سطح تک منتقل ہوں گے اور لوگ خوشحالی کے ثمرات سے مستفید ہوں گے محض نعرہ ہی ثابت ہوا اصل جنگ اس ملک کے اہل دانش نہیں فکری محاذ پر لڑ کر معاشرے کے دیگر طبقات میں ایک متبادل ترقی، نظام کی سوچ اور فکر کو بیدار کرنا ہوگا اس طرح عوامی سطح پر بھی لوگوں کو حکمران اور با اثر طبقات سے گٹھ جوڑ کرنے کی بجائے ایک پر امن، منظم سیاسی اور سماجی جدوجہد کی طرف خود کو پیش کرنا ہوگا اس وقت اصل مسئلہ سماجی ڈھانچہ کو مضبوط بنانا ہے مسئلہ مایوسی کا نہیں بلکہ اس وقت جو برے حالات ہیں ان سے نمٹنے کے لئے ان حالات کو اپنے لئے موقع سمجھ کر اور مضبوط اعصاب کے ساتھ اپنی آواز اٹھانی ہو گی ایسا نہیں کہ حالات بدل نہیں سکتے سب کچھ بدل سکتا ہے اگر ہم لوگوں کو سیاسی، سماجی طور پر اس بات پر قائل کر لیں کہ یہ نظام عام آدمی کے مقابلے میں طاقتور طاقتوں کا ہے اور اس کو توڑے بغیر ہم عام آدمی کا مقدمہ نہیں جیت سکیں گے تو ایک بہتر سماج کی تشکیل کی طرف پیش قدمی کا آغاز ہو سکتا ہے پاکستان میں عمومی طور پر جو کچھ ہو رہا ہے اس کا دائرہ کار طاقتور مراکز کے درمیان جاری باہمی کشمکش، تلخی، عدم توازن اور طاقت کو اپنے مفادات کے تحت قائم کرنے کی جنگ سے جڑا نظر آتا ہے بد قسمتی سے معاشرے میں جو جنگ یا جدوجہد سیاسی، سماجی اور اہل دانش کی سطح پر ہو رہی ہے اس کا مرکز عام لوگوں یا محروم طبقات کو مضبوط کرنے کا عمل نہیں بلکہ اپنے مخصوص مفادات یا من پسند افراد یا گروہ کو طاقت فراہم کرنا ہے معاشرے کے وہ طبقات، یا با اثر گروہ جو سماج کو بدلتے ہیں اور روائتی ترقی کے مقابلے میں متبادل ترقی کی جدوجہد کرتے ہیں وہ بھی ان با اثر اور طاقتور مرکز کے درمیان باہمی گٹھ جوڑ کا شکار ہو گئے ہیں وہ طبقہ جو عمومی طور پر ریاست حکومت اور اداروں سمیت معاشرے کے بالا دست طبقات پر عوامی اور قومی مفادات کے تحت دباؤ بڑھانے کی سیاست کرتا ہے وہ بھی کہیں گم ہو گیا ہے جو کچھ لوگ یا ادارے اپنی اپنی سطح پر چھوٹی چھوٹی آوازیں اٹھا رہے ہیں وہ اتنے با اثر نہیں ہیں یا ان کے پاس وہ طاقت نہیں ہے جو واقعی سماج میں ایک بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکے ہم عمومی طور پر سیاست اور جمہوریت کی حمایت اس لئے بھی کرتے ہیں کہ وہ عام آدمی کو فیصلہ سازی، اقتدار کی شراکت، وسائل کی منصفانہ تقسیم، عدم تفریق، انصاف روزگار، تحفظ سمیت بنیادی نوعیت کے حقوق کی فراہمی میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے یہی وجہ ہے کہ ہم جمہوریت اور قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں اور اس کو تحفظ دینے یا اسے مضبوط کرنے کی جدوجہد کرتے ہیں لیکن اب اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہاں جمہوریت، انصاف، قانون کی حکمرانی سمیت عوامی مفادات کی سیاست، نعرے، دعوے اور ساری جدوجہد لوگوں کا اعتماد حاصل کرنے میں ناکام ہو رہی ہے لوگوں کی مجموعی تعداد واقعی اس نظام سے نالاں بھی ہے اور بہت سے کمزور طبقات میں غصہ، نفرت، تعصب اور لا تعلقی کا عمل بھی مضبوط ہوتا جا رہا ہے چونکہ عوام کی خواہشات تھیں کہ شائد یہ حکومت سابقہ حکمرانوں سے کچھ مختلف قسم کے اقدامات کر کے ملک اور عوام کے لئے بہتر اقدامات کر سکے، ہاں میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ وزیر اعظم عمران خان کرپٹ اور بے ایمان نہیں ہے وہ ملک اور عوام کے لئے کچھ کرنا چاہتا ہے لیکن تقریباً 50, 60 سال کی ملک میں پریکٹس اور پالیسیاں اور قوانین اور کچھ معزز لوگ اس میں رکاوٹ بن جاتے ہیں ہم اس طرز عمل پر عملاً لوگوں سے نالاں ہوتے ہیں کہ وہ قوم ریاست اور ملک کے وفادار نہیں ہوتے لیکن ہماری اور حکمران طبقات سمیت طاقتور طبقہ یہ ماننے کے لئے تیار نہیں کہ یہ ناکامی لوگوں کی نہیں بلکہ اس نظام کی ہے جس کی بھاگ ڈوراس طاقت ور طبقہ کے پاس ہے کیونکہ جو حکمرانی کا نظام انہوں نے قائم کر دیا ہے وہ غیر منصفانہ، غیر شفاف اور استحصال پر مبنی ہے مسئلہ کسی ایک جماعت کا نہیں بلکہ مجموعی طور پر ہم سب طاقتور اور با اثر افراد اس ناکامی کے ذمہ دار ہیں جو ہمیں معاشرے میں بڑی ناہمواری پر مبنی تقسیم کی صورت میں نظر آتی ہے یہ جو ہمارے سیاسی انتظامی ادارے ہیں اس میں جس انداز سے عوام دشمنی پر مبنی طرز حکمرانی کے نظام کو تقویت دی جاتی ہے وہ ہی سب سے بڑی خرابی پیدا کرنے کا سبب بن رہا ہے کوئی بھی مہذب معاشرہ یا وہ سماج جو واقعی لوگوں کو ساتھ لے کر چلتا ہے چلنا چاہتاہے وہ اس طرح ہی ہوتا ہے جس طرح میرے ملک میں کورونا وائرس پھیلنے اور اس کو روکنے کے لئے ہو رہا ہے اربوں، کھربوں کی امداد کے اعلانات لیکن عوام بے خوف و خطر اپنی روزی کمانے کے لئے گھروں سے باہر بغیر کسی حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کے موجودہ حالات کو سامنے رکھتے ہوئے عوام کی لاپرواہی کی وجہ سے اگر خدانخواستہ، خدا نخواستہ پاکستان میں بھی بیرونی دنیا کی طرح کورونا وائرس پھیلنے لگا تو پھر تو ملک کے حالات بہت گھمبیر ہو سکتے ہیں۔ حکومتی لوگ ہر حال میں عوام کو بتائیں کہ وہ کس طرح احتیاط کریں اور کورونا وائرس سے بچیں تمام سیاسی پارٹیوں کو کورونا پر ایک ہو کر کام کرنا ہوگا تمام ترجمان ملک اور عوام کی بات کریں ذاتیات کا کاروبار بند کریں۔

مزید :

رائے -کالم -