یوم تکبیر سے تکلیف

یوم تکبیر سے تکلیف
یوم تکبیر سے تکلیف

  

نیا پاکستا ن انتظامیہ کو چونکہ ہر طرح کی سیاسی علامتوں پر حملوں کا ٹاسک دیا گیا ہے اس لیے ان کے کسی غیر متوقع اقدام پر حیرانی کی ضرورت نہیں۔ہا ں مگر افسوس کیا جا سکتا ہے۔28مئی ملکی تاریخ میں 14اگست کے بعد دوسرا بڑا دن ہے۔ پاکستان نے ایٹمی دھماکے کر کے خود کو عالمی نیوکلیئر طاقت کے طور پر منوایا۔عالم اسلام کی پہلی ایٹمی طاقت نے جہاں مسلم دنیا کو سر شار کردیا،وہاں دشمنوں پرہیبت طاری ہوگئی۔ قیام پاکستان کے فوری بعد سے ہی سیاست میں غیر سیاسی عناصر کی مداخلت نے آ ج تک صحیح جمہوری کلچر پروان چڑھنے نہیں دیا۔ عام اخلاقی اقدار کو بھی بری طرح سے پامال کیا گیا اور کیا جا رہاہے۔ 28مئی سے کچھ دن پہلے حکومت کے ترجمانوں نے یہ مضحکہ خیز راگ الاپا کہ ایٹمی دھماکوں کا کریڈٹ کسی اور کو نہیں بلکہ سائنسدانوں اور انجینئرو ں کو جاتا ہے۔

اس موقف پر طرح طرح کے دلچسپ تبصرے بھی ہوئے۔ یوم تکبیر آیاتو سرکاری سطح پر سرے سے کوئی تقریب ہی منعقد نہ کر کے نہ چاہتے ہوئے بھی یہ پیغام دیا گیا کہ حکومت اس معاملے پر تکلیف محسوس کر رہی ہے۔ اپنے دور حکومت میں ایٹمی دھماکے کر کے کریڈٹ لینے والی مسلم لیگ ن نے اپنے طور پر تقریبات منعقد کیں،حکومت کی جانب سے پورادن خالی گیا۔شام ساڑھے5بجے کے قریب ڈی جی آئی ایس پی آر نے اس حوالے سے بیان جاری کیا تو سب کو پتہ چل گیاکہ حکومتی ترجمانوں کا بیانیہ ہی ریاست کا بیانیہ ہے یعنی سائنسدانوں اور انجینئروں کو سلام، اس پر لوگوں نے جوابی تبصرے بھی خوب کیے، یوں الفاظ کی جنگ کا یہ رونق میلہ آج تک جاری ہے۔ پاکستا ن کے اصل ایٹمی ہیروصرف اور صرف سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹوہیں جنہیں اس پروگرام کی بنیا درکھنے اور مسلم بلاک کیلئے اسی طرح کے کچھ اورعملی اقدامات کرنے کے باعث تختہ دار پر جھولنا پڑا۔ذوالفقار علی بھٹو نے 1974ء میں بھارتی ایٹمی دھماکوں کا جواب دینے کیلئے بم بنانے کافیصلہ کیا تو ہالینڈ سے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو بلایا گیا۔یوں اس عظیم منصوبے پر کا م شروع ہو گیا۔

اس وقت پیپلز پارٹی کے بجائے کسی اورکی حکومت ہوتی اور وہ ایٹم بم بنانے کا جرأت مندانہ فیصلہ کر لیتی تب بھی یہ بم فوج کے حوالے ہی کیا جانا تھا۔ظاہر ہے کہ ایٹم بم فوج کے سوا کو ئی اور استعمال کرہی نہیں سکتا۔سو یہ قوم کے ساتھ پاک فوج کیلئے سب سے بڑا تحفہ ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کو سزائے موت دینے کے بعد فوجی آمر جنرل ضیاء الحق نے بھی اس پر کا م جاری رکھا،افغانستان میں روسی جارحیت اور اس پر ہونے والے عالمی رد عمل نے ہماری اسٹیبلشمنٹ کو خوب موقع دے دیا کہ نیو کلیئر پروگرام پر کا م جاری رکھے بلکہ تیز کر دے کیونکہ امریکہ اور مغر ب اس حوالے سے فیصلہ کن دباؤ ڈالنے کی پوزیشن میں نہیں تھے،بالآخر 1984ء میں وہ موقع آیا جب سائنسدانوں نے بم تیار کرنے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ کولڈ ٹیسٹ بھی کرلیے گئے ہیں اس کے بعد بھارت کو خبر دار کرنے کیلئے کبھی ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور کبھی کچھ اور ذرائع سے بیانات دلوائے گئے کہ اب ہم بھی ایٹمی طاقت ہیں،تاہم پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے ایٹمی دھماکے کرنے کا سوچا تک نہیں۔ جنرل ضیاء الحق 1988ء میں ایک پر اسرار فضائی حادثے میں کئی اور بڑے افسروں اور امریکی سفیر سمیت ملک راہی عدم ہوئے۔ بے نظیر بھٹو وزیر اعظم بنیں تو ان کے دونوں ادوار میں بھی نیو کلیئر پروگرام اور ایٹمی اسلحے پر پیش رفت جاری رہی، وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے آگے بڑھ کر شمالی کوریا سے میزائل ٹیکنالوجی حاصل کرنے کی راہ بھی ہموار کی۔اسی طرح نواز شریف نے بطور وزیر اعظم اپنے پہلے 2ادوار میں پاکستا ن کو دفاعی لحاظ سے مضبوط بنانے کیلئے جے ایف تھنڈر لڑاکا جہاز کا معاہدہ کیا،ایٹمی و میزائل پروگرام بھی چلتا رہا۔

ایسا ہر گزنہیں تھا کہ جنرل ضیاء الحق کے آمرانہ دور اور بے نظیر و نواز شریف کی سول حکومتوں کے دوران اس حوالے سے ہونے والی سرگرمیاں عالمی برادری سے مکمل طور پر مخفی تھیں سچ تو یہ ہے کہ دنیا کو بہت ساری باتوں کا علم تھا،یہاں تک کہ 1996ء میں وائس آف امریکہ نے یہ رپورٹ جاری کی کہ پاکستان بلوچستا ن میں چاغی کے مقام پر پہاڑ کھوکھلا کرکے ایٹمی دھماکے کی تیاری کررہا ہے۔اس حوالے سے مختلف ادوار میں طرح طرح کے دباؤ آتے ر ہے۔ بالآخر بھارت نے 1998ء میں دوسری بار ایٹمی دھماکے کرکے پاکستان کو موقع فراہم کردیا کہ اب وہ علانیہ جواب دے سکے۔ مسلم ملک ہونے کے باعث پاکستان پر جواب نہ دینے کیلئے بے تحاشا دباؤ تھا۔ امریکہ کی تاریخ میں شایدہی کسی صدر نے کسی دوسرے ملک کے حکمران کو کسی کام سے باز رکھنے کیلئے اوپر تلے پانچ فون کیے ہوں۔بھاری مالی امداد کی بھی پیشکش کی گئی۔امریکہ کے صدر کا کیا ذکر،ان کے چھوٹے عہدے دار کا دباؤ کیا ہوتا ہے اس کامشاہد ہ پوری قوم نے مشرف دور میں کیا جب آرمیٹج کے فون پر جنرل مشرف ڈھیر ہو کر فی الفور تمام شرائط ماننے پر مجبور ہو گئے تھے۔ نواز شریف پر بھی دباؤ تھا جو صر ف امریکہ نہیں بلکہ دنیا کے تما م بڑے ممالک کی جانب سے ڈالا جا رہا تھا۔ پاکستان میں بھی ایک حلقے کا خیال تھا کہ بھارت کے ایٹمی دھماکے ہمارے لیے ٹریپ ہے،ہندوستان نے اپنے تمام داخلی، خارجی اور مالی انتظامات مکمل کرنے کے بعد دھماکے کیے۔چانکیہ کے چیلے جانتے تھے پاکستان ہر صورت جواب دے گا۔ انہیں یقین تھا کہ ملک کا ڈھانچہ اور معیشت بیٹھ جائے گی اور یہ تباہ کن ثابت ہو گا اسی لیے بھارتی دھماکوں کا جواب دینے کیلئے جب پورے ملک میں مطالبہ زور سے دوہرایا جانے لگا تو بعض دانشوروں نے سامنے آ کر دھماکے کی مخالفت کی اور موقف اختیار کیا کہ ہمارے پاس ایٹم بم موجود ہیں کوئی ہم پر حملہ نہیں کرسکتا۔ اب بہتر ہو گا کہ امریکہ و عالمی برادری سے بڑی رقم لے کر اقتصادی محاذ کو ناقابل تسخیر بنایا جائے۔

باقی شخصیات کا ذکر ہی کیا خود اس وقت کے آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت کھلے عام ایسی ہی رائے کا اظہار کرتے پائے گئے۔ ڈان کے سابق ایڈیٹر اور ملک کے نامور صحافی ضیاء الدین راوی ہیں کہ ان دنوں ایک سفارتی تقریب میں جنرل کرامت نے میڈیا کے سامنے کھل کر کہا کہ ہم جوابی ایٹمی دھماکے کر کے عالمی رد عمل برداشت نہیں کر سکتے اور ایسی صورت میں ملک کا ڈھلوان کی طرف سفر شروع ہو جائیگا۔ ادھر سول حکومت تھی کہ بار بار یہی کہہ رہی تھی کہ ایٹمی دھماکوں کے متعلق فیصلہ صرف اپنے قومی مفاد کے تحت کرینگے۔ اس کے ساتھ ساتھ تیاریاں جاری تھیں۔ قومی اخبارات میں ذرائع سے مسلسل خبریں شائع ہو رہی تھیں کہ دھماکے ہونگے۔ ڈاکٹر ثمر مبارک مند نے ایٹمی تجربات کے بعد بتایا کہ وزیراعظم نواز شریف نے انہیں بلا کر کہا تھا کہ جتنے دھماکے بھارت نے کئے ہیں ہم اس سے زیادہ کرینگے۔ 28 مئی کا وہ مبارک دن آیا کہ جب ایٹمی دھماکے ہوئے اور پوری دنیا میں یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ ملک کے اندر تو بے پناہ جوش و خروش تھا ہی بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے بھی کہا کہ ہم خود کو ایک فاتح قوم کے سپوت سمجھ کراپنے آپ پر فخر کر رہے تھے۔بعض احباب کا خیال ہے کہ دھماکے عوامی دباؤ کے باعث ہوئے۔عظیم صحافی مجید نظامی بھی اس حوالے سے نواز شریف کے ساتھ اپنی گفتگو کا بار بار حوالہ دیا کرتے تھے۔حقیقت یہ ہے کہ مجید نظامی ہوں یا کوئی اور، دھماکے کرنے کی حامی تمام شخصیات نے عوامی جذبات کی نمائندگی کی۔ان میں کوئی بھی فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھا۔نواز شریف بھی اس وقت جنرل جہانگیر کرامت کے موقف سے ہم آہنگ ہوجاتے تو ایٹمی دھماکوں کا معاملہ ٹالا بھی جا سکتا تھا۔منتخب وزیر اعظم اور آرمی چیف ایک پیج پر ہوں تو پھر عوام کی کون سنتا ہے۔دلائل گھڑ کر پروپیگنڈا کے ذریعے رائے عامہ کو ٹھنڈا کرنے میں آخر کتنا وقت لگتا ہے۔پاکستان میں لاتعداد بار عوامی جذبات کے بالکل برخلاف فیصلے کیے گئے۔

اس وقت بھی ایسا ہو سکتا تھا۔ایٹمی دھماکے کرنے کا کریڈٹ بہر طور نواز شریف کا ہی ہے۔ڈاکٹر عبدالقدیر ایٹمی پروگرام کے باپ اور محسن پاکستان ہیں۔قائد اعظمؒ،علامہ اقبالؒ کے بعد پاکستان کی تیسری محترم شخصیت جس کا نام تا قیامت زندہ رہے گا۔دیکھنا اب یہ ہے کہ ایٹم بم بنانے کے بعد ہم نے آگے کیا کرنا تھا مگر کیا کررہے ہیں۔کیا ہمارا دفاع واقعی ناقابل تسخیر ہو چکا۔کارگل لڑائی کے دوران ہمیں ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کو خطرہ محسوس ہو ا کہ پاکستان اور بھارت میں جنگ ہو سکتی ہے۔اس وقت کے آرمی چیف جنرل مشرف نے ٹھوس معلومات کی بنیاد پر وزیر اعظم نواز شریف سے رابطہ کرکے ہنگامی طور پر امریکہ جانے اور صدر کلنٹن سے مداخلت کرنے کا کہا۔اس کا کھلا مطلب ہے کہ مکمل جنگ کا خطرہ موجود تھا۔پھر ہم نے دیکھا کہ نواز حکومت کا تختہ الٹ کر آنے والے جنرل مشرف نائن الیون کے بعد تمام امریکی شرائط کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کے بعد بار بار کہتے رہے کہ ایسا کرکے ہم نے اپنا ایٹمی پروگرام اور کشمیر کاز کو بچا لیا۔ کشمیر کا تو جو ہو ا سو ہوااور اب تک ہو رہا ہے۔ ایٹمی پروگرام کے حوالے سے بھی خود مشرف کے ناقدین ٹھٹھہ اڑاتے رہے کہ جو چیز ہم نے اپنی حفاظت کے لیے بنائی ہے۔اب ہمیں خود اس کی حفاظت کرنا پڑ رہی ہے۔ستم ظریفی یہ کہ اسے کارنامہ بنا کرپیش کیا جا رہا ہے۔تیسرا اہم ترین موقع پچھلے سال اگست میں اس وقت آیا جب بھارت نے عالمی برادری اور قرار دادوں کی پروا کیے بغیر مقبوضہ کشمیرکی خصوصی حیثیت ختم کر کے ہڑپ کرنے کا اعلان کردیا۔ پاکستان نے سفارتی سطح پر کوششیں ضرور کیں مگر کچھ خاص اثر نہ ہو سکا۔بھارت کا یہ اقدام صریحاً خطے میں دعوت جنگ کے مترادف تھا۔ پاکستان میں بھی ایک بڑے حلقے کا مطالبہ تھا کہ ہمیں جنگ کرنی چاہیے،مگر خطے کے حالات اور عالمی صورتحال کے پیش نظر یہ معاملہ اب کہیں کہیں میڈیا کی حد تک ہی رہ گیا ہے۔

اب رہ گئی یہ بات کہ محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے بیانات مختلف اوقات میں الگ الگ کیوں ہوتے ہیں تو سادہ سی بات ہے انہیں ہمارے ہی کچھ مہربانوں نے دنیا میں مشکوک بنا دیا ہے۔وہ ایک سائنسدان ہیں، مہذب اور شریف النفس شخصیت جنکا دل عوامی خدمت کے جذبے سے بھرا ہوا ہے۔پاکستان آئے تو بھٹو کو ضیاء الحق کے حکم پر پھانسی لگتے دیکھا تو ان پر کیا گزری ہو گی؟ طرح طرح کے بے رحمانہ ہتھکنڈے اور تماشے دیکھتے ایک مدت گزری تو خود کو حالات کے مطابق ڈھال کر وقت گزارنے کی پالیسی بناناپڑی، پاکستان کا ہر شہری ڈاکٹر صاحب کی اس کیفیت کو سمجھ سکتا ہے۔ اب شریف خاندان زیر عتاب ہے تو زمینی صورتحال دیکھ کر ہی تبصرہ کرنا پڑتا ہے۔ایٹمی دھماکوں کے وقت سے سائنسدانوں کے آپس میں کچھ مسائل رہے ہیں۔نواز شریف نے بطور وزیراعظم اس وقت بھی سائنسدانوں کے اختلافی بیانات پر ناپسندیدگی کا اظہارکیا تھا۔ اس حوالے سے بھی باتیں ہوتی رہی ہیں۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو نواز شریف سے گلہ رہا کہ ایٹمی دھماکوں والے دن اور بعد سرکاری تقریبات میں انکی وہ پذیرائی نہیں کی گئی جس کے وہ حقدار تھے، ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا تازہ ارشاد یہ ہے کہ ایٹمی اور میزائل پروگرام آگے بڑھانے کے لیے ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو جیسے جرأت مند لیڈروں کی ضرورت ہے۔

یہ بات درست ہے مگر ان کے پورے بیان کو موجودہ ماحول کے تنا ظر میں دیکھ کر مکمل رعایت دی جانی چاہیے۔بھارت نے اپنے ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدلکلام کو صدر جمہوریہ بنا کر اظہار تشکر کیا۔ہم نے ڈاکٹر عبد القدیر کو آج تک قیدی بنا کر گھر تک محدود کیا ہوا ہے۔ذوالفقار علی بھٹو،بے نظیر بھٹو،نواز شریف،ڈاکٹر عبدالقدیر کے ساتھ جو ہوا سب کے سامنے ہے۔ثاقب نثار نے اپنے دور میں ایٹمی پروگرام کے ایک انتہائی اہم کردار ڈاکٹر ثمر مبارک مند کو طلب کر کے خوب رگڑا۔نیب کے حوالے کرنا چاہتے تھے لیکن شایدبعد میں کہیں سے پیغام آگیا فی الحال اتنا ہی کافی ہے۔1998ء کے ایٹمی دھماکوں کے حوالے سے دلچسپ بات یہ ہے کہ نواز شریف کی مخالفت کرنے والے بھی اس وقت کے آرمی چیف جنر ل جہانگیر کرامت کے کردار کا کو ئی ذکر نہیں کرتے۔

مزید :

رائے -کالم -