خبردار! مسلمانوں کا اپنا ایک ہی ادارہ ہے

خبردار! مسلمانوں کا اپنا ایک ہی ادارہ ہے
خبردار! مسلمانوں کا اپنا ایک ہی ادارہ ہے

  

لیکن پہلے کرونا کی ایک بالکل سچی داستان سنیے۔ اس کے ایک ایک کردار سے میں واقف ہوں۔ بڑی حد تک اس داستان کے متاثرین میں سے میں خود بھی ہوں۔ میرے قریبی پڑھنے والے خوفزدہ نہ ہوں۔ میں واقعات سے متاثرہ افراد میں سے ہوں، کرونا سے نہیں۔ راشد کی عمر پینتیس چالیس سال ہے۔ وہ ایک دفتر میں ملازم ہیں۔ رمضان سے ذرا پہلے انہیں سردرد ہوا۔ پھر پیٹ خراب ہوا۔ پھر ایک ایک کرکے دیگر علامتیں متعلق بہ کرو نا ابھرتی چلی آئیں۔ تقریبا ایک ماہ کے اس عرصے میں وہ دفتر جاتے رہے۔ اپنے گھر کے افراد سیمعمول کے مطابق ملتے جلتے رہے۔ تاوقتیکہ عید سے ذرا پہلے موصوف کا سینہ بند اور سانس لینے میں انہیں دشواری محسوس ہونے لگی۔ ٹیسٹ کرایا تو کرونا ظاہر نہیں ہوا لیکن علامتیں اور جسم کی حالت تشویشناک حد تک چلی گئیں۔ سانس بگڑنے تک کے عرصے میں وہ خاندان کے درجنوں افراد، بشمول اپنے بیوی بچوں، کے ساتھ حسب معمول ملتے جلتے رہے اور یہ درجنوں افراد مزید درجنوں افراد سے اور وہ درجنوں افراد مزید۔۔۔۔۔۔! راشد کے تیماردار کا بیان ہے کہ تجربے کے طور پر میں نے دو افراد کو شہر کے سب سے بڑے سرکاری اسپتال پمز میں کرونا ٹیسٹ کو بھیجا تو پانچ منٹ کے اندر وہ کرونا کے منفی نتائج کی سند لے کر ہنستے ہوئے واپس آگئے:

شربت دینار ہے یا شربت مکھیار ہے

یہ ہمارے شہر کا سب سے بڑا بازار ہے

معلوم نہیں پمز میں ایسی کون سی فلاحی ریاست قائم ہو چکی ہے جو عام مزدوروں کو مفت میں کھڑے گھاٹ ایک انتہائی قیمتی ٹیسٹ پانچ منٹ میں کر دیتا ہے۔ یہ عیاشی تو ترقی یافتہ ممالک کے اسپتالوں کو بھی حاصل نہیں ہے۔ چنانچہ ان صاحب نے راشد کا نیا ٹیسٹ شفاانٹرنیشنل سے کوئی دس پندرہ ہزار روپے میں کرایا تو کرو نا ظاہر ہو گیا۔ سب کے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔ لیکن حیرت انگیز بات یہ کہ راشد کے درجنوں سیکڑوں متعلقین کو کچھ بھی نہیں ہوا۔ راشد کو ایک الگ گھر میں تخلیہ کرایا گیا، ہرکسی کا داخلہ بند کر دیا گیا، ضرورت کی تمام چیزیں یکمشت رکھ دی گئیں۔ کھانا وغیرہ وقت مقررہ پر احتیاطی تدابیر کے ساتھ باہر رکھ دیا جاتا۔ راشد کا علاج اس ڈاکٹر سے شروع ہوا جو خود کرونا کا شکار رہ چکا تھا۔ دو دن بعد تخلیے میں راشد کی حالت بہت بگڑ گئی۔ اب راشد نے کرونا سے متعلق ہیلپ لائن اور دیگر متعلقہ اداروں کو خود فون کیا۔ گھر نمبر، گلی نمبر سب کچھ بتایا۔ایک دفعہ، دو دفعہ لیکن مجال کہ کسی ادارے نے نوٹس لیا ہو۔ تیماردار نے شہر میں کرونا کے تینوں اسپتالوں میں داخلے کی کوشش کی۔ کلثوم اسپتال اور پمز نے تو سننے سے انکار کر دیا کہ انتہائی پہنچ والی کوئی ریاستی سفارش لاؤ۔ شفا انٹرنیشنل میں اول تو کوئی جگہ نہیں تھی اور اگر کبھی خالی ہوتی بھی تو اس کے اخراجات کے لیے مریض کے پاس کم از کم دو تین پٹرول پمپ ہونا لازم ہے۔سرکاری ہدایات پر عمل کی غرض سے تیماردار نے ڈپٹی کمشنر اور آئی جی پولیس کے عملے کو ٹٹولا۔جی ہاں! احتیاط سے ٹٹولا تو معلوم ہوا: " جو کچھ کر رہے ہیں، وہی کرتے رہیں,اللہ سے دعاگو رہیں, پنگا کریں گے تو آپ کا سارا گھر اور سارا محلہ بند اور مقفل کر دیا جائے گا۔"

راشد کی حالت بہت بگڑ گئی۔ تخلیے اور تنہائی میں رہنے کے باعث ان کی افسردگی اور مایوسی بھی بڑھ گئی۔ چنانچہ اہل خانہ نے دوسری حکمت عملی اختیار کی۔ گھر کا ایک حصہ مکمل الگ کرکے اپنے گھر ہی کو خلوت گاہ بنا لیا گیا۔ تمام احتیاطی تدابیر پر عمل کے ساتھ علاج جاری رکھا گیا۔ کرونا کے شکار راشد کے ڈاکٹر نے علاج میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ چنانچہ ایک ہفتہ قبل راشد خود گاڑی چلا کر ڈاکٹر کے پاس گئے۔ ڈاکٹر نے چند ٹیسٹ کرانے کی ہدایت کی، عمل کیا گیا، ہر چیز توقع کے مطابق درست نکلی۔ اب راشد اگر فی الحال معمول کی زندگی بسر نہیں کر رہے تو اس کے قریب ضرور پہنچ چکے ہیں۔ میں نیان کے تیماردار سے یہ ساری داستان سنی۔ راشد سے میرا اپنا فون پر رابطہ ہے۔ اور یہ جو کچھ ہوا, میں نے من و عن آپ کے سامنے رکھ دیا تاکہ آپ غور کرکے مجھے بتائیں کہ اس قصے میں ریاستی اداروں کا عمل دخل کتنا ہو سکتا تھا۔ہوتا تو کیا ہوتا؟ اب جبکہ یہ عمل دخل نہیں ہوا تو نتیجہ کیا برآمد ہوا؟ راشد کے سیکڑوں متعلقین میں سے کسی ایک کو بھی کرونا کیوں نہیں ہوا؟ اگر ایک معاملے میں ایسا ہو سکتا ہے تو پورا ملک بند کرکے لوگوں کو بھوکوں مارنے کی کیا ضرورت ہے کہ جب وسائل پر قابض غاصب افراد نے عوام کا علاج کرنا ہی نہیں۔ اب آپ سمجھ چکے ہوں گے کہ پورے ملک کی یہ بندش ان کے اپنے بچانے کی غرض سے ہے۔

اس قصے کے تمام ہونے پر میں نے وہ ویڈیو آڈیو یاد کیں جو دوست احباب کم و بیش ہر روز مجھے آپ کو بھیجتے ہیں کہ مثلا فلاں کو کرونا ہوگیا تو ریاستی اداروں کا انداز کار ظالمانہ حد تک ایسا تھا کہ مریض اور اس کے لواحقین گویا بستہ ب کے بدمعاش ہیں۔ درجنوں واقعات آپ سماجی رابطوں پر دیکھ سکتے ہیں۔ ان میں مبالغہ تو ہوسکتا ہے لیکن کیا آپ کو یاد نہیں کہ تقریبا ایک دو ماہ قبل ایک میاں بیوی برطانیہ سے پاکستان آئے تھے۔ بیوی کرونا کے باعث فوت ہوگئی تو شوہر کو پولیس نے گرفتار کر لیا کہ تم نے نماز جنازہ میں کیوں شرکت کی۔ یہ واقعہ بھی میرے اپنے قصبے کا ہے۔ مجھے ہی اول درجے کی معلومات حاصل نہیں، آپ چاہیں تو ڈیڑھ دو ماہ قبل کے بی بی سی پر جاکر دیکھ لیں، مرحومہ کے دو بیٹے لندن میں پاکستانی سفارت خانے کے سامنے پلیکارڈ لے کر دھرنا دیئے بیٹھے ہیں کہ ہمارا باپ پاکستان کے مسنگ پرسن میں شامل ہوگیا ہے، اسے رہا کرو۔

اس منظر کشی کے بعد، جو مطلقا حقیقی اور مبنی بر حقائق ہے، اور اس سے میں آپ سب واقف ہیں، میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ تمام ملک بند کرنے کا جواز کیا ہے۔ اگر کوئی مریض سامنے آ بھی جائے تو اسلام آباد جیسے شہر میں اس کے ساتھ مجرمانہ لاتعلقی کا رویہ اختیار کیا جاتا ہے، علاج تو بہت بعد کی بات ہے۔ باقی شہروں اور دور دراز علاقوں میں رہنے والوں کو اس کا بخوبی اندازہ ہے۔ آپ بھی ان معروضات کی روشنی میں یقیناً یہی اندازہ قائم کریں گے۔ اب صورت حال یہ ہے کہ ملک کے اندر برے بھلے دستیاب طبی وسائل پر حکومتی اشرافیہ نے قبضہ کر رکھا ہے۔حکومتی اور سیاسی اداروں نے خود کو گھروں اور اپنے عشرت گاہوں میں علیحدہ کر رکھا ہے۔یہ لوگ تنخواہیں اور مراعات ہمارے خون پسینے سے حاصل کرتے ہیں اوراحتیاطی تدابیر کے نام پر انہوں نے ہمارے عام اسپتال بھی بند کر رکھے ہیں۔ یہ سمجھ لیجیے کہ عوام کے ٹیکسوں سے پیدا شدہ وسائل پر عوام کے خادموں اور بڑے بڑے عہدے داروں اور نوکروں نے قبضہ کرکے عوام پر ان وسائل کے دروازے بند کر دیے ہیں۔اسی پر بس نہیں، یہ لوگ جس کام کی اجرت لیتے ہیں، اپنے عشرت کدوں میں بند ہو کر وہ کام کرنے سے بھی منکر ہیں۔ مستزاد یہ کہ خود کو موہومہ خطرے سے بچانے کی خاطر ان ظالموں نے زمین پر رینگنے والے عام مزدور کیڑے مکوڑوں پر روزگار کے دروازے بھی بند کر دئے ہیں۔ لے دے کر عدالتیں کچھ عرصہ تک کھلی رہیں، انہیں بھی اس طاغوت نے بے بس کر کے بند کرادیا۔ اللہ کا شکر ہے کہ اب وہ پھر کھل گئی ہیں۔

شعوری آنکھ سے انگریز کا دور دیکھنے والا شاید اب ملک میں کوئی باقی نہ ہو۔ جو کچھ سنا پڑھا ہے، اس کے مطابق کیا ہمارا تمام ریاستی نظام آج بھی سامراجی نوآبادیاتی خطوط پر استوار نہیں ہے کہ جس میں ایک طرف ٹیکس دینے والے عوام ہیں تو دوسری طرف وائسرائے اور عوام سے الگ تھلگ اس کے نمائندے۔ یہی نہیں ان مقامی آقاؤں نے تو لوگوں پر روزگار کے دروازے بھی بند کر دیے ہیں۔ ایک بار پھر یاد دلادوں، اور یہ یاد دلانے میں فی الحال میں تنہا ہی ہوں کہ برصغیر کے مسلمانوں کا خالصتاً اپنا، جی ہاں! تمام خرابیوں, تمام کوتاہیوں اور تمام بیچارگیوں کے باوجود وہی ایک ادارہ ہے۔ اور اسی ایک ادارے سے میری امیدیں وابستہ ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ آج بھی تمام نوابادیاتی ریاستی ادارے مسلمانوں کے اس خالصتا اپنیایک ادارے پر گرج برس رہے ہیں۔ وہی ایک ادارہ ہر وقت، ہر حال، ہر بحران میں سینہ تانے کھڑا رہتا ہے۔مشرقی پاکستان میں کیا ہمارا نمبر ون اور کیا نمبر ٹین، یہ سب ہتھیار ڈال کر جنگی کیمپوں میں استراحت فرما رہے تھے، تب بھی مولوی فرید کی الشمس اور جماعت اسلامی کی البدر، نوزائیدہ بنگلہ دیش میں پاکستان کی جنگ لڑ رہی تھیں۔ یہی جنونی لوگ وہاں آج بھی پھانسی کے پھندے کو چوم کر خود گلے میں ڈال رہے ہیں۔ قارئین کرام! دینی مدارس اور مساجد کے ادارے کو تقویت دیں۔ باقی تمام ادارے برطانوی نوآبادیاتی نظام کے جانشین اور ارطغرل ڈرامے میں سلیمان شاہ کے چیف آف آرمی اسٹاف کردوغلو ہیں۔ بس تھوڑے کہے کو کافی سمجھ لیں۔ پھر بھی سمجھ نہ آئے تو اس تحریر کو ذرا غور سے دوبارہ پڑھیں اور ہوسکے تو کردوغلو کو صلیبیوں سے ملنے والی اشرفیوں کے استعمال کو عہد حاضر کے ریاستی انداز کار سے ملا کر ذرا غور کر لیں، نفع ہوگا۔

مزید :

رائے -کالم -