آگ سے مت کھیلو!

آگ سے مت کھیلو!
آگ سے مت کھیلو!

  

جنرل بابر افتخار نے پرسوں (بروز بدھ) ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے ایک بار پھر وہی بات دہرائی جو وہ پہلے بھی ایک سے زیادہ بار کہہ چکے ہیں۔ ان کے پیش رو بھی یہی تکرار کیا کرتے تھے کہ انڈین آرمی ایک جھوٹ موٹ کا ڈرامہ رچانے والی ہے۔ پبلک کو یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ یہ فالس فلیگ (False Flag) آپریشن پلواما کی طرح کا ہو گا جس میں انڈیا نے اپنے 40ٹروپس مروا کر ایل او سی عبور کرنے اور بالا حصار پر فضائی حملہ کرنے کا بہانہ ڈھونڈ لیا تھا۔لیکن یہ جھوٹا آپریشن بھی اس کے گلے کا ہار بن گیا۔تاریخ گواہ ہے کہ انڈیا جگ ہنسائی اور ڈھٹائی سے کبھی پیچھے نہیں ہٹتا، یہ اس کا اول روز سے وتیرہ چلا آ رہا ہے۔رقبے، آبادی اور فوجی قوت میں کثرتِ مقدار و تعداد کا زعم اسے چین سے نہیں بیٹھنے دیتا۔ ایل او سی پر بے دریغ گولہ باری اور پاکستانی آبادیوں کو نشانہ بنانا اور جاسوسی ڈرون بھیج کر کسی لانچنگ پیڈ کی تصویر کشی اس کی دیرینہ آروز ہے۔ پاکستان نے تو کئی بار پہلے بھی کہا ہے کہ غیر ملکی فوجی مبصروں کے کسی گروپ کو پاکستان بھیجو، ہم ان کا خیر مقدم کریں گے۔ وہ جہاں کہیں گے، ہم ان کو لے جائیں گے۔ اگر مقبوضہ کشمیر میں مجاہدین بھجوانے کے لئے کسی لانچنگ پیڈ کا کوئی سراغ مل گیا تو عالمی طاقتیں مودی کو جھوٹا کہنا بند کرکے اس کی ہم نوا بن جائیں گی۔ اسے یہ آپشن آزمانی چاہیے…… یکے بعد دیگرے کواڈ کاپٹروں کو ایل او سی عبور کروانا اور پاکستان کی طرف سے ان کا بار بار مار گرایا جانا آخر کب تک چلے گا؟ کوئی اور بہانہ تلاش کیجئے!

میرا خیال ہے، بھارت کے بعض مرّبی اسے اس طرح کی اوچھی اور چھچھوری عسکری حرکات کرنے پر آمادہ رکھتے ہیں۔ انڈیا کی دفاعی کابینہ نجانے کس دنیا میں رہتی ہے۔ یہی جنرل بپن راوت جو آج کل چیف آف ڈیفنس سٹاف (CDS) ہیں، جب چیف آف آرمی سٹاف تھے تو بڑے عجیب و غریب بیان دیا کرتے تھے۔ کبھی فرماتے کہ انڈیا اپنے دونوں دشمنوں (چین اور پاکستان) سے بیک وقت نبردآزما ہونے کی وافر صلاحیت رکھتا ہے۔پھر لیکن کچھ دنوں بعد کفِ افسوس ملتے اور کہتے کہ انڈین آرمی کا گولہ بارود اور ساز و سامان پرانا ہو چکا ہے، اس کی شیلف لائف ختم ہونے والی ہے، جب تک اس کو Replenish نہیں کیا جاتا، انڈین آرمی جنگ لڑ تو سکتی ہے، جیت نہیں سکتی۔ یہ خنّاس انڈین جرنیلوں کے دماغ میں سمایا ہوا ہے کہ اس کی فوج جب بھی جنگ لڑتی ہے، فتح یاب ہوتی ہے!

ایسے دشمن کا کیا کرے کوئی

گزشتہ ہفتے لداخ میں PLA کے ہاتھوں انڈین بارڈر فورس کی جو درگت بنی ہے معلوم ہو رہا ہے کہ اس کا کوئی نوٹس نہیں لیا گیا۔ یہ بھی نہیں سوچا گیا کہ دولت بیگ اولدی درۂ قراقرم سے صرف 8میل دور ہے اور چینی سرحد (اقصائے چین) بھی صرف 9میل کے فاصلے پر ہے۔ انڈیا دولت بیگ مستقر (Base) کو اور کتنا ڈویلپ کرے گا؟ ایک بریگیڈ کی نفری تو وہاں پہلے ہی سے موجود ہے۔اگر چینی فوج اپنے ہزاروں ٹروپس اس مستقر (Base) کے نواح میں لے آئی ہے تو کیا وہ پاگل ہے؟…… کیا اسے معلوم نہیں کہ اخروٹ توڑنے کے لئے رولر کوسٹر کی ضرورت نہیں ہوتی۔ صرف ایک ہلکی سی اینٹ ہی اس کے لئے کافی ہوتی ہے۔دولت بیگ اولدی (DBO) کا ائرسٹرپ 17300فٹ بلند ہے اور یہ دنیا کا بلند ترین ائرسٹرپ ہے۔اس پر انڈیا C-130J اتارنے کا تجربہ کر چکا ہے اور AN-32 ہیوی لفٹ لاجسٹک طیارے بھی یہاں عام آتے جاتے ہیں۔ائرسٹرپ اور ائر فیلڈ میں فرق یہ ہے کہ ائرسٹرپ، بلیک ٹاپ نہیں ہوتا صرف ہموار ہوتا ہے اور اس پر جب لینڈنگ یا ٹیک آف ہوتی ہے تو گرد و غبار کا ایک طوفان سا اٹھتا نظر آتا ہے جو دائیں بائیں کی تعمیر شدہ مکانیت کی روئت دھندلا دیتا ہے۔

دولت بیگ سے اڑ کر پاکستانی گلگت بلتستان تک جانا ہرگز کوئی دشوار امر نہیں۔ اگر کل کلاں انڈیا ایل او سی پر کوئی فالس فلیگ آپریشن کرتا ہے اور پاکستان کی علاقائی خود مختاری کسی بھی حوالے سے معرضِ خطر میں پڑتی نظر آتی ہے تو چین کا پہلا ٹارگٹ یہی دولت بیگ اولدی بیس ہو گی۔ اس کو زیر قبضہ لانے میں چند گھنٹے درکار ہوں گے اور وہاں سے پاکستان کے لئے ائر لفٹوں کا سلسلہ کوئی مشکل امر نہیں ہوگا۔قراقرم ہائی وے اور سی پیک، چین کے سٹرٹیجک اہمیت کے متبادل راستے ہیں۔ اگر چین بیجنگ یا شنگھائی سے اپنی بحریہ کو بحرہند میں لانا چاہے تو آبنائے ملاکا کو استعمال کرے گا۔ لیکن یہ آبنائے، انڈیا کی طرف سے کسی بھی لمحے بلاک کی جا سکتی ہے۔ اس کی ایسٹرن نیول کمانڈ کی لوکیشن ان جزائر میں ہے جن کو انگریز ”کالاپانی“ کہتا تھا۔ اب یہی کالا پانی (نکوبار اور انڈیمان) آبادیوں کی کثریت سے ہمہما رہا ہے۔ انڈین فوج کو امریکہ کی ہلاشیری اس لئے بھی حاصل ہے کہ آبنائے ملاکا کی بلاکنگ میں امریکن نیوی کا ایک رول ہو گا۔ اور قارئین کو یہ بھی معلوم ہوگا کہ انڈیا کے کسی بھی ساحل پر امریکہ جب چاہے، اپنی فضائیہ اور بحریہ اتار سکتا ہے۔ آج یہ منظر نامہ بے شک دور افتادہ نظر آئے گا لیکن جب جنگ کا دائرہ پھیلے گا تو یہ دور افتادگی بے معنی ہو جائے گی۔ تب چائنا قراقرم ہائی وے اور سی پیک کی متبادل آرٹلری استعمال میں لائے گا۔ امریکہ، یورپ، اسرائیل اور انڈیا کی طرف سے سی پیک کے خلاف اول روز سے جو محاذ قائم کیا گیا تھا اس کے اسباب اور اس کی وجوہات آج اظہر من الشمس ہو رہی ہیں۔

آپ نے یہ بھی نوٹ کیا ہو گا کہ جس روز (بدھ وار 3جون) کو جنرل بابر افتخار نے انڈیا کو خبردار کیا تھا کہ وہ آگ سے نہ کھیلے، اسی روز وزیراعظم پاکستان، آئی ایس آ ئی ڈائریکٹوریٹ میں بریفنگ لینے گئے تھے۔ یہ دونوں خبریں ایک ہی روز میڈیا پر آ چکی ہیں …… آپ کا کیا خیال ہے کیا وزیراعظم کو حساس معاملات پر بریفنگ دینے کے لئے ان کی وزٹ کو میڈیا پر دکھانے کی کوئی مجبوری تھی؟

یہ بریفنگ چپ چاپ، اندر خانے اور خفیہ طورپر بھی دی جا سکتی تھی…… میرے خیال میں خفیہ بریفنگ زیادہ بہتر تھی کیونکہ ISI ڈائریکٹوریٹ کے آپریشن روم میں جو دیواری نقشہ جات بنے ہوئے ہیں ان کو مختصر کرکے کسی میز پر بھی پھیلا کر وزیراعظم کو دکھلایا جا سکتا تھا۔ اگر ایسا نہیں کیا گیا، اگر وزیراعظم کے ساتھ آرمی چیف کو ISI کے دفتر میں جنرل فیض حمید کے ہمراہ جاتا دکھایا گیا ہے، اگر اسی روز جنرل بابر افتخار کا وہ انٹرویو بھی دکھایا گیا ہے جو ہم سب نے دیکھا اور سنا (یہ اور بات ہے کہ ”ڈان“ نے اس کا بائیکاٹ مناسب سمجھا) تو آخر کچھ تو ہے جس کی پیش بندی کی جا رہی ہے۔ جیسا کہ جنرل بابر نے کہا، انڈین قیادت کو آج بہت سی مشکلات کا سامنا ہے۔ چین اور پاکستان کے علاوہ اس کے دو اور ہمسائے(نیپال اور بھوٹان) بھی انڈیا سے نالاں ہیں، حالیہ سٹینڈ آف میں چینی فوج کے ہاتھوں اس کی سبکی ساری دنیا دیکھ چکی ہے۔

کورونا وائرس نے انڈیا کی بڑھتی ہوئی GDP کو بریک لگا دی ہے، انڈین مسلمانوں کے ساتھ اس نے جو سلوک روا رکھا ہے اس کا ردعمل بھی گزشتہ ایام میں سب نے دیکھا ہے اور ایل او سی پر پاکستان آرمی اس کے ڈرون گرا رہی ہے۔ یہ سب ہزیمتیں انڈین آرمی اور اس کی سویلین قیادت سے برداشت نہیں ہو رہیں۔ اس لئے پاکستان کو خطرہ ہے کہ وہ بھنّا کر ایل او سی پر کہیں کوئی اور ایسی اوچھی اور ناروا حرکت کا ارتکاب نہ کر بیٹھے جو پاکستان کے لئے قابلِ قبول نہیں ہوگا۔ پاکستان اگر چاہتا تو گزشتہ برس 26اور 27فروری کی درمیانی شب بالا حصار پر حملے کے جواب میں نہ صرف کشمیر کے متنازعہ علاقوں پر بلکہ ہندوستان کے دوسرے حصوں پر بھی وار کر سکتا تھا…… یہ ایک کھلی جنگ کا منظر نامہ ہوتا جس میں طرفین کا بُری طرح نقصان ہوتا۔ نجانے ”لالہ جی“ کو کب سمجھ آئے گی کہ اس کے وہ دوست جو آج اس کو اندر یا باہر سے ”ہلہ شیری“ دے رہے ہیں اس جنگ کے بعد فتح کا جشن وہ منائیں گے، انڈیا نہیں۔

مزید :

رائے -کالم -