جسٹس قاضی فائز عیسٰی کیس،صدر مملکت ریفرنس بھجوانے کے مشورے پر عمل کرنے کے پابند نہیں: سپریم کورٹ

جسٹس قاضی فائز عیسٰی کیس،صدر مملکت ریفرنس بھجوانے کے مشورے پر عمل کرنے کے ...

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)سپریم کورٹ نے آف پاکستان نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس میں کہا ہے کہ ریفرنس فائل کرنا کوئی چھوٹا معاملہ نہیں، صدر مملکت آرٹیکل 48 کے تحت ریفرنس نا مکمل ہونے پر واپس بھیج سکتے ہیں، صدر مملکت ریفرنس بھجوانے کے مشورے پر عمل کرنے کے پابند نہیں،صدر مملکت مشورے پر ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل بھجوانے کے پابند ہیں یہ غلط دلیل ہے،عدالت کے سوالات ریفرنس کی مبینہ بدنیتی پر ہیں، اثاثہ جات وصولی یونٹ (اے آر یو)،اس کے کرداراور قانونی سوال کیے گئے ہیں،شکایت صدر کو بھیجنے کے بجائے اے آر یو کو پذیرائی کیوں دی، اے آر یو نے جج کے مس کنڈکٹ کا تعین کیسے کر لیا؟، اس حکومتی شخصیت کا نام بتائیں جس نے تعین کیا جسٹس فائز عیسیٰ مس کنڈکٹ کے مرتکب ہوئے،بتا دیں کہ معاملہ ٹیکس اتھارٹی کو بھیجنے کے بجائے ریفرنس بنانے کی تجویز کس نے دی، آپ یہ بتا دیں کہ ریفرنس میں جرم آپ نے کونسا بتایا ہے،10 ہزار ٹیکس کی عدم ادائیگی پر ریفرنس نہیں بن جاتا، ایسا جرم بتائیں جس سے جج پر اعتماد مجروح ہوا ہو، جو سوالات اٹھائے ہیں ان کے جواب دیں۔تفصیلا ت کے مطابق سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے اپنے خلاف دائر صدارتی ریفرنس کو چیلنج کرنے کا معاملہ گزشتہ روز بھی زیر سماعت رہا،مسلسل تیسرے روز کیس کی سماعت کے دوران فل کورٹ نے حکومتی وکیل فروغ نسیم سے تندو تیز سوالات کئے۔فروغ نسیم نے کہا کہ عدالت نے سوالات سے مجھے بہت معاونت فراہم کی، 27 ایسے قانونی نکات ہیں جن پر دلائل دوں گا۔اس پر بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ عدالت کے سوالات ریفرنس کی مبینہ بدنیتی پر ہیں، عدالت نے اثاثہ جات وصولی یونٹ (اے آر یو)،اس کے کرداراور قانونی سوال کیے ہیں۔جسٹس عمر عطا بندیال نے پوچھا کہ شکایت صدر مملکت کو بھیجنے کے بجائے اے آر یو کو پذیرائی کیوں دی جس پر فروغ نسیم نے کہا کہ میں عدالت کے سوالوں پر بھی آؤں گا، پہلے مجھے حقائق بیان کرنے دیں اس میں مقدمے کو سمجھانے میں آسانی ہو گی۔نجی ٹی وی کے مطابق جسٹس یحییٰ آفریدی نے پوچھا کہ یہ بتا دیں کہ عدالت عظمیٰ نے اے آر یو بنانے کا حکم کہاں دیا؟ جس پر فروغ نسیم نے جواب دیا کہ اے آر یو رولز آف بزنس کے تحت بنایا گیا، میری یہ دلیل نہیں کہ عدالت کے حکم پراے آر یو کو بنایا گیا۔اس پر جسٹس منصور علی شاہ نے سوال کیا کہ اے آر یو کا قانون کے تحت بنے اداروں پر تھرڈ پارٹی اطلاق کیسے ہو سکتا ہے؟جس پر فروغ نسیم نے کہا کہ اثاثوں کو غیرقانونی طریقے سے ملک سے باہر لے جانا عوام کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے، اس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ اس بات سے کسی کو اختلاف نہیں ہے۔ فروغ نسیم نے کہا کہ بیرون ملک سے لوٹے گئے اثاثے واپس لانا اے آر یو کے قیام کی وجہ بنی۔سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران جسٹس منصور علی شاہ نے پوچھا کہ وزیراعظم کو معاون خصوصی لگانے کا اختیار ہے، شہزاد اکبر کو اے آر یو کا سربراہ کیسے لگادیا؟ اس پر فروغ نسیم نے جواب دیا کہ وزیر اعظم رولز آف بزنس کے تحت اے آر یو جیسا ادارہ یا آفس بنا سکتے ہیں، اے آر یو کابینہ ڈویژن کے ماتحت ہے، اس کے قیام میں کوئی غیر قانونی کام نہیں ہوا، اس کا کام مختلف ایجنسیوں کے ساتھ کام کرنا ہے۔جس پر جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ اے آر یو کو قانون کا تحفظ نہیں ہے، اس صورت میں اے آر یو کسی بندے کو چھیڑ نہیں سکتا، ساتھ ہی جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ اے آر یو انکوائری کے لیے نجی ایجنسی کی خدمات کیسے حاصل کر سکتا ہے۔جسٹس منصور علی شاہ نے یہ ریمارکس دیے کہ ایف بی آر اور ایف آئی اے قانون کے تحت بنے ادارے ہیں، اے آر یو قانون کے تحت بنا ادارہ نہیں ہے تو پھر کسی معاملے کی انکوائری کیسے کر سکتا ہے۔بینچ کے ایک اور رکن جسٹس یحییٰ آفریدی نے یہ کہا کہ ایف آئی اے کے پاس کرپشن تحقیقات کا اختیار ہے جبکہ اے آر یو کو وزارت داخلہ کے ماتحت ہونا چاہیے تھا۔اس پر فروغ نسیم نے یہ کہا کہ کیا ایف آئی اے کو ججز کی تحقیقات کا اختیار ہے، جس کے جواب میں جسٹس مقبول باقر بولے کہ کیا پھر اے آر یو کو ججز کی تحقیقات کا اختیار ہے؟اسی بات پر جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ وزیراعظم ریاستی اداروں کو کرپشن کی تحقیقات کا نہیں کہہ سکتے، وزیر اعظم ایک نجی شخص کو بلا کر ذمہ داری دے دیتے ہیں۔جسٹس منصور علی شاہ نے یہ کہا کہ یہ تاثر نہ دیا جائے کہ جج احتساب سے بالاتر ہے، ایف بی آر قانون کے تحت اپنی کارروائی کا مجاز تھا۔اسی دوران جسٹس منصور علی شاہ نے پوچھا کہ صدر مملکت اور وزیراعظم کی وکالت کون کر رہا ہے، جس پر فروغ نسیم نے کہا کہ صدر مملکت کی وکالت ڈپٹی اٹارنی جنرل سہیل محمود اور وزیراعظم کی طرف سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمن کریں گے۔بعدازاں کیس کی سماعت کو سوموارتک کیلئے ملتوی کردیا گیا۔

قاضی فائز کیس

مزید :

صفحہ اول -