پنجاب میں سینئر ڈاکٹروں کی سوموار سے ہسپتالوں کے آؤٹ ڈور بند کرنے کی دھمکی

پنجاب میں سینئر ڈاکٹروں کی سوموار سے ہسپتالوں کے آؤٹ ڈور بند کرنے کی دھمکی

  

لاہور(جاوید اقبال) صوبائی دارالحکومت سمیت پنجاب بھر کے ہسپتالوں میں کورونا وائرس کے خلاف برسرپیکار 36 ڈاکٹرز جان کی بازی ہارگئے، سینئر ڈاکٹرز کی تنظیم ینگ کنسلٹنٹ ایسوسی ایشن آف پاکستان نے سوموار کو لاہور سمیت صوبے بھر کے آؤٹ ڈور بند کرنے کا اعلان کردیا۔ ینگ کنسلٹنٹ ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر حامد مختار بٹ نے جنرل کونسل کے اجلاس کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سروسز ہسپتال میں بدھ کی صبح کورو نا سے لڑتے ہوئے جان کی بازی ہارنے والے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر حافظ مقصود علی سمیت36 ڈاکٹروں کی شہادت ناقص و غیر معیاری اور نا کافی سہولیات کا نتیجہ ہے، محکمہ صحت حکومت پنجاب نے نے کورونا وائرس سے جنگ لڑنے کیلئے ڈاکٹروں اور دیگر ہیلتھ پروفیشنل کو بغیر سازوسامان کے میدان میں اتارا جس کے باعث اب تک پنجاب میں 36 ڈاکٹر جاں بحق ہوچکے ہیں اور 600سے زائد ہیلتھ پروفیشنلز کورونا وباء میں مبتلا ہو چکے ہیں جبکہ ملک بھر میں 22 سو سے زائد ہیلتھ پروفیشنلز کورونا کا شکار ہو چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایک روز قبل سروسز ہسپتال میں شہید ہونے والے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر حافظ مقصود علی نے 9روزقبل سرجری آپریشن تھیٹر میں ایک مریضہ کو بغیر سازوسامان کے بے ہوشی کی دوادی جس سے وہ بھی کورو نا کا شکار ہوگئے اور وہ مرنے سے چند گھنٹے قبل کہتے رہے کہ انہیں دل میں تکلیف ہو رہی ہے ماہر امراض دل کو دکھایا جائے۔ ڈاکٹر حامد مختار بٹ کہا کہ محکمہ صحت کو تین دن کا وقت دے دیا، وہ ہم سے مذاکرات کرے اور ہسپتالوں کے اندر جو ڈاکٹرز اور دیگر ہیلتھ پروفیشنلز فرنٹ لائن پر جنگ لڑ رہے ہیں انہیں عالمی ادارہ صحت کی ہدایات کے مطابق سازوسامان فراہم کیا جائے اور اگر ایسا نہ ہوا توسوموار کو لاہور سمیت پنجاب بھر کے ہسپتالوں کے آؤٹ ڈورز میں سینئر ڈاکٹرز فرائض سرانجام نہیں دیں گے اور پھرحالات کی تمام تر ذمہ داری وزیرصحت پر عائد ہوگی۔ ذرائع کے مطابق ینگ کنسلٹنٹ ایسوسی ایشن آف پاکستان نے موجودہ صورتحال کے حوالے سے وزیر اعلی پنجاب کو بھی مراسلہ ارسال کر دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹرز کام چھوڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں ہسپتالوں کے اندر کورو نا وارڈز میں کام کرنے والے ڈاکٹرز اور دیگر ہیلتھ پروفیشنل کو وائرس سے بچاؤ کیلئے ضروری سازوسامان مہیا نہیں کیا جارہا جبکہ سرکاری دستاویزات میں کروڑوں روپے کی خریداری کی گئی ہے جس کا سپیشل آڈٹ ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ صحت دینے والے ڈاکٹرز اور دیگر طبی عملہ کورونا مبتلاہوکروائرس کے پھیلاؤکا باعث بن رہا ہے اوریکے بعد دیگرے ڈاکٹروں وطبی عملے کی شہادت اورمیتوں کیساتھ لاوارثوں جیسے سلوک پر ڈاکٹروں کا مورال گرتا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلی خود میدان میں آئیں اور فرنٹ لائن پر لڑنے والوں کی سرپرستی کریں جبکہ کورونا سے بچاؤکے سازوسامان کی خریداری میں خوردبرد کرنے والے ہسپتالوں کی انتظامیہ اور محکمہ صحت کی افسر شاہی کو فارغ کرے۔

ڈاکٹرز/دھمکی

مزید :

صفحہ اول -