حکومت سندھ میں فوری طور پر ”ہیلتھ ایمرجنسی“ نافذ کرے: حافظ نعیم الرحمن

      حکومت سندھ میں فوری طور پر ”ہیلتھ ایمرجنسی“ نافذ کرے: حافظ نعیم الرحمن

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر)امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ سندھ بھرمیں فوری طور پر ہیلتھ ایمرجنسی نافذ کی جائے،تمام اسپتالوں میں وینٹیلیٹرز اور بیڈز میں اضافہ کیا جائے،تمام اسپتالوں میں سینٹرلائز ہیلپ سینٹر اور کورونا آگہی ڈیسک قائم کی جائیں،ڈاکٹرز کو سلوٹ کرنے اور تمغہ دینے کے بجائے حفاظتی کٹس دی جائیں اور ان کاتحفظ یقینی بنایا جائے،پرائیویٹ اسپتالوں میں ڈاکٹرز کی تنخواہیں کاٹنا سراسر ظلم و زیادتی ہے،ایمرجنسی صورتحال میں ڈاکٹرز کو تنخواہوں کے ساتھ بونس بھی ملنا چاہیئے،سندھ حکومت کی جانب سے خرچ کیے گئے ڈیڑھ ارب روپے کا فارنزک آڈٹ کیا جائے،کرپشن اور نااہلی کی وجہ سے سرکاری اسپتالوں میں بنیادی سہولیات تک موجود نہیں ہیں،وزیر اعلیٰ سندھ وبائی صورتحال میں سندھ حکومت کو کرپشن سے پاک کریں،سندھ کے تمام اسپتالوں کاماہانہ بجٹ 120ارب روپے ہے لیکن کسی بھی سرکاری اسپتال میں کورونا وارڈ تک نہیں بنایا گیا،اگر سندھ حکومت نے عوام کو صحت کی بنیادی سہولیات فراہم نہ کی توجماعت اسلامی سڑکوں پر احتجاج کرنے پر مجبور ہوگی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ادارہ نورحق میں ڈاکٹرز کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ پریس کانفرنس سے نائب امیرجماعت اسلامی کراچی و ممتاز نیورولوجسٹ ڈاکٹر واسع شاکر،سابق سربراہ پیتھالوجی جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹرڈاکٹر نائلہ طارق،کنسلٹینٹ ریڈیالوجسٹ و رہنما پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن (پیما)ڈاکٹر کاشف شازلی،ماہر امراض اطفال ڈاکٹر ثاقب انصاری،ماہر امراض اطفال و الخدمت کراچی ہیلتھ ڈائریکٹر ڈاکٹر اظہر چغتائی،ماہر امراض و داماغ واعصاب و رہنما پیما ڈاکٹر عبد المالک،میڈیکل سپرنڈیٹ فریدہ یعقوب ہستپال گلشن حدید ڈاکٹر ظفر اقبال نے بھی خطاب کیا جب کہ ماہر امراض ومعدہ وجگر ورہنا پیما ڈاکٹر سعد خالد نیاز نے ٹیلی فون پر گفتگو کی۔حافظ نعیم الرحمن نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہاکہ جماعت اسلامی آئندہ دنوں میں الخدمت کے تحت کورونا ٹیسٹنگ شروع کرے گی،ٹیسٹنگ کی سہولیات بڑھانے کی ضرورت ہے،عوام کو خیرات نہیں حق چاہیئے، حکومت کا کام ہے کہ عوام کو صحت کی بنیادی سہولیات فراہم کرے۔انہوں نے کہاکہ سندھ حکومت اس وقت 168وینٹی لیٹرز خریدنے جارہی ہے لیکن اس کا بجٹ 3ارب روپے ہے جو کہ اصل رقم سے دوگنا زیادہ ہے اور یہ کرپشن کی بدترین مثال ہے۔انہوں نے کہاکہ ایکسپو سینٹر میں این ڈی ایم اے کے تحت 3ہزار مریضوں کی سہولیات کے لیے کورونا وارڈ قائم کیا گیا جس کے لیے 80ارب روپے کا بجٹ مختص کیا گیا لیکن المیہ یہ ہے کہ ایکسپو سینٹر میں 70سے زائد مریضوں کی گنجائش نہیں ہے اور پینے کے لیے پانی کی سہولیات تک میسر نہیں ہے،این ڈی ایم اے کسی بھی آسمانی آفات کے وقت فعال کیا جاتا ہے اس کے لیے کسی بھی اٹھارہویں ترمیم کی روکاوٹ کی ضرورت نہیں،وفاقی وصوبائی حکومت دونوں وبائی صورتحال میں عوام کو ریلیف دینے میں ناکام ہوگئی ہیں۔صوبہ سندھ کے تحت 9سرکاری اسپتالوں میں سے کسی بھی اسپتال میں کورونا وارڈ تک موجود نہیں ہے اور کورونا مریض کے لیے سوائے چند سو لوگوں کے لیے سہولیات تک موجود نہیں ہیں۔ کراچی کے عوام پریشان حال ہیں اگرکوئی شہری ٹیسٹ کرانا چاہے تو موت کے خوف سے سرکاری اسپتالوں کا رُخ نہیں کرپاتا اور پرائیویٹ اسپتالوں میں کورونا ٹیسٹ کی بھاری فیس وصول کی جارہی ہے ایسے میں عوام جائیں تو کہاں جائیں؟۔

مزید :

صفحہ آخر -