جماعت اسلامی اور این ایل ایف کے تحت اسٹیل مل بچاؤ ایکشن کمیٹی کی تشکیل

  جماعت اسلامی اور این ایل ایف کے تحت اسٹیل مل بچاؤ ایکشن کمیٹی کی تشکیل

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر) پاکستان اسٹیل مل کے 9ہزار سے زائد ملازمین کو بے روزگار کرنے اور ادارے کو عملاً بند کرنے کے اقدامات اور فیصلوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال میں اسٹیل مل اور ملازمین کے حقوق کے تحفظ کے لیے جماعت اسلامی اور این ایل ایف کے تحت ”اسٹیل مل بچاؤ ایکشن کمیٹی“ تشکیل دے دی گئی ہے اور اعلان کیا گیا ہے کہ وفاقی حکومت کے ان فیصلوں اور اقدامات کو ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا اور ان کے خلاف بھر پور جد وجہد اور مزاحمت کی جائے گی۔ یہ فیصلہ نائب امیر جماعت اسلامی کراچی ڈاکٹر اسامہ رضی کی صدارت ادارہ نو ر حق میں جماعت اسلامی، این ایل ایف اور پاسلو کے ذمہ داران کے ایک اہم اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس میں طے کیا گیا کہ فوری طور پر پاسلو کی جنرل ورکز میٹنگ منعقد کی جائے گی جس میں آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔ اجلاس میں این ایل ایف پاکستان کے مرکزی جنرل سیکریٹری شاہد ایوب، کراچی کے صدر خالد خان، پاسلو کے صدر عاصم بھٹی،جنرل سیکریٹری حیدر گبول، پاسلو کے سابق صدر و جماعت اسلامی کے سیکریٹری اطلاعات زاہد عسکری نے شر کت کی، ڈاکٹر اسامہ رضی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی ملازمین کی جدو جہد میں ان کے ساتھ ہے، ادارے کی نج کاری کے خلاف اور ملازمین کے روزگار کے تحفظ کی جدو جہد کرنے والے مزدوروں پر اگر تشدد کیا گیا اور گرفتاریاں کی گئیں تو یہ تحریک مزید آگے بڑھے گی جسے کوئی نہیں روک سکے گا۔ اس لیے سندھ حکومت ایسے اقدامات سے باز رہے اور گرفتار افراد کو فوری رہا کیا جائے،پاکستان اسٹیل مل قومی اہمیت اور حساس نوعیت کا ایک ادارہ ہے اور وفاقی حکومت کے حالیہ اقدامات اور فیصلوں نے اسے ایک قومی ایشو بنا دیا ہے۔ اسٹیل مل کی بقاء اور تحفظ کے لیے تمام پارٹیوں کے ساتھ مل کر اور تمام تر سیاسی وابستگیوں سے بالا تر ہو کر مشترکہ جد وجہد کی جائے گی اور متحد ہو کر آگے بڑھا جائے گا اور حکومت کو یہ فیصلہ واپس لینے پر مجبور کیا جائے گا۔ اسٹیل مل بچاؤ ایکشن کمیٹی این ایل ایف کراچی کے صدر خالد خان کی سربراہی میں تشکیل دی گئی ہے جس میں پاسلو کے صدر عاصم بھٹی، جنرل سیکریٹری حیدر گبول، سابق صدر زاہد عسکری، سابق جنرل سیکریٹری پاسلو ظفر خان، جے آٗئی یوتھ کے صدر ہاشم یوسف ابدالی شامل ہیں۔ #

مزید :

صفحہ آخر -