موسمیاتی تبدیلیوں نے فطری نظام کو شدید متاثر کیا ہے: نیول چیف

      موسمیاتی تبدیلیوں نے فطری نظام کو شدید متاثر کیا ہے: نیول چیف

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر)کرہ ارض کے قدرتی نظام کی حفاظت کے بارے میں آگہی کے فروغ اور ماحول کو درپیش مسائل پر توجہ مرکوز کرنے اور ان چیلنجز سے نمٹنے کے لئے قابل عمل طریقوں پر غور و خوض کے لئے دنیا بھر میں ہر سال ماحول کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس سال ماحول کے عالمی دن کے لئے حیاتیاتی تنوع- زمین اور زیر آب حیات کی اعانت کے لئے اہم اکائی کے موضوع کا انتخاب کیا گیا ہے۔ حیاتیاتی تنوع انسانی صحت کے ہر پہلو پر اثر انداز ہوتا ہے۔ صاف ہوا, شفاف پانی,غذائیت سے بھرپور خوراک، قدرتی آفات اور موسمیاتی تبدیلیوں کی روک تھام سب اس کے مرہون منت ہیں۔ انسانی افعال بشمول جنگلات کی کٹائی، جنگلی حیات کی آماجگاہوں کا خاتمہ، زراعت میں شدت کے ساتھ اضافہ اور تیزی کے ساتھ بڑھتی ہوئی موسمیاتی تبدیلییوں نے فطری نظام کو شدید متاثر کیا ہے۔ اگر انسانی طرز عمل یہی رہا تو حیاتیاتی نظام کے تنوع کو پہنچنے والا نقصان نہ صرف انسانیت کے لئے شدید مشکلات کا باعث ہوگا بلکہ خوراک اور صحت کا نظام بھی بری طرح متاثر ہو جائے گا۔ پاک بحریہ اپنے آفیسرز، سیلرز اور سویلینز میں ماحول کی اہمیت اجاگر کرنے اور بالخصوص آنے ماحول سے آگہی کے فروغ کے لئے سرگرم ہے۔اس ضمن میں پاک بحریہ بہت سے اقدامات اٹھا رہی ہے، جن میں بندرگاہوں سے فضلے کو ٹھکانے لگانا، ریڈبیڈ پلانٹس کا قیام، اور شجرکاری اور غیر سرکاری متعلقہ اداروں اور محکموں کو بحری آلودگی کی روک تھام کے لئے موثر اقدامات کی ضرورت کا احساس دلانا شامل ہے۔ شعور و آگہی کا فروغ بلاشبہ ایک اہم ترین عنصر ہے، پاک بحریہ کی فیلڈکمانڈز اور یونٹس نے شعور وآگہی کے فروغ اور ماحول کو محفوظ بنانے اوراحساس ذمہ داری بیدار کرنے کے لئے کئی سرگرمیوں کی منصوبہ بندی کی ہے۔ میں قوی امید کرتا ہوں کہ ان سرگرمیوں کو کامیاب اور کارآمد بنانے کے لئے پاک بحریہ کا ہر افسر، سیلر اور سویلین بے لوث کاوشوں کو عمل میں لائے گا۔ اس اہم دن کے موقع پر آئیے ہم سب ماحول بالخصوص آبی ماحول کی بہتری کیلئے ہر ممکن کوشش کے عزم کی تجدید کریں۔ اپنی روز مرہ زندگی میں ہمارا رویہ ماحول کے تحفظ، سلامتی اور پائیداری کے سنہری اصولوں کے عین مطابق ہونا چاہئیے۔ میں آپ کو یہ یقین دلاتا ہوں کہ پاک بحریہ ماحول کے تحفظ کے لئے آگہی کے فروغ میں مسلسل کوشاں رہے گی۔

مزید :

صفحہ آخر -