جناب وزیراعظم! مہنگائی میں کمی اور SOP پر عملدرآمد، ڈنڈا پکڑنا پڑیگا؟

جناب وزیراعظم! مہنگائی میں کمی اور SOP پر عملدرآمد، ڈنڈا پکڑنا پڑیگا؟
 جناب وزیراعظم! مہنگائی میں کمی اور SOP پر عملدرآمد، ڈنڈا پکڑنا پڑیگا؟

  

کورونا کی پاکستان میں بڑھتی ہوئی تباہ کاریوں اور عوام کی غیر سنجیدگی نے حکومت اور اس کے اداروں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔گزشتہ دو ہفتوں میں کورونا مریضوں میں پانچ گنا اضافہ ہو چکا ہے، ارکان اسمبلی، پولیس افسر، ڈاکٹرز، ماسٹرز تمام مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کورونا کی وجہ سے زندگی کی بازی ہار رہے ہیں، قوم کو کورونا سے بچانے کے لئے فرنٹ لائن پر ڈٹ جانے والے ڈاکٹرز دیگر سٹاف میں 20فیصد سے زائد کورونا کا شکار ہو چکے ہیں، ملک بھر میں 1750سے زائد اموات کی تصدیق ہوئی ہے، عوام کے غیر سنجیدہ رویے اور بڑھتے ہوئے کیسوں کی وجہ سے ڈاکٹرز حضرات ہیلتھ ایمرجنسی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ پاکستانی قوم اور حکومت دونوں کو دو مختلف محاذوں پر لڑنا پڑ رہا ہے۔ ایک کورونا کے لئے اقدامات اور دوسرا بڑھتی ہوئی مہنگائی، عوام کورونا سے بچتے ہیں تو مہنگائی کا ازدھا پھن پھیلائے منتظر ہیں۔

قارئین کو آج کے کالم میں کوئی نئی باتیں نہیں بتاؤں گا، بلکہ ہمارے اردگرد ہونے والے واقعات کی نشاندہی کر کے سبق حاصل کرنے کی کوشش کروں گا۔

وزیراعظم، چاروں وزرائے اعلیٰ کا دعویٰ ہے ہم عوام کی مشکلات سے آگاہ ہیں اور ذخیرہ اندوزوں، ناجائز منافع خوری کرنے والوں کو نہ چھوڑنے کا بار بار اعلان کر رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب کے اگر گزشتہ روز کے بیان کو دیکھا جائے جس میں انہوں نے آٹے،چینی، گھی، پولٹری اور دیگر ضروریات زندگی کی اشیاء کی قیمتیں نہ بڑھانے کا اعلان کیا ہے اسی طرح کا عزم سندھ کے وزیراعلیٰ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے وزیراعلیٰ کر چکے ہیں۔ وزرائے اعلیٰ کے لیڈر وزیراعظم پہلے ہی صبح دوپہر شام غریب کی کسمپرسی اور حالت زار، دیہاڑی دار مزدوروں کا تذکرہ کر کے رنجیدہ ہوتے چلے آ رہے ہیں، چھوٹے سے چھوٹے وزیر سے وزیراعلیٰ تک اور وفاقی وزراء سے وزیراعظم تک سب عوام کے خیر خواہ ہیں ان کے کاروبار کی ڈوبتی ناؤ ان کی حالت زار سے آگاہ ہیں تو پھر آخر عوام کو ریلیف کیوں نہیں مل رہا؟یہ سوچنے کی بات ہے جو حکومت نہیں سوچ رہی۔ کیا عوام کا مسئلہ شہباز شریف کو گرفتار کر کے حل ہو جائے گا؟ کیا1985ء سے چینی کا کاروبار کرنے والوں کے آڈٹ سے عوام کو ریلیف مل جائے گا؟

شاہد خاقان عباسی، رانا ثناء اللہ کی گرفتاری سے ملکی معیشت میں بہتری کا امکان ہے، کیا حمزہ شہباز جو ایک سال سے پابند ِ سلال ہیں ان کی عوام سے دوری کی وجہ سے عوام کو انصاف ملنا شروع ہو گیا ہے۔جناب وزیراعظم قیام پاکستان سے بالعموم اور 1985ء سے2020ء تک بالخصوص اقتدار میں رہنے والوں، مزے لوٹنے والوں، وہ سیاست دان ہوں یا فوجی حضرات عوام کو کوئی سروکار نہیں ہے۔ جناب والا عوام بڑے سادہ ہیں، جلد بھول جانے والے ہیں وہ پیپلز پارٹی کے پُرکشش نعروں، میاں برادران کے تین ادوار، ضیاء الحق، جنرل پرویز مشرف کے اقتدار کو بھی یاد کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ عوام کو2018ء کے انتخابات میں دیئے جانے والے منشور یاد رکھنے کی بھی ضرورت نہیں ہے، عوام تو سادہ ہیں آپ نے کہا، مَیں لوٹی ہوئی دولت واپس لاؤں گا،مَیں انصاف کا بول بالا کروں گا، مَیں 50لاکھ گھر اور ایک کروڑ نوکریاں دوں گا۔

عوام سادہ ہیں انہوں نے بھٹو کے روٹی کپڑا اور مکان کے پُرکشش نعروں کی طرح آپ کے وعدوں پر بھی یقین کر لیا اور آپ کو وزیراعظم کی کرسی پر بٹھا دیا، عوام واقعی سادہ ہیں آپ نے پٹرول117 روپے سے کم کر75روپے کر دیا وہ جس طرح بھی ہوا وہ یہ غور کرنے کے لئے بھی تیار نہیں، انہیں اس بات کا بھی خدشہ نہیں ہے یکم جولائی سے پٹرول پھر مہنگا ہو سکتا ہے؟ عوام خوش ہیں، عمران خان نے43روپے فی لٹر کمی کر کے ناممکن کو ممکن کر دیا ہے، عوام کو پریشانی یہ ہے عوام کے استعمال کی اشیاء وہ آٹا، گھی، چینی، دالیں، دودھ، چائے و دیگر خوردو نوش کی قیمتوں میں 43پیسے کی بھی کمی نہیں ہو سکی ہے؟ ذمہ دار کون ہے؟ وفاقی حکومت، صوبائی حکومت، بیورو کریٹس، تاجر مافیا، چھوٹے دکاندار،پرائس کنٹرول کمیٹیاں یا پولیس؟ گزشتہ سالوں کی ایکسر سائز رہی ہے جب بھی پٹرول دو روپے بھی مہنگا ہوا، ٹرانسپورٹ سے لے کر روزمرہ اشیاء کی قیمتوں میں خود ساختہ اضافہ کر لیا جاتا ہے۔جناب وزیراعظم43روپے پٹرول سستا ہونے کے باوجود نانبائیوں نے5جون سے روٹی 6روپے سے بڑھا کر10روپے اور نان15روپے کرنے کا اعلان کیا ہے،43 روپے پٹرول سستا کرنا آپ کا بہت بڑا کارنامہ ہے اگر عوام کو ریلیف مل سکے، تو جناب وزیراعظم چینی سکینڈل، گندم سکینڈل کے ملزموں کو پکڑیں یا نہ پکڑیں عوام کو کوئی فکسر نہیں ہے۔

عوام کو ریلیف دینے کا وعدہ آپ پورا کر سکتے ہیں اس کے لئے عوام کی طبیعت کے مطابق فیصلے کرنا پڑیں گے ہم عوام اتنے آسان نہیں ہے، ہم اشارے پر سپاہی دیکھ کر ہیلمٹ پہننے والی قوم ہیں، لاک ڈاؤن میں آپ کی پولیس کا جو کردار دیکھنے کو ملا ہے وہ باعث شرم ہے، پرائس کنٹرول کمیٹیاں، پولیس، بیورو کریٹ، رینجرز کس نے کیا کام کرنا ہے، کس سے کیا کام لینا ہے یہ آپ نے فیصلہ کرنا ہے، مہنگائی میں کمی کے لئے آپ کو تقریروں اور بیانات سے بڑھ کر اقدامات کرنا ہوں گے،وہ ایجنسیوں کو فعال کرنا ہے یا ڈنڈا پکڑنا ہے، عوام مہنگائی کے حوالے سے ریلیف کے منتظر ہیں۔ یہی صورت حال نو ماسک نوکاروبار کی ہے، کورونا کی بڑھتی ہوئی وبا کو روکنا ہے تو غیر سنجیدہ عوام کو سنجیدہ کرنے کے لئے وفاق اور صوبوں کو رویہ بدلنا ہو گا، پولیس کی دیہاڑیاں ختم کرنا ہوں گی، ماسک نہ پہننے کے نقصانات اور ماسک پہننے کے فوائد سے عوام کو آگاہ کرنے کے لئے مہم چلانا ہو گی اس کے لئے سب سے پہلے عوام کے غیر سنجیدہ رویے ”کورونا نہیں ہے، ڈرامہ ہے، ڈالر گیم ہے، زبردستی کورونا مریض بنائے جا رہے ہیں“ جیسی بحث کو ختم کرنا ہو گا اور احتیاط اور ماسک کو ضروری قرار دینے کے ساتھ ساتھ پہنانے کے لئے ڈنڈا اٹھانا ہو گا۔

مزید :

رائے -کالم -