پشاور میں چوتھے روز بھی پیٹر ول پمپس پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں

پشاور میں چوتھے روز بھی پیٹر ول پمپس پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں

  

پشاور(سٹی رپورٹر)صوبائی دارلحکومت پشاور میں ت چوتھے روز بھی پیٹرول پمپوں میں شہریوں کی بڑی تعداد اپنی اپنی گاڑیوں کی ٹنکی فل کرانے کے لئے پیٹرول پمپ عملے کی منت سماجت کرتے ہوئے نظر آئے لیکن پیٹرول پمپ عملہ شہر میں پیٹرول اور ڈیزل کی کمی کا عذر پیش کرتے ہوئے ایندھن ڈالنے سے انکار کرتے رہے۔تفصیلات کے مطابق 31مئی کی رات سے جب وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کیا،پشاور شہر میں ناجائز منافع خوری کے عادی پیٹرول پمپ مالکان نے شہریوں کی گاڑیوں کے لئے فیول کی فراہمی بند کردی ہے جس کے نتیجے میں گزشتہ تین دن سے پشاور کے شہریوں کو پیٹرول اور ڈیزل کی مصنوعی قلت کا سامنا ہے۔واضح رہے کہ پیٹرول پمپ مالکان کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے بعد مصنوعی قلت پیدا کرنے کی روش عرصہ دراز سے رائج ہے، لیکن متعلقہ سرکاری ادارے پیٹرول پمپ مالکان کی اس غیر قانونی طرز عمل کی حوصلہ شکنی کے لئے ابھی تک کوئی واضح لائحہ عمل طے کرنے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں، یہی وجہ ہے کہ جون کے پہلی تاریخ سے پمپ مالکان نے پشاور شہر میں مصنوعی قلت پیدا کر کے شہریوں کو ذہنی اذیت پہچانے کی کوشش کر نے کے ساتھ ساتھ حکومتی احکامات سے بھی سرعام روگردانی کے مرتکب ہورہے ہیں، لیکن صوبائی حکومت کے متعلقہ ادارے اور ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن صورتحال سے باخبر ہونے کے باوجود پمپ مالکان کو قانون کے تابع بنانے میں ابھی تک کامیاب نہیں ہوئے جس کے نتیجے میں عوام پیٹرولیم مصنوعات کیلئیسرگردان ہیں۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -