وزیراعلٰی سندھ کے خلاف کوئی ثبوت موجود نہیں ہے: سید ناصر شاہ

وزیراعلٰی سندھ کے خلاف کوئی ثبوت موجود نہیں ہے: سید ناصر شاہ

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر)وزیر اطلاعات و بلدیات،ہاؤسنگ ٹان پلاننگ، مذہبی امور، جنگلات و جنگلی حیات سید ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ وزیر اعلی سندھ کے خلاف کیس انتہائی کمزور ہے اور ان کے خلاف کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی سندھ نے پارٹی رہنماں سے مشاورت مکمل کر لی ہے۔ سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ مراد علی شاہ کا متعلقہ کیس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی سندھ کو اس سے قبل اس کیس میں نوٹس تک جاری نہیں کیا گیا لیکن اس حکومت سے کوئی بعید نہیں ہے یہ کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ وزیر اعلی سندھ صرف اس وجہ سے پیش ہوئے ہیں کہ اس تاثر کو دور کیا جائے کہ وہ قانونی احکامات نہیں مانتے ہیں۔ لیکن اس کیس میں مراد علی شاہ ملوث نہیں وہ اس وقت سندھ کے وزیر خزانہ تھے انہوں نے کہا کہ یہ سب کچھ مفروضوں اور کھوکھلی بنیادوں پر مشتمل ہے اور اس کا مقصد اصل معاملہ سے لوگوں کی توجہ ہٹانا ہے۔ سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ جس طرح کورونا کے معاملہ پر وفاقی حکومت نے کچھ نہیں کیا اور وہ اس حد تک پھیل گیا ہے اب اس کا تدارک بہت مشکل ہے۔ سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ اسی طرح اس چینی کمیشن کی رپورٹ سے توجہ ہٹانے کے لئے مختلف ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اپنے آپ کو فرشتے سمجھ رہے ہیں اور اس معاملہ میں انہوں نے سوچا ہوگا کہ وزیر اعلی سندھ پیش نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اصل معاملہ سے لوگوں کی توجہ ہٹائی جارہی ہے کیونکہ چینی کمیشن کی رپورٹ پر کاروائی نہیں کرنا چاہ رہے ہیں انہوں نے کہاکہ چینی کمیشن کی رپورٹ میں صاف لکھا ہے کہ قیمتیں بڑھنے کی ایک بڑی وجہ ایکسپورٹ کی اجازت تھی جو کہ وزیر اعظم نے خو د دی تھی جس پر ان کے دستخط موجود ہیں۔ سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ کے پی کے پانچ سالہ دور حکومت کے کیسز کا کیا ہوا۔ یہ پاکستان کا بڑا المیہ ہے کہ ذمہ داروں کے خلاف کاروائی نہیں ہوتی ہے انہوں نے کہا کہ یہ لوگ یہ دعوی کر کے آئے تھے کہ ہم ایک نیا طرز حکومت لائیں گے لیکن اپنے دور میں اپنی پارٹی کے ذمہ داروں کے خلاف کاروائی کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔ اسی وجہ سے انہوں نے دوسرے کیسز کو اٹھانا شروع کر دیا ہے۔ وزیر اطلاعات سندھ نے کہا کہ لگتا یہ ہے کہ چینی بحران کے ذمہ داروں کے خلاف کوئی کروائی نہیں کہ جائے گی اور ان کے دور کے کے پی میں کرپشن کے کیسز پر بھی کوئی کاروائی نہیں ہوگی اسی وجہ سے دوسرے معاملات کو اٹھایا جارہا ہے تاکہ افراتفری پھیلے اور عوام اس کمیشن کی رپورٹ کو بھول جائیں۔ انہوں نے کہاکہ ہمارے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پہلے ہی کہ دیا ہے کہ سندھ کے وزیر اعلی مراد علی شاہ ہی رہیں گے چاہے وہ جہاں بھی ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اتنی مشکلات کے باوجود سب سے زیادہ کام وزیر اعلی سندھ کی سربراہی میں صوبہ سندھ میں ہی ہوا۔ وزیر اعلی سندھ نے اس وائرس کے آغاز سے ہی کہ دیا تھا کہ مکمل لاک ڈا?ن کرلیا جائے لیکن وفاقی حکومت نے اس کا نوٹس ہی نہیں لیا۔ بلکہ سندھ حکومت کے اچھے اقدامات پر تنقید کی گئی اور بعد میں وہی اقدامات پورے ملک میں نافذ کئے گئے اور میڈیا سمیت پوری دنیا نے سندھ حکومت کے اقدامات کی تعریف کی۔ لیکن وفاقی حکومت اس وقت تنقید برائے تنقید کی پالیسی پر عمل پیرا تھی اور ہے اور عوام کی جان بچانے کے لئے کوئی قدم نہیں اٹھا یا گیا جس کا خمیازہ آج پورا پاکستان بھگت رہا ہے اور اب کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ کب تک ہم اسی طرح زندگی گذاریں گے لیکن یہ بات طے ہے کہ وفاقی حکومت کی نا اہلی کی وجہ سے یہ سب کچھ ہوا ہے۔ سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ اومنی گروپ کو جتنی بھی سبسڈی دی گئی ہے وہ کل سبسڈی کا 15فیصد بھی نہیں ہے ہم نے کاشتکاروں کے لئے سبسڈی دی تھی۔جس میں سے 14فیصد جہانگیر ترین کی ملوں کو دی گئی اس وقت سبسڈی کاشتکاروں کو فائدہ پہنچانے کے لئے دی گئی تھی اور اس کے بعد ملیں چلیں اور کاشتکاروں کا گنا بکنا شروع ہوا اور اس سے عام کاشتکاروں کو فائدہ ہوا اور یہ سبسڈی 85فیصد دوسری ملوں کو ملی اور تقریبا 15فیصد اومنی گروپ کو ملی۔سید ناصر حسین شاہ نے کہاکہ ہر چیز ریکارڈ پر موجود ہے وزیر اطلاعات سندھ نے کہا کہ یہ صرف الزامات کی سیاست کرتے ہیں اور کوئی بھی ایسا کام نہیں کرنا چاہتے جس سے عوام کو کوئی فائدہ ہو۔

مزید :

صفحہ اول -