موجودہ صورتحال کا حل سخت لاک ڈاؤن نہیں کرفیو ہے، سعید غنی

موجودہ صورتحال کا حل سخت لاک ڈاؤن نہیں کرفیو ہے، سعید غنی

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیر تعلیم سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ موجودہ صورتحال کا حل سخت لاک ڈاؤن نہیں کرفیو ہے، وزیراعظم اورپی ٹی آئی یہ ماننے کیلئے تیار نہیں کہ کورونا خطرناک ہے۔ خصوصی گفتگو میں سعید غنی نے کہا کہ موجودہ صورتحال کا حل سخت لاک ڈاؤن نہیں کرفیو ہے، موجودہ صورتحال میں کرفیولگانابھی انتہائی مشکل ہے۔سعید غنی نے کہا کہ پہلے دن سے کہہ رہے تھے سخت لاک ڈاؤن کرومگروزیراعظم نہ مانے، وزیراعظم اورپی ٹی آئی یہ ماننے کیلئے تیار نہیں کہ کورونا خطرناک ہے۔وزیر تعلیم سندھ نے کہا وزیراعظم صاحب کورونا جان لیوا ہے فلو نہیں، ہم جب بھی سختی کرتے ہیں تو وزیراعظم نرمی کے بیان دیتے ہیں، ہم جب سختی کرتے پی ٹی آئی کہتی ہے پاکستان میں سی کلاس وائرس ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم،پی ٹی آئی،سپریم کورٹ چیف جسٹس کاالگ الگ موقف ہے، ہم کہتے تھے اسپتالوں میں جگہ نہیں ہوگی اوروہ وقت آنیوالا ہے۔دریں اثناء وزیر تعلیم سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ جب تک حالات بہتر نہیں ہوتے اسکول نہیں کھولے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ اسکول ایسوسی ایشنز کے کہنے پر اسکول نہیں کھولے جائیں گے، اسکول کھولنے پر آرڈیننس کے تحت کارروائی بھی کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ ہم کسی صورت بچوں کی صحت پر سمجھوتا نہیں کریں گے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ والدین کو فیسیں جمع کرنے کا اس لیے کہا کہ اساتذہ کو تنخواہیں ادا کی جا سکیں۔واضح رہے کہ پرائیویٹ اسکولز ایکشن کمیٹی نے اسکول تین مرحلوں میں 15 جون سے کھولنے کا اعلان کیا ہے۔پرائیویٹ اسکولز ایکشن کمیٹی کا کہنا تھا کہ اسکولز بند رکھنے سے نہ صرف کروڑوں طلبہ متاثر ہورہے ہیں بلکہ اساتذہ، کلرک، اسکول وین ڈرائیور، بک سیلرز، اسٹیشنریز، کینں ٹین کا عملہ بھی بے روزگاری اور فاقہ کشی پر مجبور ہیں۔

مزید :

صفحہ اول -