چارسدہ، سپلائی بند ہونے پر پنجاب سے 20کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت میں اضافہ

چارسدہ، سپلائی بند ہونے پر پنجاب سے 20کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت میں اضافہ

  

چارسدہ(بیورورپورٹ)ضلع انتظامیہ کی جانب سے فلورملز کو گند م کی سپلائی بند ہونے پر پنجاب سے برآمد ہونے والے 20کلو آٹے کی تھیلے کی قیمت 1100روپے تک پہنچ گئی جبکہ سپلائی بند ہونے سے چارسدہ کے 12فلور ملز پچھلے ایک ماہ سے بند پڑے ہیں جس سے نہ صرف ملز مالکان کو لاکھوں روپے کا نقصان پہنچ رہا ہے بلکہ ملزمیں کام کرنے والے سینکڑوں مزدور بھی بے روزگار ہوگئے ہیں۔دوسری جانب ضلع انتظامیہ کی سرتوٹ کوششوں کے باوجود 5000ٹن گند م کی خرید اری کے ہد ف میں محکمہ فوڈ صرف 8.4فیصد ہدف ہی پورا کرچکی ہے۔ تفصیلات کے مطابق چارسدہ کے تمام فلور ملز پر 5مئی کو سرکار گند م کی ترسیل بند کر دی گئی تھی جس کے بعد ضلع بھر میں پنجاب سے برآمد ہونے والے آٹے کی قیمت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور ایک ماہ میں آٹے کی20کلو تھیلے کی قیمت میں 300روپے تک کا اضافہ ہوا ہے جس کے بعدا ٓٹے کی 20کلو تھیلے کی قیمت 11سو روپے تک پہنچ چکی ہے۔اس حوالے سے اٹا ڈیلر اجمل خان کا کہنا ہے کہ پچھلے کئی ہفتوں سے پنجاب سے گندم اورآٹے کی سپلائی بند ہے جبکہ صرف پرمٹ ہولڈر کو آٹے کی ترسیل کی اجاز ت ہے جس کے باعث پنجاب سمیت دوسرے صوبوں سے آٹے کی ترسیل 70 فیصد تک کم ہوچکی ہے جس کے باعث آٹے کی قیمت میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔دوسری جانب ضلع چارسدہ میں گند کی سرکاری کھپت پوری کرنے کے لئے محکمہ فوڈ کو 50ہزار ٹن گند م کی خریداری کا ہدف دیا گیا ہے جس کو 0ستمبر2020تک پورا کیا جانامقصو د ہے لیکن محکمہ فوڈ کے اعداد و شمار کے مطابق اب تک 50ہزار ٹن کے ہدف میں محکمہ فوڈ صرف 420ٹن کی گندم ہی خرید چکی ہے جو کہ کل ہد ف کا 8.4فیصد بنتا ہے، جبکہ ضلع انتظامیہ کی جانب سے جلد از جلد ہد ف پورا کرنے کے لئے ہر یونین کونسل پٹواری کو نچھلے سطح پر گندم کی خریداری یقینی بنانے کے لئے ٹاسک دیا گیا ہے۔ دوسری جانب ہدف کو جلد از جلد پورا کرنے کے لئے ڈپٹی کمشنر عدیل شاہ نے اوپن مارکیٹ میں گندم کی خرید و فروخت اور عام ترسیل پر دفعہ144کے تحت پابندی بھی عائد کر دی گئی ہے جس کے باعث بعض ضرورت مند کسان سرکار نرخ پرگندم بھیجنے پر مجبور ہیں۔اس حوالے سے کسانوں کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے 100کلو گرام گند م کی خریداری کے لئے 3900روپے ریٹ مقرر کیا گیا ہے جبکہ اوپن مارکیٹ میں گندم کی 100کلوگرام بوری کا نرخ 42سو روپے سے بھی زیادہ ہے اس لئے کوئی بھی کسان انتظامیہ کو سستے داموں گندم بھیجنے کے لئے تیار نہیں۔ دوسری جانب فلور ملز ایسوسی ایشن کے صوبائی چیئرمین اقبال خان اور صوبائی راہنماء اعجاز خان کے مطابق سرکار کی جانب سے فلورملز کومقامی سطح سمیت صوبہ پنجاب سے ملز کو گندم کی ترسیل بند ہونے سے تمام فلور ملز پچھلے ایک ماہ سے بند پڑے ہیں جس کی وجہ سے نہ صرف آٹے کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے بلکہ ملز مالکان کو بھی لاکھوں روپے کا نقصان اٹھانہ پڑ رہا ہے جبکہ ان فلور ملز میں کام کرنے والے سینکڑوں مزدور بے روزگار ہو چکے ہیں جس پر ملز مالکان نے حکومت سے فوری طور پراوپن مارکیٹ میں گندم کی خرید و فروخت پر پابندی ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔سالانہ گندم کی پیدوار کے حوالے سے محکمہ زراعت کے فیلڈ آفیسر عنائت اللہ خان کا کہنا ہے کہ چارسدہ میں سال 2018میں 46504ہیکڑ زمین پر گند م کاشت کی گئی تھی جس کی مجموعی پیداور 85407ٹن تھی جبکہ سال2019میں 20184ہیکڑز رقبہ پر گندم کاشت گئی تھی جس سے مجموعی طور پر 48019ٹن گندم حاصل ہوئی تھی جو سال2018سے 37388ٹن کم ہے۔ محکمہ زراعت کے مطابق تاحال گند م کی پیدوار کا سیزن شروع ہیں لیکن امسال بھی گندم کی پیداور میں مزیدکمی آئی ہے جس کا اندازہ لگانے کے لئے سروے ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔یاد رہے کہ پنجاب حکومت نے صوبہ بھر میں گندم کی خریداری کا ہدف 45لاکھ ٹن جبکہ خیبر پختون خوا حکومت نے سرکاری سطح پر صوبے کے لئے 5لاکھ ٹن گندم کی خریداری کا ہد ف مقرر کیا تھا جس میں سیکرٹری فوڈ نثار احمد کے مطابق اب تک صرف 14ہزار ٹن گندم کی خریداری کی جا چکی ہے جبکہ کے پی حکومت نے اپنا مقرہ ہدف پورا کرنے کے لئے تمام ڈپٹی کمشنر کو ٹاسک سونپ دیا ہے جس کو پورا کرنے کے لئے ذخیرہ اندزوی آرڈنینس کے تحت صوبے کے تمام اضلاع میں گند م کی ترسیل یا ذخیرہ کرنے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔دوسری جانب صوبے بھر کے 180فلور ملز ملکان نے حکومت کی جانب سے اوپن مارکیٹ میں گندم کی خرید و فروخت پر پابندی کے عمل کو فلور ملز انڈسٹریز خلاف حکومتی سازش قرار دیتے ہوئے 5جون کو حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -