خونِ مسلم کی ارزانی

خونِ مسلم کی ارزانی
خونِ مسلم کی ارزانی

  

آخر یہ خونِ مسلم اتنا ارزاں کیوں ؟ یہ وہ سوال ہے جسکا جواب ہر زی شعور اور نرم دل شخص جاننا چاہتا ہے مگر افسوس جن کے پاس جواب ہے وہ غفلت کی نیند سو رہے ہیں یا یوں کہہ لیجیے کہ اُن کے مُردہ ضمیر جان بوجھ کر آنکھیں موندے ہوئے  ہیں ہم نے سنا بلکہ دیکھا بھی ہے کہ مغرب میں انسان تو انسان جانوروں کے حقوق کی پامالی پر بھی سخت سزائیں دی جاتی ہیں ،تو امن کی علم بردار یہ مغربی نام نہاد مہذب دنیا نہتے معصوم مسلمانوں کی خوں ریزی پر چپ کیوں سادھے ہوےء ہے ؟ کہتے ہیں غریب کی شنوائی نہیں ہوتی لیکن مسلمان تو غریب بھی نہیں اللہ تعالی نے متعدد اسلامی ممالک کو معدنیات نباتات ، قدرتی وسائل سے مالامال کیا ہے تیل گیس کے زخائر ہوں کوئلے نمک کی کانیں سنگ مرمرکے پہاڑ ، زرعی اجناس ، یا بہترین و موافق آب و ہوا ہو سب کچھ تو ہے انکے پاس کس چیز کی کمی ہے ؟ صلاحیتوں کی ؟ نہیں نہیں ۔ توریخ گواہ ہے مسلمان تو فہم فراست تدبر قابلیت میں اپنا ثانی نہیں رکھتے ۔

درحقیقت کمیاں خامیاں اور کوتاہیاں ہمارے حکمرانوں میں ہیں جنہیں ذہنی غلامی کی عادت پڑ چکی ہے انہوں نے یہ تسلیم کرلیا ہے کہ وہ خود کچھ نہیں کرسکتے بے بس ہیں اُن کی مثال اس مریض کی سی ہے جو صحت مند ہونے کے باوجود خودکو لاغر بیمار اور بےبس سمجھتے ہیں اور اسی وجہ سے وہ واقعتاً بیمار پڑ جاتے ہیں ۔باقی رہی سہی کسر انکے اردگرد جمع مفادپرست خوشامدیوں نے پوری کررکھی ہے دنیا میں تین قسم کے انسان ہر دور میں پاےء جاتے ہیں ایک گویا وہ جو خود کو صرف اپنے بنائے ہوئے خود ساختہ نظام کو درست قابلِ عمل سمجھتے ہیں دوسرے وہ جو اپنے مفادات کی خاطر ہر ایک کی مانتےہیں جی حضوری کرتے ہیں انکا کوئی عقیدہ ہے نہ ہی نظریہ ،اور تیسری قسم وہ ہے جو ہر کام ایک نظریے مقصد کے تحت کرتی ہےقرآن کی اصطلاح میں پہلا گروہ کافر دوسرا منافق اور تیسرا متقین کا ہے اس میں وہ مومنین بھی شامل ہیں جو کم فہم کم علم اور کم عمل تو ہوسکتے ہیں پر مفاد پرست نہیں ۔انکے بھی درجے ہیں کچھ کھڑے ہوکر شہادتِ حق کا فریضہ ادا کرتے ہیں کچھ چلکر ، کچھ دوڑکر ، کچھ مال خرچ کرکے اور کچھ ایسے بھی ہیں جو راہ حق میں اپنی جان بھی لٹا دیتے ہیں ۔

یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کے راستے میں جدوجہد کرنے والے ہیں انکے دل جذبہ ایمانی سے سرشار ہیں اللہ کےلیے اسکی اطاعت کےلیے یہ اللہ کی مخلوق سے محبت کرتے ہیں مگر ایسے مسلمانوں کی تعداد بہت کم ہے یہی لوگ درحقیقت اُمتِ مسلمہ کے اصل نمائندے ہیں ۔ باطل ان گھبراتا اور انہیں اپنے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھتا ہے آج تمام عالمِ کفر جاں باز نڈر مسلمانوں کی آواز دبانا چاہتے ہیں یہ آوازیں فلسطین ، برما ، بوسنیا عراق کشمیر جہاں سے بھی اُٹھیں انہیں دبانے ہمیشہ کےلیے ختم کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں دشمن فرقہ ورانہ تقسیم تو کبھی قومیت کے نعرے کے زریعے لوگوں کی راےء تقسیم کرکے اپنا اقتدار بچانا چاہتا ہے مگر یہ بھی سچ ہے کہ ہر جگہ ایک ہی فارمولا قابل عمل نہیں ہوتا اور کشمیر کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے وہ نہتے مگر نڈر مسلمان متحد ہوکر اپنی آزادی بقا اور سالمیت کی جنگ لڑرہے ہیں ۔اب چاہیے دنیا کے نام نہاد امن کے عّلم برداروں کی توجہ انکی طرف ہو نہ ہو چاہے سفاک دشمن انکے جسموں سے لہو کا آخری قطرہ تک کیوں نہ نچوڑ لے ۔کشمیری اپنی جدوجہدِ آزادی سے پیچھے نہیں ہٹیں گے قرآین و شواہد بتاتے ہیں کہ اب یہ مسّلہ انشااللہ حل ہونے کو ہے کہ کشمیری قوم ہزارہا پابندیوں ، خونی درندگی کے باوجود بھی ڈرنے والی نہیں نہ ہی جھکنے والی ہے اپنا سب کچھ لٹا کر بھی اپنا تشخص پہچان اپنی آزادی حاصل کرکے ہی دم لیں گے اب یہ ہمارا ( مسلم اُمہ ) بالخصوص پاکستانیوں کا فرض ہے کہ کشمیری بہن بھائیوں کا قدم قدم ساتھ دیں یہ وقت انہیں تسلی دینے انکی ڈھارس بننے اور اُن کےلیے آواز اُٹھانے کے ساتھ عملی اقدامات کا ہے اگر آج ہم سب متحد ہوجائیں تو عالم کفر کو یہ پیغام پہنچے گا کہ مسلمان کسی ایک ملک میں نہیں پوری دنیا میں بستے ہیں اور جب جب کسی مسلمان پر مشکل کھٹن وقت آئے گا تو سب تمام تو فروعی اختلافات بھول کر اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہونگے کہ ہم بطور مسلم متحد بلکہ ایک ناقابل تسخیر قوت ہیں ۔

۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

 ۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید :

بلاگ -