ماحولیات کا عالمی دن: ہم نے زمین کو کیا دیا ہے؟

ماحولیات کا عالمی دن: ہم نے زمین کو کیا دیا ہے؟
ماحولیات کا عالمی دن: ہم نے زمین کو کیا دیا ہے؟

  

پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج ماحولیات کا عالمی دن منایا جا رہا ہے،اس دن کو منانے کا مقصد عوام میں ماحول کی بہتری اور آلودگی کے خاتمے سے متعلق شعور و آگاہی پیدا کرنا ہے۔اقوام متحدہ کے زیر اہتمام یہ دن سن 1974 سے ہر سال باقاعدگی سے منایا جاتا ہے۔اس دن اقوام عالم ماحولیاتی مسائل پر قابو پانے کے عزم کا اعادہ کرتی ہیں ۔دنیا کے بیشتر ممالک میں ماحولیات کے عالمی دن کی مناسبت سے واک، ریلیاں، سیمینارز اور دیگر تقاریب کا انعقاد کیا جاتا ہے۔

عالمی ماحولیاتی پروگرام کے  مطابق کرہ ارض کو ماحولیاتی تباہی سے بچانے کے لئے فطرت کے وضع کردہ لاتعداد حیاتیاتی نظام، مستقبل میں 50 بلین ٹن کاربن گیسوں کو اپنے اندر جذب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ تاہم قدرتی ماحولیاتی نظام کے اس طویل سلسلے میں تمام ماحول دوست امکانات کو استعمال میں لانے کے لئے خود زمین پر آباد انسانوں کو بھی اپنے اردگرد کی آب و ہوا کو صاف رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرنا ہو گی۔

 اس سوچ کے تحت گزشتہ تین برس سے چین نے قدرتی ماحول کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ شہری ماحول کی خوبصورت پر بھی بہت زیادہ کام کیا ہے۔ رواں برس چین ماحولیات کے عالمی دن کا موضوع ہے "مجھے چین کو خوبصورت بنانا ہے" ۔مارچ  دو ہزار سترہ  سے چین کی  وزارت ہاؤسنگ اینڈ اربن رورل ڈویلپمنٹ نے ملک کے چھیالیس اہم شہروں کو گھریلو کوڑے کرکٹ کی لازمی درجہ بندی کی تجربہ گاہوں کے طور پر استعمال کیا ہے۔ ابھی تک ان شہروں میں ستر فیصد سے زائد کوڑے کی درجہ بندی کو یقینی  بنا لیا گیا ہے۔ وزارت ہاؤسنگ اینڈ اربن رورل ڈویلپمنٹ کے منصوبے کے مطابق ، دو ہزار بیس کے آخر تک  ،چھیالیس اہم شہروں میں بنیادی طور پر گھریلو  کچرے کی  درجہ بندی اور انتظام کے سسٹم کو مکمل کیا جائے گا ۔دو ہزار پچیس تک چین  دوسرے شہر وں میں اس نظام کی تکمیل کو یقینی بنایاجائے گا۔ چین نے گزشتہ چالیس برس کے دوران ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے کے میدان میں قابل قدر کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام UNEP کی ایک رپورٹ میں زمین کے ماحول کو سبز مکانی گیسوں کے اثرات سے بچانے کے لئے جنگلات کی کٹائی کو روکنے، غیر محتاط طرز زراعت سے بچنے اور ماحول دوست طریقے اپنانے پر زور دیا گیا ہے۔عالمی سطح پر ماحولیاتی آلودگی میں اضافے کی وجوہات بیان کرتے ہوئے UNEP کی اس رپورٹ میں کئی شعبوں میں بہت اہم مشورے دیئے گئے ہیں۔ مثال کے طور پر یہ کہ کرہ ارض کے حیاتیاتی نظاموں کا بہتر انتظام کئی ارب ٹن ایسی زہریلی گیسوں کے غیر نقصان دہ انداز میں زمین پر ہی دوبارہ جذب کئے جانے کا باعث بن سکتا ہے جو اب تک ماحول کے لئے تباہ کن ثابت ہو رہی ہیں۔

وطن عزیزپاکستان جہاں مختلف مسائل کا شکار ہے اس میں شامل ایک اہم اور نمایاں مسئلہ ماحول کی ابتر صورتحال ہے، دور حاضر میں انسان جدید طرز زندگی کا عادی ہونےکی وجہ سے فطرت میں خرابی کی اہم وجہ بن رہا ہے جس میں نا مناسب سیوریج کا نظام، ماحول دشمن آلات کا بے دریغ استعمال، گاڑیوں کی بہتات،گندگی کو تلف کرنے کے نامناسب طریقے اور انتظامات ، شور کا بڑھتا ہوا رجحان، ڈسپوزایبل پروڈکٹس کی بھرمار، تنصیباتی و ابلاغ کے لئے وائرلیس سسٹم و جدید شعاعوں کا بے دریغ استعمال اور بہتات، شعاعی نظام کے زیر اثر نقل و حرکت، ریڈیو ایکٹو تنصیبات اور رہائشی علاقوں پر اس کے منفی اثرات جیسے بہت سے عوامل ماحول دشمنی کا ایک بہت بڑا سبب ہیں۔

اگر ماحول میں عدم توازن ہو تو قدرتی نظام ہی اس کو درست سمت میں گامزن کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن یہ درستگی انسانی صلاحیتوں اور ترقی کی راہ میں کو آسان کرکے قدرتی نظام کی دیکھ بھال کے لئے اہم پیش خیمہ ہو گی اور انسان کی جدیدیت کی باگ ڈور بعض اوقات ایسے نقصانات کو جنم دیتی ہے کہ جیسے انسان کا اس کرہ ارض سے تعلق منقطع ہے اور وہ اس کی حفاظت کے بغیر سوچے سمجھے ترقی کی منازل طے کرنے کا خواہاں ہے۔

پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں جہاں ہمارے بچے گھر سے باہر غیر نصابی سرگرمیوں کے لئے قلیل وقت رکھتے ہیں، جہاں گھر سے باہر کھیلنے والے بچے کے لئے اوسطاً تیس منٹ دورانیہ میسر ہو اور بچے ٹی وی، کمپیوٹر اور سمارٹ فون جیسی اشیاء پر اوسطاً سات گھنٹے صرف کرتے ہوں اور نوجوانوں کی حالت زار بھی اسی طرح ہو جو کہ اس ملک میں ایک بہت بڑی تعداد رکھتے ہوں مگرزیادہ وقت کام کاج، گاڑی کے استعمال، شاپنگ، ریسٹورنٹ اور گھر میں گزارنے کو ترجیح دیتے ہوں تو ایسی صورتحال میں ہمیں سکرین کے بجائے ’’گرین‘‘ ماحول کو پروان چڑھانے کے لئے کوششیں کرنا ہوں گی ۔

بعض اوقات مٹی میں کھیلنا، باغبانی، فطرت کے قریب اور صحت مند زندگی کا ضامن ہوتا ہے، لیکن موجودہ صورتحال میں ہم جو کچھ زمین کے ساتھ کر رہے ہیں در اصل ہم قدرتی نظام کو نقصان پہنچا رہے ہوتے ہیں اور یہ بہترین وقت ہےکہ ہم فطرت سے دوبارہ اپنے رابطے کو بحال کریں اور صحت مند صاف معاشرے کی تشکیل کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔

.

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

 ۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید :

بلاگ -