کورونا وائرس آسٹریلوی کرکٹ میں بھونچال لے آیا، بورڈ اور کھلاڑیوں میں ٹھن گئی مگر کیوں؟ تفصیلات سامنے آ گئیں

کورونا وائرس آسٹریلوی کرکٹ میں بھونچال لے آیا، بورڈ اور کھلاڑیوں میں ٹھن گئی ...
کورونا وائرس آسٹریلوی کرکٹ میں بھونچال لے آیا، بورڈ اور کھلاڑیوں میں ٹھن گئی مگر کیوں؟ تفصیلات سامنے آ گئیں

  

سڈنی (ڈیلی پاکستان آن لائن) کورونا وائرس کی موذی وباءنے آسٹریلین کرکٹ میں بھونچال پیدا کر دیا ہے اور بورڈ ہر صورت معاوضوں سمیت تمام اخراجات میں 25 فیصد کٹوتی پر ڈٹ گیا تاہم کرکٹرز نے آمدنی کا تخمینہ مسترد کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق کرکٹ آسٹریلیا (سی اے) کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر (سی ای او) کیون رابرٹس نے ایک بار پھر واضح کیاکہ بورڈ کو اگلے مالی سال میں 140 ملین سے زائد کا نقصان متوقع ہے جس سے بچنے کیلئے ہر صورت اخراجات میں 25 فیصد کمی کو یقینی بنایا جائے گا، بظاہر بورڈ کو آئندہ برس 407 ملین ڈالر کی آمدنی متوقع ہے اور اگر اس میں سے 25 فیصد کٹوتی ہوئی تو پھر کھلاڑیوں، ان کی سہولیات اور دیگر فنڈز کی مد میں اے سی اے کو اپنے حصے سے 28 ملین ڈالر کم ملیں گے۔

پلیئرز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ بھارتی ٹیم دورہ کرنے والی ہے جبکہ بورڈ نے دیگر ممالک کے ساتھ بھرپور ہوم سیزن کا اعلان کیا ہے،اس وجہ سے آنے والے 12 ماہ میں کسی نقصان کا کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا۔ تین برس قبل طے پانے والے ایم او یو کے تحت بورڈ کی آمدنی میں سے 27.5 فیصد حصہ پلیئرز باڈی کا فکس ہے، اگرچہ پلیئرز کو یقین دہانی کرائی گئی کہ ان کی میچ فیس اور معاوضوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا مگر ایسوسی ایشن کو خدشہ ہے کہ جب اتنی بڑی رقم حصے سے کاٹی جائے گی تو تمام سٹیک ہولڈرز متاثر ہوں گے۔

پلیئرز ایسوسی ایشن نے اسی وجہ سے بورڈ کے اس تخمینے کو چیلنج کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے اور اس حوالے سے تمام کھلاڑیوں کو باقاعدہ ای میلز بھیج دی گئیں جس میں اپنی پوزیشن واضح کرتے ہوئے باضابطہ طور پر اس تخمینے کو چیلنج کرنے کے ارادے سے آگاہ کیا ہے۔ اگر اے سی اے نے اسے عملی جامہ پہنایا تو دونوں فریقین کے درمیان 21 روز تک معاملے کو بات چیت کے ذریعے خوش اسلوبی سے حل کرنے کی کوشش ہوگی اور اگر ایسا نہ ہو سکا تو پھر دونوں فریقین میں ثالثی کا عمل شروع ہوگا، اس میں بھی بات نہ بنی تو آخر میں تنازع عدالت میں جائے گا۔

آسٹریلین کرکٹ بورڈ کا موقف ہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے میچ ڈے ریونیو 55 ملین ڈالر سے کم ہوکر 10 ملین ڈالر رہ جائے گا مگر کرکٹرز ایسوسی ایشن کا اصرار ہے کہ ہمارے ریونیو شیئرنگ کا انحصار گیٹ آمدنی پر نہیں بلکہ نشریاتی حقوق اور سپانسر شپ سے حاصل ہونے والی رقم پر ہے۔

مزید :

کھیل -