امریکی جنرل ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہوگئے، مظاہرین سے نمٹنے کے لیے بلائی گئی فوج واپس بھیجنا پڑگئی، بڑی شرمندگی

امریکی جنرل ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہوگئے، مظاہرین سے نمٹنے کے لیے ...
امریکی جنرل ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہوگئے، مظاہرین سے نمٹنے کے لیے بلائی گئی فوج واپس بھیجنا پڑگئی، بڑی شرمندگی

  

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی ریاست منیسوٹا کے شہر منیپولیس میں سیاہ فام شہری جارج فلوئیڈ کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد پھوٹنے والے ہنگاموں نے پورے امریکہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ جا بجا پولیس اور مظاہرین کے مابین جھڑپیں ہو رہی ہیں۔ مختلف برانڈز کے سٹور لوٹے جا رہے ہیں، عمارتوں اور گاڑیوں کو آگ لگائی جا رہی ہیں۔ پولیس آفیسر کو کہیں گولیاں ماری جا رہی ہیں اور کہیں ان پر گاڑیاں چڑھائی جا رہی ہیں۔ غرض پورے ملک میں ایک خانہ جنگی کا سا منظر ہے۔ ان مشتعل مظاہرین کو روکنے کے لیے صدرڈونلڈ ٹرمپ نے فوج طلب کر لی تھی اور اسے دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں تعینات کر دیا تھا لیکن امریکی جنرلز صدر ٹرمپ کے اس فیصلے کے خلاف ڈٹ کر کھڑے ہو گئے اور آئی ہوئی فوج واپس بھیج کر صدر ٹرمپ کو نئی خفت اٹھانی پڑ گئی۔

میل آن لائن کے مطابق امریکی جرنیلوں نے صدر ٹرمپ کے کہنے پر فوج کو مظاہرین کے خلاف استعمال کرنے سے انکار کر دیا جس پر صدر ٹرمپ اپنے فیصلے سے پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گئے اور واشنگٹن آئے ہوئے 200سے زائد فوجی واپس شمالی کیرولائنا بھیج دیئے گئے۔ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل مارک میلی سمیت درجنوں حاضر سروس اور ریٹائرڈ جرنیل صدر ٹرمپ پر برس پڑے اور ان پر فوج کو سیاسی چپقلش میں گھسیٹنے کا الزام عائد کر دیا۔ جنرل مارک میلی نے کھلے عام صدر ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے واشنگٹن میں تعینات کیے گئے فوجیوں کو حکم دیا کہ وہ آئین کی پاسداری کریں۔ انہوں نے کہا کہ ”فوج نے امریکہ کے لیے اپنی زندگیاں وقف کر رکھی ہیں اور ہم امریکی شہریوں کے حق آزادی کا تحفظ کریں گے۔“ اپنے اس بیان میں جنرل مارک نے مظاہرین کے حق اجتماع کو بھی تسلیم کیا اور کہا کہ لوگ احتجاج کے لیے جمع ہونے کا حق رکھتے ہیں۔

امریکی فوج کے سابق فور سٹار جنرل جان ایلن اور سابق وزیردفاع جنرل ریٹائرڈ جیمز میٹس نے بھی صدر ٹرمپ کی طرف سے فوج طلب کرنے پر کھلے عام تنقید کی۔ جنرل میٹس نے کہا کہ ”میری زندگی میں ڈونلڈٹرمپ پہلے صدر ہیں جو ملک کو متحد کرنے کی بجائے تقسیم کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ وہ امریکی عوام کو متحد رکھنے کی جھوٹی کوشش بھی نہیں کر رہے۔ “

جنرل ایلن نے ڈونلڈٹرمپ کے دور صدارت کو امریکہ میں جمہوریت کے خاتمے کا نکتہ آغاز قرار دے دیا۔ انہوں نے صدر ٹرمپ کے چرچ جا کر بائبل تھامنے کے اقدام کو بھی تنقید کا نشانہ بناڈالا اور کہا کہ انہوں نے یہ کام فوٹوسیشن کے لیے کیا تھا۔ انہوں نے جارج فلائیڈ کے قتل پر صدر ٹرمپ کے ردعمل کو بھی شرمناک قرار دیا۔شہروں میں فوج طلب کرنے کے فیصلے پر خود صدر ٹرمپ کی کابینہ کے اہم عہدیدار اور قریبی لوگ بھی ان کا ساتھ چھوڑ گئے تھے۔ وزیردفاع مارک ایسپر نے بھی شہروں میں فوج تعینات کرنے کے معاملے پر صدر ٹرمپ کے بیان سے دوری اختیار کر لی تھی اور صدر ٹرمپ کے دست راست سینیٹر لنزی گراہم نے بھی تسلیم کر لیا کہ وہ اب یہ نہیں کہہ سکتے کہ صدر ٹرمپ پر کوئی الزام عائد ہی نہیں کیا جا سکتا۔ صدر ٹرمپ کی پارٹی ری پبلکن کی سینیٹر لیزا مرکووسکی نے جیمز میٹس کے بیان کو وقت کی ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ” اب ہمارے لیے صدر ٹرمپ کے ساتھ کھڑا ہونا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔“

یہاں آپ کو یہ بتاتے چلیں کہ سیاہ فام شہری جارج فلوئیڈ کو منیپولیس میں پولیس نے جعلی نوٹ چلانے کی کوشش کرنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ انہوں نے جارج کو ہتھکڑیاں لگائیں اور زمین پر اوندھے منہ لٹا دیا اور ایک آفیسرنے 8منٹ سے زائد وقت تک جارج کی گردن پر گھٹنا دے کر اسے دبائے رکھا جس سے اس کا سانس بند ہو گیا اور وہ جہان فانی سے رخصت ہو گیا۔ قریب موجود لوگوں نے اس واقعے کی ویڈیو بنائی جس میں جارج فلوئیڈ گھگھیائی آواز میں پولیس آفیسر سے کہہ رہا ہوتا ہے کہ ”مجھے سانس نہیں آ رہی۔“ مگر آفیسر اس کی گردن مزید زور سے دبا دیتا ہے۔ آس پاس موجود لوگوں میں سے بھی ایک شخص آفیسر سے گھٹنا ہٹانے کو کہتا ہے لیکن آفیسر اس کی بات بھی نہیں مانتا۔ یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی جس کے بعد منیپولیس میں ہنگامے شروع ہوئے جو اب ایک تحریک کا روپ اختیار کرکے پورے امریکہ کو لپیٹ میں لے چکے ہیں۔

مزید :

بین الاقوامی -