پنجاب پولیس میں بڑے پیمانے پر تقرر و تبادلے

پنجاب پولیس میں بڑے پیمانے پر تقرر و تبادلے
پنجاب پولیس میں بڑے پیمانے پر تقرر و تبادلے

  

لاہور(لیاقت کھرل) ڈی آئی جی آپریشن لاہور،ڈی آئی جی انویسٹی گیشن لاہور ڈاکٹر انعام وحید کو ناقص کارکردگی پر عہدے سے ہٹا یا گیا ہے ۔ سہیل اختر سکھیرا کو ڈی آئی جی انوسٹی گیشن لاہور،عبادت نثار کوایس ایس پی لاہور(آپریشن) تعنیات کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے ۔ ایس ایس پی آپریشن فیصل شہزاد اور ایس ایس پی انوسٹی گیشن لاہور ذیشان اصغر ملک کو بھی عہدوں سے ہٹایا جارہاہے ۔ جس کی وزیر اعلی پنجاب نے باقاعدہ منظوری دے دی ہے ۔

ایس ایس پی ایڈمن لاہور کیپٹن لیاقت علی ملک بھی ایس ایس پی آپریشن لاہور کی سیٹ کے لیے مظبوط امیدوار سمجھے جارہے ہیں ۔ ناقص کارکردگی پر تبدیل ہونے کے باوجود سابق ڈی آئی جی انوسٹی گیشن لاہور ڈاکٹر انعام وحید کو آر پی او گوجرانوالہ تعنیات کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے ۔ آر پی او گوجرانوالہ کو او ایس ڈی بنایا جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ سی پی او ملتان وسیم سیال ۔ سی پی او فیصل آباد کیپٹن ریٹائرڈ محمد سہیل کو بھی تبدیل کیا جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔

 ایس پی آپریشن کینٹ لاہور ۔ ایس پی سیکورٹی لاہور ۔ ایس پی سی آئی اے ایس پی انوسٹی گیشن سٹی ڈویزن ایس پی ماڈل ٹاؤن آپریشن اعجاز رشید کو بھی ناقص کارکردگی پر تبدیل کیا جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ اسی طرح ایس پی انوسٹی گیشن ماڈل ٹاؤن لاہور اسد مظفر،ایس پی سول لائن انوسٹی گیشن کیپٹن ریٹائرڈ دوست محمد اور ایس پی سٹی رضا صفدر کو بھی تبدیل کیا جا رہا ہے ۔ ایس پی رضا صفدر کاظمی کو ایس پی آپریشن کینٹ ڈویزن تعنیات کیا جارہا ہے تاہم وہ ایس پی آپریشن سول لائن ڈویزن تعیناتی کے لیے کوشش کررہے ہیں ۔ لاہور پولیس کے چار ایس پیز بھی ناپسندیدہ قرار دیے جانے والے افسران میں شامل ہیں ۔

 لاہورپولیس کے تبدیل ہونے والے ڈی آئی جی آپریشن لاہور رائے بابر سعید کو ناقص کارکردگی پرجبکہ ڈی آئی جی انوسٹی گیشن لاہور ڈاکٹر انعام وحید کو ایک اعلی پولیس افسر کی شکایت پر تبدیل کیا گیا ہے ۔ ایس ایس پی آپریشن لاہور فیصل شہزاد اور ایس ایس پی انوسٹی گیشن لاہور ذیشان اصغر ملک سمیت لاہور پولیس کے 6 ایس پیز کو بھی تبدیل کرنے کے لیے وزیر اعلی پنجاب سے منظوری حاصل کر لی گئی ہے ۔ جبکہ اس کے علاوہ آر پی او گوجرانوالہ ۔ سی پی او گوجرانوالہ ۔ سی پی او ملتان ۔ سی پی او فیصل آباد سمیت 19اضلاع کے ڈی پی اوز کو تبدیل کرنے کےلئے پلان تیار کر کے سمری وزیر اعلی پنجاب کو بھجوا دی ہے ۔

 ذرائع نے انکشاف کیا ہے آئی جی پولیس پنجاب ڈاکٹر محمد شیعب دستگیر نے ڈی آئی جی آپریشن لاہور رائے بابر سعید کو لاک ڈاؤن کے دوران شہر میں کرائم کے گراف میں خطرناک حد تک اضافہ ہونے پر عہدے سے ہٹایا گیا ہے ۔ اور ڈی آئی جی انوسٹی گیشن لاہور ڈاکٹر انعام وحید کو بھی ناقص کارکردگی پر عہدے سے ہٹایا گیا ہے تاہم ذراءع کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر انعام وحید کا سی سی پی او لاہور ذولفقار حمید سے بھی تنازع چل رہا تھا جس میں نواب ٹاءون میں ایک کم سن لڑکے کو بداخلاقی کے بعد قتل کرنے والے کیس میں کشمکش مزید سنگین آئی ۔ اور سی سی پی او لاہور ذولفقار حمید نے ڈی آئی جی انوسٹی گیشن ڈاکٹر انعام وحید کی آئی جی پولیس او شکایت کی ۔ جس پر ڈی آئی جی انوسٹی گیشن لاہور ڈاکٹر انعام وحید کو فارغ کیا گیاہے ذراءع کا کہنا ہے کہ آئی جی پولیس پنجاب ڈاکٹر محمد شیعب دستگیر کی زیر صدارتتین روز قبل ہونے والے ویڈیو لنک اجلاس میں آئی جی پولیس نے لاہور پولیس کی کارکردگی پر ایک مرتبہ پھر عدم اعتماد کا اظہار کیا ۔

اس موقع پر آئی جی پنجاب نے لاہور پولیس کی کارکردگی کا دوبارہ جائزہ لیا اور امن و امان کی ناقص صورتحال پر سخت برہمی کا اظہار کیا ۔ اس موقع پر آئی جی پنجاب کو بتایا گیا کہ لاہور پولیس امن و امان قائم رکھنے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے اور گزشتہ پانچ ماہ کے دوران کرائم کا گراف میں 200فیصد اضافہ ہوا ہے ۔ اس میں پولیس کلچر میں تبدیلی ۔ تھانوں کا عوام دوست ماحول اور مظلوم کی تھانوں میں رسائی کو ممکن نہیں بنایا جاسکا ہے ۔ جس سے امن و امان کی صورتحال روز بروز خراب ہوتی جاری ہے ۔ اور بالخصوص لاہور پولیس کے موجودہ افسران بار بار احکامات کے باوجود ٹس سے مس نہیں ہورہے ہیں ۔ جس کے باعث شہر میں سنگین کرائم میں خطر ناک حد تک اضافہ ہو کر رہ گیا ہے اور اس میں شہر میں گزشتہ 5ماہ کے دوران ڈاکوؤں اور رہزنوں کی لوٹ مار میں بھی 200فیصد اضافہ ہوا ہے اور گذشتہ پانچ ماہ کے دوران 16شہریوں کو ڈکیتی مزاحمت پر قتل ک کرکے اربوں روپے لوٹ لیے گئے ہیں اور لاہور پولیس کی کارکردگی دیگر اضلاع کی نسبت ناقص ہے ۔ اور لاہور پولیس کا شمار ایک مرتبہ پھر ان اضلاع میں شمار ہو کر رہ گیا ہے جن اضلاع میں کرائم کی صورتحال روز بروز سنگین ہوتی جاری ہے ۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی جی پولیس پنجاب ڈاکٹر محمد شیعب دستگیر کو یہ بھی بتایا گیا کہ لاہور پولیس ڈکیتی قتل کے کسی بڑے واقعہ کے ملزمان کو گرفتار نہیں کر سکی ہے ۔ جبکہ گزشتہ پانچ ماہ کے دوران 149افراد کو دیرینہ دشمنی معمولی جھگڑوں ۔ لین دین اور ۔ لینڈ ڈسپیوٹ پر قتل کیا گیا ہے ۔ 510شہریوں کوشہریوں کو موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں سے محروم کیا گیا ہے اسی طرح اغوا کے واقعات میں بھی 200فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے ذراءع کا کہنا ہے کہ آئی جی پولیس نے اجلاس کے فوری بعد وزیر اعلی پنجاب کو صورتحال سے آگاہ کیا ۔ جس پر وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار نے آئی جی پولیس کو لاہور پولیس سمیت ناقص کارکردگی کے حامل ڈی پی اوز کو فوری تبدیل کرنے کا حکم دیا ۔ جس پر آئی جی پولیس نے لاہور پولیس کے دونوں ڈی آئی جیز کو عہدوں سے ہٹایا ہے ۔

 ذرائع کا کہنا ہے دوسرے مرحلے میں ایس ایس پی آپریشن لاہور فیصل شہزاد اور ایس ایس پی انوسٹی گیشن لاہور ذیشان اصغر ملک کو بھی تبدیل کیے جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ اور اس کے ساتھ ساتھ لاہور پولیس کے 6ایس پیز کو بھی تبدیل کیا جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ آر پی او فیصل آباد ۔ آر پی او گوجرانوالہ ۔ سی پی او گوجرانوالہ ۔ سی پی او ملتان ۔ شیخوپورہ ۔ ننکانہ ۔ فیصل آباد ۔ ساہیوال ۔ رحیم یار خان ۔ ملتان ۔ مظفرگڑھ سمیت 19 اضلاع کے ڈی پی اوز کو بھی تبدیل کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے جبکہ ایس ایس پی آپریشن لاہور فیصل شہزاد اور ایس ایس پی انوسٹی گیشن لاہور ذیشان اصغر ملک سمیت لاہور پولیس کے 6 ایس پیز کو بھی تبدیل کیا جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے اسی طرح اغوا ۔ قتل ۔ ڈکیتی قتل سمیت امن و امان کی صورتحال روز بروز سنگین ہونے پر لاہور پولیس کے10 ڈی ایس پیز کے بھی اگلے مرحلہ میں تبادلے کیے جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اس کے بعد شہریوں سے بدتمیزی ۔ تشدد اور بوگس مقدمات درج کرنے والے لاہور پولیس کے25 تھانوں کے ایس ایچ اوز کو بھی تبدیل کیا جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ جس کی آئی جی پولیس اور سی سی پی او لاہور نے ایک میٹنگ میں فیصلہ کر لیا ہے ۔ اس حوالے سے ایڈیشنل آئی جی انعام غنی کا کہنا ہے کہ پولیس رولز کی خلاف ورزی اورپولیسنگ کے نظام میں روکاوٹ ڈالنے والے پولیس افسران کو تبدیل کیا جا رہا ہے جس کی وزیراعلی پنجاب سے باقائدہ اجازت حاصل کی گئی ہے ۔

مزید :

جرم و انصاف -علاقائی -پنجاب -لاہور -