پی سی بی کے 55 ملازمین کی برخاستگی کا نوٹس واپس لینے کا معاملہ، سابق رکن گورننگ بورڈ بھی میدان میں آ گئے

پی سی بی کے 55 ملازمین کی برخاستگی کا نوٹس واپس لینے کا معاملہ، سابق رکن ...
پی سی بی کے 55 ملازمین کی برخاستگی کا نوٹس واپس لینے کا معاملہ، سابق رکن گورننگ بورڈ بھی میدان میں آ گئے

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے سابق رکن گورننگ بورڈ اور کراچی ریجن کے سابق سربراہ پروفیسر اعجاز فاروقی نے بورڈ کی جانب سے 55 ملازمین کی برخاستگی کا نوٹس واپس لئے جانے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ بورڈ نے اس مشکل وقت میں فہم و فراست کا ثبوت دیتے ہوئے بروقت ایک مثبت قدم اٹھایا ہے۔

تفصیلات کے مطابق انہوں نے کہا کہ بورڈ کی اپنی پالیسیاں ہوتی ہیں جس کے تناظر میں بعض اوقات مشکل اور بڑے فیصلے کرنا پڑتے ہیں تاہم دانشمندی کا تقاضہ یہی ہوتا ہے کہ حالات اور واقعات کے مطابق فیصلے ترتیب دیئے جائیں، اکثر اوقات آپ کو اپنے کئے گئے فیصلوں پر نظر ثانی کرنا پڑتی ہے اور بورڈ کا ملازمین کی برخاستگی کے حوالے سے فیصلہ واپس لینا اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، جسے قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔

پروفیسر اعجاز فاروقی نے کہا کہ بورڈ سابق کرکٹرز کو پینشن کی مد میں ادائیگی کرتا ہے، کوویڈ 19میں چیئرمین احسان مانی نے ایک کروڑ 35 لاکھ روپے جمع کرائے، عیدالفطر سے پہلے سابق فرسٹ کلاس کرکٹرز، میچ آفیشلز کیلئے ایک پیکیج کا اعلان کیا، جو بلاشبہ بورڈ کے عمدہ کام کہے جاسکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ملازمین کے حوالے سے بورڈ کو ایک میکنزم بنانے کی ضرورت ہے، میں خود ماضی میں بورڈ کی مختلف کمیٹیوں کا حصہ رہا ہوں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ کم تنخواہوں پر کام کرنے والے ہوں یا بڑی تنخواہ لینے والے، ان کے لئے کارکردگی کا ایک پیمانہ ترتیب دینے کی ضرورت ہے، جس کی بنیاد پر ادارے کو کسی کی نوکری جاری رکھنے یا ختم کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہونا چاہیے، تاکہ شفافیت کے تقاضے پورے ہوں اور یہ بحث ہی ختم ہوجائے۔

مزید :

کھیل -