امت پہ تیری آ کے عجب وقت پڑا ہے 

 امت پہ تیری آ کے عجب وقت پڑا ہے 
 امت پہ تیری آ کے عجب وقت پڑا ہے 

  

مقام بندگی دیگر، مقام عاشقی دیگر……

زنوری سجدہ می خواہی زخا کی بیش ازاں خواہی 

پاکستان میں ہر نوع کا میڈیا اپنے قومی محسنوں علامہ محمد اقبالؒ اور قائد اعظمؒ سے اپنے کسی بھی تعلق و عقیدت سے بیگانہ اور ان کے تصور اسلام سے منحرف ہو چکا ہے۔ ٹی وی کے ہر چینل پر عوام کو عاقبت میں رسوا کرنے کا روز وشب دھندہ عروج پر ہے۔ مقابلہ لگا ہوا ہے کہ کون زیادہ پرانی نسل کو حیران و شرمسار اور مایوسیوں کی دلدل میں گھسیٹ رہا ہے اور نئی نسل کے دِل و دماغ کو شیطانی سحر میں مبتلا کر کے دین اسلام سے دور، مغربی تہذیب و ثقافت اور سفلی جذبات میں آگ پھونک دینے والی بھارتی بھڑکتی حسین ننگی جوانیوں کی بے قابو کرنے والی اداؤں سے بے خود کر رہا ہے۔ میڈیا اپنی دنیا بنانے کے لئے اپنی ہی قوم کی عاقبت تباہ کرنے کے درپے ہو گیا ہے۔ میڈیا جس نوع کا بھی ہے،اس کی اکثریت سیکولر، طاغوتی، فسطائی اور شیطانی قوتوں کے ہاتھوں میں کھیل رہی ہے۔ میڈیا سے وابستہ کتنے ہی لوگ آج کروڑ پتی اور کئی کئی عالیشان گھروں اور بنگلوں کے مالک بن کر سیاست کے میدان کے جواریوں کے دم چھلے بنے ہوئے ہیں۔ دن رات سیاسی لڑائیوں کے تذکرے ہیں۔ گلستان اجڑ رہا ہے،  چمن کا ہر پھول مسلا اور کچلا جا رہا ہے۔ میڈیا کے ضلعی، مقامی،علاقائی نمائندے نسلی،  لسانی،  فرقہ وارانہ نفرتوں کو زبان دے کر اپنے پاکیزہ مشن سے غداری اور انحراف کر رہے ہیں۔ ان سیاسی وراثتی شعبدہ بازوں کے آڑھتی میڈیا مین، مڈل مین اپنے اپنے پروردگان شاطروں کے اشاروں پر زندہ باد اور پھولوں کی پتیاں نچھاور کر رہے ہیں۔ مخالفین کو مردہ باد اور سنگین جرائم کے مرتکب قرار دے کر ان پر لعنت پھٹکار کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضری سے غافل اشرافیہ کی دنیا بنانے میں اپنی عاقبت تباہ کر رہے ہیں۔ میڈیا اگر اللہ کے حضور جوابدہی کے احساس کے ساتھ اپنا فرض ادا کرے تو بھٹکی ہوئی قوم صراط مستقیم پر آ  سکتی ہے۔ 

بھارت میں جو بھی حکومت آئے، جس پارٹی کی بھی حکمرانی ہو، ان کی پالیسیاں طے شدہ ہیں۔ بھارت کے سرپرستوں میں رد و بدل ہو سکتا ہے، مگر اصل دشمن پاکستان اور مسلمان ہیں، خواہ نام نہاد ہی ہو،  وہ اصل دشمن نشانے پر ہی رہے گا۔ یہ بات طے شدہ ہے۔بھارتی حکمران اور سیاسی لیڈر اور بیورو کریسی کے کرتا دھرتا اپنے قومی لباس میں سادگی سے ملک کے اندر اور بیرون ملک ہر فورم پر کسی احساس کمتری کے بغیر اپنے ملک و قوم کی ترجمانی کر رہے ہیں، حالانکہ بھارت ہمارے مقابلے میں امیر ملک ہے۔ بھارتی سرکار کے کانگریسی لیڈروں اور انگریز حکمرانوں کے درمیان پالیسیاں طے شدہ ہیں۔ ملک کی تقسیم میں دھاندلی طے شدہ تھی۔ جموں و کشمیر پر بھارتی تسلط طے شدہ پالیسی تھی۔ سابق فوجیوں، مجاہدین اور قبائلیوں نے جو حصہ آزاد کرایا،  اس آزاد کشمیر میں بھی حکمرانی ہمیشہ اسی ذہنیت کی رہی، جو ذہنیت پاکستانی سیاست دانوں کی ہے۔ جتنے وہ ملک اور اسلام اور آزادی اور استحکام ملکی کے درد میں مبتلا ہیں، اسی قدر آزاد کشمیر کے حکمران ہیں۔ نہ کشمیری مسلمانوں کی تعلیم و تربیت اور فوجی تیاری، نہ روح جہاد پیدا کرنے اور بیدار کرنے کی فکر۔ حکمران زیادہ وقت اسلام آباد میں گزارتے اور حکمرانوں کو خوش رکھنے کی فکر کرتے ہیں۔ 

  مسجد اقصیٰ قبلہ اول بیت المقدس میں یہودی جو کچھ کر رہے ہیں، یہ انگلستان، یورپ اور امریکہ، بالخصوص فرانس اور روس کا منصوبہ ہے۔ فلسطینیوں کا وطن غاصبوں کے قبضے میں ہے اور وہ روز بروز آگے بڑھ رہے ہیں۔ مسلمانوں کے پانچ چھ درجن ملک اپنے اپنے ملکوں میں سر ریت میں دبائے بیٹھے ہیں کہ فلسطینی جانیں،حماس جانے، ہم اپنے آقاؤں کے ہاں سرخرو رہیں۔ باہمی تجارت کر رہے ہیں، حالانکہ یہودی گرد و نواح کے سارے عرب ممالک سے اپنے حصے کے مطابق علاقوں پر غاصبانہ قبضہ کر چکے ہیں اور آگے خدا نہ کرے ان کے عزائم تو مدینہ منورہ اور حجاز مقدس کے علاقوں پر قبضہ کے ناپاک عزائم ہیں۔ روح جہاد مر چکی ہے۔ قرآن و سنت سے دوری ہے۔ کِس طرح روح جہاد پیدا ہو۔شوق شہادت پیدا ہو۔ رسول اللہؐ کی جناب میں یہی عرض گذاری جا سکتی ہے۔

 امت پہ تیری آ کے عجب وقت پڑا ہے 

کون آقائے نامدار محمد رسول اللہؐ کے امتیوں کو  جھنجھوڑے گا۔ سید ابو الاعلی مودودی اور جماعت اسلامی تنگ نظر علماء اور سیاست دانوں کے ہاں معتوب رہے ہیں اور اب بھی میڈیا سید مودودی اور جماعت اسلامی کو نظر انداز کرنے کا فریضہ ادا کر کے نہ جانے کن کی نظروں میں مقام پیدا کر رہا ہے۔ سید مودودی مفسر قرآن،  محدث،مفکر، مدبر اور صدی کے عالم تھے، مگر بھلا دیا گیا……سید مودودی نے اپنا پیشہ صحافت بیان فرمایا تھا۔ صحافت کا کتنا بلند مقام ہے۔ دولت تو قارون کے پاس بھی بہت تھی، مگر بخشے وہی جائیں گے، جن کے پاس ایمان کی دولت ہو گی۔

مزید :

رائے -کالم -