جناب چیف جسٹس کے نام درخواست

جناب چیف جسٹس کے نام درخواست
 جناب چیف جسٹس کے نام درخواست

  

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد مسند انصاف پر متمکن انتہائی نفیس،قابل قدر اور عالی ظرف شخصیت ہیں۔ کرونا کے دوران عوام کو میسر نا کافی سہولیات پر ان کا ازخود نوٹس عوام دوستی کا لازوال احساس ہے۔پاکستان ریلوے کو در پیش خسارے سے متعلق ازخود نوٹس، ٹریکس پر تجاوزات کی ممانعت، متاثرہ افراد کی بحالی اور کڈنی ہل پارک سے متعلق محترم چیف جسٹس کے تاریخ ساز فیصلوں سے ان کا نام سنہری حروف میں جگمگاتا  رہے گا۔ محترم چیف جسٹس آف پاکستان کی علم دوستی اور انسانیت سے محبت پاکستانی عوام کے لئے نہ صرف  ڈھارس کا سامان ہے بلکہ اس یقین کا احساس بھی ہے کہ ہمارے پاس ایک ایسی شخصیت موجود ہے جس پر اعتماد معاشرتی بدحالی اور بدنظمی کو جڑ سے مٹا دے گا۔ اسی ہمدرد طبیعت کے سہارے ہم نے  ان کے سامنے درخواست پیش کرنے کی جرات کی ہے۔

محترم چیف جسٹس آف پاکستان سے گزارش  ہے کہ ہم آپ کی توجہ ایک ایسے معاملے کی جانب مبذول کرانا چاہتے ہیں جس کا براہ راست تعلق انسانی اور مساوی حقوق کے ساتھ ہے۔کچھ عرصہ سے گورنمنٹ کالجز کو یونیورسٹی کا درجہ دے کر اساتذہ کی دربدری کا سلسلہ جاری ہے۔یہ پبلک سیکٹر یونیورسٹیاں ہیں۔حالیہ نوٹیفکیشن بتاریخ 7اپریل 2021ء کی وجہ سے 1200کے قریب اساتذہ اور نان ٹیچنگ سٹاف شدید ذہنی اذیت کا شکار ہیں۔خاص طور پر جولائی سے تنخواہ بند کرنے کی دھمکی فاقہ کشی کا خوف دلا رہی ہے۔اس فیصلے سے نہ صرف کئی خاندان متاثر ہو رہے ہیں بلکہ ملازمین میں بد دلی پھیل چکی ہے جو کسی طور خوش آئیند نہیں۔ مذید یہ کہ یہ فیصلہ آئین اور قانون کے خلاف ہے۔ یہ فیصلہ یونیورسٹی  آرڈیننس کے حوالے سے کیا گیا ہے۔ حکومت کا  موقف یہ ہے کہ ان ملازمین کی تعنیاتی آرڈیننس کے منافی ہے اور انھیں ان کے محکمہ H.E.D. میں بھیج دیا جائے۔ باوجود اس کے کہ اس آرڈیننس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں اور یہ اجرا کی تاریخ  کے چار ماہ بعد خود بخود کالعدم ہو گیا  اور آئین اور قانون کی نظر میں  ہے۔ لہذا  اس کی بنیاد پر مذکورہ نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا جا سکتا تھا جو قطعی ہے۔جس کا کوئی جواز نہیں۔

ملازمین اپنی مخصوص کردہ سیٹوں پر انتہائی لگن سے اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی میں مشغول ہیں اور کرونا کے دنوں میں بے جا نقل و حرکت سے گریز پا ہیں لیکن اس نوٹیفکیشن نے 1200 خاندانوں کی زندگی درہم برہم کرکے دماغ مفلوج کر دیے۔چنانچہ ارباب اختیار گورنر پنجاب، سپیکر پنجاب اسمبلی،  صوبائی محتسب یہاں تک کہ  وزیر اعلی پنجاب عثمان احمد خان بزدار صاحب کو بھی درخواستیں پیش کی گئیں لیکن شنوائی نہیں ہوسکی۔سائلین نے  مذکورہ نوٹیفکیشن کے جواب میں محکمہ کو بتاریخ 3 مئی 2021 کو ایک  پریزنٹیشن بھی دی۔ بحوالہ 10402 (R&I)AS/E&G  

اور وائس چانسلر آف لاہور کالج برائے خواتین یونیورسٹی ڈاکٹر بشری مرزا نے بھی محکمہ کو ایک خط

NO.VC/LCWU/58 بتاریخ 19مئی 2021 کے ذریعے داد رسی کی درخواست کی ہے جس کا تا حال کوئی جواب نہیں آیا۔ انتہائی محترم چیف جسٹس آف پاکستان صورت حال یہ ہے کہ 2002میں جب لاہور کالج کو یونیورسٹی کا درجہ دیا گیا تو اس کالج میں ملازمت کرنے والے تمام ملازمین یونیورسٹی کے ملازمین تصور کیے گئے اور ان کی تنخواہیں پنجاب حکومت کے ذمے ہی رہیں۔ اس کے علاوہ 2002 کے بعد سے مذکورہ نوٹیفکیشن تک جتنے ملازمین بھی تعنیات کیے گئے وہ تمام یونیورسٹی کے ملازم تصور کیے گئے کیونکہ انھیں مخصوص سیٹوں پر تعینات کیا گیا اور ان کی تنخواہوں کا بجٹ بھی پنجاب حکومت ادا کرتی رہی جس کو روکنے کا حکم  صادر کیا گیا ہے جس کا قانونی جواز نہیں۔

آئین کے آرٹیکل 18 کی رو سے فرد کا بنیادی حق ہے کہ وہ قانون کے مطابق کوئی بھی پیشہ اختیار کر سکتا ہے۔گزشتہ 19سالوں میں حکومتی ملازمین کی وہاں موجودگی قانون و آئین کے مطابق تصور کی جاتی رہی ہے اور ان کی تنخواہ بھی باقاعدہ منظور شدہ بجٹ سے ادا کی جا رہی ہے۔ یہ عمل قابل ذکر ہے کہ جب ایک بار گورنمنٹ نیان کا بجٹ بھی پاس کر دیا اورملازمین کو تنخواہ بھی ملتی رہی تو وہ یونیورسٹی کے ہی ملازم تصور کیے جائیں گے۔لہذا ان ملازمین کو یکم جولائی 2021 سے یونیورسٹی کا ملازم تصور نہ کرنا اور انھیں واپس بلانا قانون کے خلاف اور جبر کے تحت شمار ہو گا۔ 

آئین کی شق نمبر 25 اس امر کی ضمانت دیتی ہے کہ تمام شہریوں سے مساوی سلوک برتا جائے گا نیز قانون کی نگاہ میں وہ سب برابر اور  مساویانہ مراعات کے حق دار ہوں گے۔ 2002 سے مذکورہ نوٹیفکیشن تک جو بھی ملازمین ریٹائرمنٹ تک پہنچے وہ یونیورسٹی ملازمین ہی تصور کیے گئے اور  ان کی پنشن بھی پنجاب حکومت کے بجٹ سے ادا کی جا رہی ہے جب کہ سائلین کو deputitionist  تصور کیا جا رہا ہے آئین کی نظر میں ملازمت کی مدت پوری کرنے والے اور آج کے ملازمین، جن کے خلاف مذکورہ نوٹیفکیشن جاری کیا گیاہے، مساوی حقوق کے حق دار ہیں۔اس لیے بھی یہ نوٹیفکیشن بنیادی حقوق نمبر 25 کی صریح خلاف ورزی ہے۔آئین کے آرٹیکل 4  کے تحت سائلین کا یہ حق ہے کہ ان کے خلاف کوئی کاروائی قانون کے خلاف نہ کی جائیلیکن مذکورہ نوٹیفکیشن 2021 کا کوئی آئینی اور قانونی جواز نہیں ہے اور یہ ملازمین کو ہراساں کرنے کا سبب بن رہا ہے۔ تمام سائلین خاص طور پر وہ ملازمین جو ریٹائرمنٹ کے قریب ہیں شدید ذہنی دباؤ  میں مبتلا ہیں۔محترم چیف جسٹس آف پاکستان آپ کی شخصی صفات، انسان دوستی، حلم اور تدبر نے ہمیں یہ حوصلہ دیا کہ آپ سے عاجزانہ درخواست کر سکیں۔

محترم چیف جسٹس آف پاکستان ہم ملازمین اللہ کی رحمت کے توسط سے آپ کے سامنے سوالی ہیں۔آپ کی عالی ظرفی اور فیصلہ ساز شخصیت نے ہم سب کی آنکھوں میں امید کی جوت جگا رکھی ہے۔  اگر آپ ہم لا چار ملازمین کے موقف کو انسانی اور قانونی حق سمجھتے ہیں تو سو موٹو ایکشن لے کر ہماری داد رسی کی جائے۔مودبانہ التجا ہے کہ آئین کی بنیادی شق نمبر 25 کی بنا پر درخواست دہندگان کو وہی سلوک دیا جائے جو  similarly placed دوسرے ملازمین سیبرتا گیا جو یونیورسٹی میں بہ طور  depotationist آئے لیکن انھیں ریگولر ملازمین کی حیثیت  دی گئی۔پنشن اور دیگر سہولیات کے ساتھ اسی حیثیت سے وہ ریٹائرڈ ہوئے۔ آئین کی ش ق نمبر 25 کی بنا پر سائلین ان تمام مراعات کے حق دار قرار دیے جائیں جو ان سے پیشتر similarly placed ملازمین کو دی گئی۔مذید التجا یہ ہے کہ درخواست کے حتمی فیصلے تک حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے نوٹیفیکیشن کو معطل کیا جائے اور ملازمین کی تنخواہوں کا بجٹ جاری رکھا جائے۔ ورنہ سائلین کو نا قابل تلافی نقصان ہو گا اور سہولت کا توازن بھی اسی میں ہے مذید برآں اگر حکم امتناعی جاری نہ کیا گیا تو یہ درخواست غیر موثر ہو جائے گی۔

محترم چیف جسٹس آف پاکستان آپ کے لیے ہر لمحہ بیش بہا دعائیں۔ 

دعا گو 

یونیورسٹیز میں فرائض منصبی ادا کرنے والے ملازمین

مزید :

رائے -کالم -