سعودی عرب کو "اچھوت" قرار دینے والے جوبائیڈن کا مملکت کے دورے کا فیصلہ، لیکن وجہ کیا ہے؟ حیران کن دعویٰ

سعودی عرب کو "اچھوت" قرار دینے والے جوبائیڈن کا مملکت کے دورے کا فیصلہ، لیکن ...
سعودی عرب کو
سورس: File

  

 واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں  کے الزامات پر سنہ 2019  میں سعودی عرب کو اچھوت قرار دینے اور 2020 میں صدر منتخب ہونے کے بعد مملکت کو سائڈ لائن کرنے والے جوبائیڈن نے سعودی عرب کے دورے کا فیصلہ کرلیا۔

الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق صدر جوبائیڈن اسی ماہ سعودی عرب، اسرائیل اور یورپ کا دورہ کرنے جا رہے ہیں۔  دیرینہ اتحادی سعودی عرب  اور امریکہ کے تعلقات میں جوبائیڈن کے صدر بننے کے بعد سرد مہری در آئی تھی لیکن اب تیل کی وجہ سے امریکی صدر کو مملکت کا دورہ کرنا پڑ رہا ہے۔

امریکی حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مڈٹرم انتخابات سر پر ہیں اور جوبائیڈن کی ڈیموکریٹک پارٹی کو ہاؤس آف ریپریزینٹیٹوز اور سینیٹ میں اپنی اکثریت برقرار رکھنے کیلئے تیل کی  قیمتوں میں استحکام لانا ہوگا اور روس پر پابندیوں کے باعث پیدا ہونے والی رسد کی کمی کو پورا کرنے کے متبادل ذرائع ڈھونڈنا ہوں گے کیونکہ بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتیں ڈیموکریٹک پارٹی کیلئے الیکشن میں بڑا دھچکا ثابت ہوسکتی ہیں۔

جوبائیڈن اپنے  دورہ سعودی عرب کے دوران  ولی عہد محمد بن سلمان سے بھی ملاقات کریں گے۔ یہاں یہ بھی یاد رہے کہ سنہ 2021 میں امریکی انٹیلی جنس کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ محمد بن سلمان صحافی جمال خاشقجی کے قتل میں براہ راست ملوث ہیں۔ اسی رپورٹ کی روشنی میں جوبائیڈن انتظامیہ نے اعلان کیا تھا کہ وہ آئندہ محمد بن سلمان کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں رکھے گی بلکہ براہ راست بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز سے معاملات کرے گی۔

اس سے قبل بھی جوبائیڈن سعودی عرب کیلئے سخت عزائم کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ سنہ 2019 میں صدارتی انتخاب کیلئے ہونے والے ایک مباحثے کے دوران انہوں نے کہا تھا کہ امریکہ سعودی عرب کو جمال خاشقجی کے قتل کی قیمت چکانے پر مجبور کرے گا اور سعودی عرب کو دنیا میں ایک اچھوت بنادے گا۔

مزید :

بین الاقوامی -