کڑے فیصلوں کا وقت

  کڑے فیصلوں کا وقت

  

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے پٹرول کی قیمت میں اضافہ دِل پر پتھر رکھ کے مجبوراً کرنا پڑا۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا اس ملک کے عوام نے قربانیاں دی ہیں،اب قربانی دینے کی باری اشرافیہ کی ہے،اسے سادگی اختیار کرنا ہو گی اور سب سے پہلے اس کی ابتداء وہ اپنے آپ سے کر رہے ہیں۔گورنرز،وزرائے اعلیٰ، وزراء، مشیروں،وفاقی و صوبائی سیکرٹریوں، سرکاری افسروں کو  قربانی دینا  اور سخت اقدامات برداشت کرنا ہوں گے۔یاد رہے کہ پٹرول کی قیمت میں ہوشربا اضافے کے بعد ہر طرف سے یہ مطالبہ کیا جا رہا تھا کہ حکومت بھی اپنے اخراجات کم کرے، خاص طور پر پٹرول کی مد میں کی جانے والی شاہ خرچیاں تو ہر صورت کم کی جائیں۔وزیراعظم نے پٹرول کی سہولت میں کٹوتی کا عندیہ دیا ہے جبکہ سندھ حکومت نے چالیس فیصد اور خیبرپختونخوا کی حکومت نے35فیصد تک حکومتی متعلقین کو پٹرول کی فری سپلائی میں کٹوتی کا اعلان کر دیا ہے۔ صرف یہی کافی نہیں بلکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومتی اخراجات میں مجموعی طور پر کمی کی جائے، اس مقصد کے لیے سادگی کو فروغ دینا ضروری ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے بالکل درست کہا ہے کہ کفایت شعاری وقت کا تقاضا ہے اور اس کے لیے سخت اقدامات کی ضرورت ہے۔ پٹرولیم مصنوعات ایک ایسا شعبہ ہے جس پر ہمارا سب سے زیادہ زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے۔ جب یہ کہا جاتا ہے کہ درآمدات گھٹائی جائیں تو اُس کا فائدہ تبھی ہوسکتا ہے جب پٹرولیم مصنوعات کا درآمدی بل بھی کم ہو۔یہ پہلا موقع نہیں کہ سرکاری مد میں خرچ ہونے والے پٹرول میں بچت کے لئے آواز اٹھی ہے۔بہت سال پہلے سابق وزیراعظم محمد خان جونیجو نے بھی سادگی اپنانے کے لیے بڑے افسروں اور جرنیلوں کو چھوٹی گاڑیاں استعمال کرنے کا حکم دیا تھا۔کہا جاتا ہے یہی حکم اُن کی اقتدار سے رخصتی کا باعث بن گیا کیونکہ ہماری اشرافیہ اس قسم کے فیصلوں کو مشکل سے ہی قبول کرتی ہے تاہم اس بار چونکہ پہلی بار پٹرول کی قیمت نے ڈبل سنچری عبور کر لی ہے اور ابھی اس کے مزید بڑھنے کا امکان ہے، اس لیے صرف عوام پر اس کا بوجھ ڈال کر حکومت خود کو بری الذمہ قرار نہیں دے سکتی۔وزیراعظم شہباز شریف نے دوسرے اخراجات میں بھی کٹوتی پر قابل ِ عمل تجاویز پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ سادگی کا کلچر جب تک حکومتی سطح پر نہیں اپنایا جاتا اُس کے اثرات نچلی سطح تک مرتب نہیں ہو سکتے۔پانی ہمیشہ  فراز سے ہی نشیب کی طرف آتا ہے اس ضمن میں سب سے پہلے تو ایک افسر ایک گاڑی اور کم سے کم سرکاری پٹرول کا فارمولا نافذ کیا جانا چاہیے۔یہی فارمولا وزراء،مشیروں اور دیگر حکومتی شخصیات کے لیے بھی اپنایا جائے۔ایک طرف اخراجات میں کمی لانے کا عمل وقت کی ضرورت ہے تو دوسری طرف آمدنی بڑھانے کے لیے مختلف اقدامات بھی ضروری ہیں۔کہنے کو وزیراعظم شہباز شریف نے یہ تو کہہ دیا ہے کہ اشرافیہ قربانیاں دینے کے لیے آگے آئے مگر اس ملک میں ایسی مثالیں کم ہی ملتی ہیں کہ کسی طبقے نے صرف قومی جذبے سے قربانی دینے کا ازخود فیصلہ کیا ہو۔سب سے پہلا کام کرنے کا تو یہ ہے کہ ہر شخص سے آمدنی کے مطابق ٹیکس وصولی کو یقینی بنایا جائے۔ایک عام تاثر یہ ہے کہ اس ملک کے بڑے لوگ مراعات لینے میں تو آگے ہوتے ہیں لیکن ٹیکس ادا کرنے میں  پیچھے رہ جاتے ہیں۔ایف بی آر کے مطابق ہم اپنے ٹیکس نیٹ کو دیکھیں تو وہ22کروڑ کی آبادی میں اب بھی چند لاکھ افراد پر مشتمل ہے۔یہی وجہ ہے کہ سارا بوجھ سیلز ٹیکس اور بلواسط ٹیکسوں کے ذریعے عام آدمی پر ڈال دیا جاتا ہے جو پہلے ہی مشکلات سے دوچار ہے۔کفایت شعاری اگر اختیار کرنی ہے تو پھر اس کے لیے ایک قومی ایکشن پلان بنایا جائے۔ریلوے کا سفر لگژری ٹرانسپورٹ کے مقابلے میں آج بھی سستا ہے مگر کیا ہم نے کبھی ریلوے کی حالت بہتر بنانے کے بارے میں سوچا ہے۔یہ ادارہ کارکردگی کے لحاظ سے زوال کا شکار ہے۔اگر ریلوے کا نظام بہتر ہوتا تو ایک طرف اس کی آمدنی بڑھتی جبکہ دوسری طرف عوام کو سستے اور معیاری سفر کی سہولیات بھی میسر آتیں لیکن الٹا اب تو اس پر قومی خزانے سے اربوں روپے  سبسڈی کی مد میں خرچ ہوتے ہیں۔یہی حال بجلی کا ہے، اربوں روپے کی بجلی ہر سال چوری ہوتی ہے اور لائن لائسز ہیں کہ بڑھتے ہی چلے جا رہے ہیں۔مہنگی بجلی پیدا کر کے اسے مہنگے داموں عوام کو بیچنے کے باوجود سرکلر ڈیٹ میں اضافہ ہی ہو جاتا ہے،اس کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات نہیں کئے گئے، جس سرکاری ادارے کو دیکھو وہ سفید ہاتھی بنا ہوا ہے۔قومی خزانے سے اس پر اربوں روپے خرچ ہوتے ہیں یہ رِساؤ روک دیا جائے تو خسارے میں کمی لائی جا سکتی ہے مگر ہر حکومت ہر مسئلے کا آسان حل  ڈھونڈتی رہی ہے۔ بجلی کمپنیوں سے مہنگے معاہدے بھی ہمارے لیے وبالِ جان بنے ہوئے ہیں، انہی کی وجہ  سے ان کمپنیوں کو ادائیگی کا سلسلہ رک جاتا ہے جس سے بجلی کے شارٹ فال میں اضافہ ہوتا ہے۔غور کیا جائے تو ہم نے بحیثیت قوم چاروں طرف سے خود کوایک ایسے حصار میں بند کر رکھا ہے جس سے نکلنے کی کوئی صورت ہی نظر نہیں آتی۔سارا دوش ہم آئی ایم ایف کے کاندھوں پر ڈال کر بچنے کی کوشش کرتے ہیں حالانکہ آئی ایم ایف تو ایک ایسا ادارہ ہے جو اپنے نفع نقصان کا خیال رکھتا ہے۔اس کی یہ کوشش بھی ہوتی ہے کہ قرض لینے والا ملک دیوالیہ نہ ہو جائے اور اُس کی ساری رقم ہی ڈوب نہ جائے۔سوال یہ ہے کہ ہم نے گزشتہ کئی برسوں میں اپنی معاشی حالت بدلنے اور اپنی چادر کے مطابق پاؤں پھیلانے کے لیے کیا کوششیں کی ہیں۔قرض ہے کہ بڑھتا ہی چلا جاتا ہے اور ہر آنے والی حکومت جانے والی حکومت کا رونا پیٹنا شروع کر دیتی ہے۔یہ ایک ایسا شیطانی چکر ہے جس سے نکلنے کی کبھی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی۔اسے بارش کا پہلا قطرہ سمجھنا چاہیے کہ قومی سطح پر یہ سوچ جنم لے رہی ہے کہ اب مزید اسی انداز سے آگے نہیں بڑھا جا سکتا۔ قرضے لے کر عیش و عشرت کی زندگی بسر کرنا ایک ایسا گناہِ کبیرہ ہے جس کا خمیازہ کسی بھی قوم کو سنگین نتائج کی صورت میں بھگتنا پڑتا ہے۔اس وقت اتفاق سے ملک میں تیرہ جماعتی اتحاد کی حکومت ہے۔وہ مل بیٹھیں اور اپوزیشن کو بھی معیشت کی بحالی کے ایجنڈے پر مذاکرات کی دعوت دیں۔یہ کہنا کہ پچھلی حکومت کا سب کیا دھرا ہے،اب ختم ہونا چاہیے کیونکہ پچھلی حکومتوں میں ملک کی تمام بڑی سیاسی جماعتیں شامل رہی ہیں۔یہ کڑے فیصلوں کا وقت ہے،اس حوالے سے کوئی بھی کمزوری یا غفلت ہمیں کسی بڑے نقصان سے دوچار کر سکتی ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -