خوشحال اشرافیہ بدحال عوام

  خوشحال اشرافیہ بدحال عوام
  خوشحال اشرافیہ بدحال عوام

  

 معروف افسانہ اور ڈرامہ نگار نورالہدیٰ شاہ نے ایک دلچسپ ٹویٹ کیا ہے۔ ٹویٹ کیا ہے ایک مختصر افسانہ ہے۔

”کرسی نشینو، وردی پوشو، منصفو، افسرو!

جب جب مفت کا پٹرول گاڑی میں ڈلوا کر نکلو سمجھنا، تمہاری گاڑی میں مظلوم عوام کا خون بھر بھر کے ڈالا گیا ہے۔ اور وہ بھی مفت کا خون، خون کی بُو سے جی متلانے لگے تو سمجھنا، مظلوم عوام کا خون اُبل رہا ہے“۔

اس مختصر سے افسانوی ٹویٹ میں آج کے پاکستان کی کہانی بیان کر دی گئی ہے۔ اس وقت ہر طرف ہاہا کار مچی ہوئی ہے کہ پٹرول نے عوام کا بھرکس نکال دیا ہے۔ صرف پٹرول ہی مہنگا نہیں ہوا، ہر چیز مہنگی ہو گئی ہے۔ ٹرانسپورٹروں نے 50فیصد کرایہ بڑھا دیا ہے۔ سبزیاں، پھل، دالیں، آٹا، گھی، غرض کون سی شے ہے، جواب سستی رہ گئی ہے۔ حکمرانوں نے فی گھرانہ وہ بھی کم آمدنی والوں کے لئے 2ہزار روپے ماہانہ دینے کی سکیم نکالی ہے۔ کل وزیراعظم شہبازشریف کہہ رہے تھے یہ رقم اس لئے دی گئی ہے کہ عام آدمی اس سے پٹرول ڈلوائے، آٹا خریدے یا روزمرہ استعمال کی اشیاء پر خرچ کر لے۔ دو ہزار نہ ہوئے، دو کروڑ ہو گئے۔ آج کل دو ہزار روپے سے آتا کیا ہے۔ صرف 9لٹر پٹرول، وہ بھی پورے مہنے کے لئے۔ پہلے پھل کلو گرام کے حساب سے بکتے تھے اب پاؤ کے حساب سے بکتے ہیں کیونکہ ان کا ریٹ ہی اتنا زیادہ ہو گیا ہے۔ خیر ایسی باتوں سے ہر دور کے حکمران عوام کا دل بہلاتے رہتے ہیں۔ معلوم انہیں بھی ہوتا ہے کہ جو کچھ انہیں دے رہے ہیں، اس سے اونٹ کے منہ میں زیرہ والا محاورہ بھی شرمندہ ہو جاتا ہے۔ اب عوام کا دل رکھنے کے لئے طبقہ حکمران کے مسند نشینوں نے ایک اور راہ نکالی ہے۔ فرمان جاری کر دیا گیا ہے کہ سادگی اختیار کی جائے، مفت پٹرول کی فراہمی میں چالیس فیصد کمی کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔ ساتھ ہی فرمایا ہے وزیراعظم شہباز شریف نے کہ اب اشرافیہ کی قربانی کا وقت  بھی آ گیا ہے۔ چلو خوشی ہوئی کہ ملک کے وزیراعظم کی زبان پر اشرافیہ کا نام تو آیا۔ ورنہ یہ تو وہ طبقہ ہے جس کا ذکر بھی اکثر اوقات شجر ممنوعہ ہو جاتا ہے۔

وطن عزیز میں اندھے کو بھی پتہ ہے کہ اشرافیہ کا جہاں اور ہے اور عوام کا جہاں اور، دنوں کا دور دور تک کوئی تعلق یا مقابلہ نظر نہیں آیا۔ اشرافیہ کی ہمیشہ پانچوں گھی میں رہتی ہیں اور عوام کی پانچوں ہمیشہ صحرا کی خاک چھانتی ہیں۔ اشرافیہ کے لئے یہ ملک اور اس کے تمام وسائل ہاتھ باندھے کھڑے ہوتے ہیں، جبکہ عوام ہاتھ باندھ کے التجائیں کرتے رہ جاتے ہیں، انہیں زندہ رہنے کا حق دیا جائے۔ شہباز شریف نے اشرافیہ سے قربانی مانگی ہے تو شاید یہ طبقہ تھوڑی بہت قربانی دینے کے لئے تیار ہو جائے۔ وگرنہ اس کی روش تو ہمیشہ یہ رہی ہے عوام کو قربانی کا بکرا بنانا ہے۔ پاکستان کے سارے وسائل پر قابض ہے۔ یہ کہنا بے جا نہیں ہوگا کہ اس وقت ملک دو طبقوں میں تقسیم ہے۔ طبقہ ء اشرافیہ اور طبقہ محرومیہ، عوام طبقہ محرومیہ سے تعلق رکھتے ہیں چند فیصد اشرافیہ نے انہیں اپنا غلام رکھا ہوا ہے۔ طبقہ ء اشرافیہ اپنے حصے کا ٹیکس دیتا ہے اور نہ قومی وسائل میں اپنا حصہ ڈالتا ہے، لیکن حکمرانی وہ اس ملک پر کرنا چاہتا ہے۔ جب پٹرول کی قیمت اچانک بڑھائی گئی تو سب سے زیادہ موٹرسائیکلوں والے پٹرول پمپوں پر پہنچے۔ کسی نے ایک لٹر پٹرول ڈلوایا اور کسی نے دو لٹر، ایک لٹر پر تیس روپے بچانے کے لئے گھنٹوں قطار میں کھڑے ہو کر اپنی باری کا انتظار کیا۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ عام آدمی کی مالی حالت کیا ہے۔ طبقہء اشرافیہ کو اس کی قطعاً کوئی پرواہ نہیں تھی۔ آدھا طبقہء اشرافیہ تو سرکاری پٹرول استعمال کرتا ہے اور جو آدھا ہے وہ کروڑوں روپے کا ٹیکس بچاتا ہے، اسے چند لٹروں پر پیسے بچانے کی کیا ضرورت ہے۔ آپ حاکم وقت شہباز کی اس طبقہ ء اشرافیہ کے لئے التجائی زبان ملاحظہ کریں۔ انہوں نے قومی مسائل کا واسطہ دیتے ہوئے اسے کہا کہ وہ اپنا حصہ ڈالے۔ کیا یہ بے حس اور سخت جان طبقہ اس طرح سے رام ہو سکتا ہے؟ اس طبقے کے دل میں قوم کا درد ہوتا تو کیا یہ اس طرح کی لوٹ مار کرتا، اپنی تجوریاں بھرنے والا طبقہء اشرافیہ شہباز شریف کی درخواست پر لبیک کہے گا؟ نہیں جناب جن کے منہ کو لہو لگ چکا ہو وہ کب لہو چوسنے سے باز آتے ہیں۔

اشرافیہ ہمارے ہاں ایک ایسی مخلوق بن چکی ہے، جو حکومتوں کو گھنٹے ٹیکنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ یہ طبقہ ہر شعبے میں پنجے گاڑ چکا ہے۔ اقتدار میں اس کا حصہ ہے، سرمایہ داری نظام میں اس کی اجارہ داری ہے، قانون کو موم کی ناک بنانا اس کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ پولیس اور انتظامیہ اس طبقے کی باندی بن جاتی ہیں۔ کسی تنخوا دار کے پیچھے لٹھ لے کر پھرنے والے ایف بی آر کے کارندے اس طبقے کے کسی فرد سے ٹیکس لینے کے لئے کبھی حد کراس نہیں کرتے، بڑے شہروں کی بڑی کالونیوں میں اربوں روپے کی کوٹھیاں رکھنے والا یہ طبقہ اپنے حصے کا ٹیکس تک نہیں دیتا۔ شہباز شریف نے اس طبقے سے قربانی دینے کی اپیل کی ہے، حالانکہ انہیں ایف بی آر کو حکم دینا چاہیے تھا کہ طبقہء اشرافیہ کے بڑے ناموں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے، ان میں سے کوئی کتنا ہی بااثر کیوں نہ ہوا سے چھوڑنے کی غلطی نہ کی جائے، وگرنہ سخت محاسبہ ہوگا، لیکن ایسا کبھی نہیں ہوگا۔ خود نئے پاکستان کے دعویدار عمران خان اس ضمن میں کچھ نہیں کر سکے۔ حالانکہ وہ اکثر کہتے تھے کہ اقوام  اس لئے تباہ ہو جاتی ہیں کہ امیر و غریب میں فرق رکھتی ہیں۔ امیر کے لئے قانون صابن کی جھاگ بن جاتا ہے اور غریب کے لئے زہریلا سانپ، موجودہ نظام میں اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ اشرافیہ کو قانون کے نیچے لائے گا تو وہ بس ایک اچھا مذاق کر رہا ہوتا اور اس کی بات میں کوئی وزن ہوتا ہے اور نہ حقیقت۔ اب بھی آپ دیکھیں گے کہ چند دن کا شور شرابہ ہوگا، اس وقت تک بڑے دعوے کئے جائیں گے جب تک عوام مہنگے پٹرول کے جھٹکے سے سنبھل نہیں جاتے۔ یہ بات کس نے نوٹ کرنی ہے کہ طبقہء اشرافیہ نے کتنی قربانی دی ہے یا اس کی مراعات میں کتنی کمی لائی گئی ہے۔ سرکاری افسران کے پاس بڑے راستے ہوتے ہیں۔ ایک ایک ڈپٹی کمشنر کئی گاڑیوں کا بیڑا لئے پھرتا ہے۔ وہ سیکیورٹی اور پروٹوکول ڈیوٹی کے نام پر کسی بھی حکومت کو بے وقوف بنا سکتا ہے۔ سیانے کہتے ہیں کہ اگر کچھ کرنا ہے تو مفت پٹرول کاٹنٹا ہی ختم کر دیا جائے۔ اس کی بجائے تنخواہ کے ساتھ ایک فکس رقم پٹرول کی مد میں دی جائے۔ صرف اسی طریقے سے بچت ہو سکتی ہے باقی سب دل کے بہلانے کو غالب کے خیال جیسا ڈھکوسلا ہے اور یہ کبھی کوئی ہونے نہیں دے گا۔ عوام کی قربانی تو سامنے کی چیز ہے، اشرافیہ کی قربانی کبھی نظر نہیں آتی، بس اس کی باتیں ہوتی ہیں، شیدھے ریڑھی والے نے تو یہ بھی پوچھا ہے کہ اشرافیہ کی قربانی کیا فائدہ جب ہم نے پٹرول 210روپے لٹر ہی خریدنا ہے۔ افسروں کو دی گئی فری سہولتوں میں کمی کی جا رہی ہے، جبکہ عوام کے منہ سے آخری نوالہ تک چھینا جا رہا ہے، کیا ان دنوں میں کوئی قدرِ مشترک ہے؟

مزید :

رائے -کالم -