پاکستان میں مقیم 13لاکھ افغان مہاجرین کی رجسٹریشن کا عمل مکمل کرلیا گیا

  پاکستان میں مقیم 13لاکھ افغان مہاجرین کی رجسٹریشن کا عمل مکمل کرلیا گیا

  

     نیویارک (این این آئی)اقوام متحدہ کا ادارہ برائے مہاجرین کے تعاون سے حکومت نے پاکستان میں مقیم 13 لاکھ افغان مہاجرین کی رجسٹریشن کا عمل مکمل کرلیا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق دستاویزات کی تجدید اور معلومات کی تصدیق کی مشق (ڈرائیو) کا مقصد اعداد و شمار کو اپ ڈیٹ کا مقصد پروف آف رجسٹریشن کارڈ کی تصدیق کرنا ہے۔یہ مشق ریاستوں اور سرحدی علاقوں کی وزارت، افغان مہاجرین کے چیف کمشنریٹ کمشنر اور اقوام متحدہ کمیشن برائے انسانی حقوق کی نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کی تکنیکی مدد سے مشترکہ کوشش تھی۔چیف کمشنر سلیم خان کے مطابق افغان مہاجرین کا ڈیٹا 10 سال سے اپڈیٹ نہیں کیا گیا تھالہٰذا مہاجرین کی تصدیق اور ریکارڈ کی تجدید ضروری تھی جو ہمیں مہاجرین کی موجودہ ضروریات سمجھنے کے قابل کرے گی۔مشق کے کلیدی نتائج سے ظاہر ہوا ہے کہ رجسٹرڈ مہاجرین میں 52 فیصد سے زائد تعداد بچوں کی ہے جن میں 15 فیصد یعنی ایک لاکھ 97 ہزار 428 بچوں کی عمر 4 سال سے کم ہے۔اعداد و شمار کے مطابق صرف 60 فیصد افغان مہاجرین ایسے ہیں جن کی عمریں 60 سال یا اس سے زائد ہیں، خواتین، بچوں اور بزرگ 76 فیصد آبادی کی نمائندگی کرتے ہیں۔یو این ایچ سی آر نے اعلان کیا ہے کہ رجسٹرڈ افغان مہاجرین میں سے 60 فیصد صوبہ خیبر پختونخوا میں مقیم ہیں۔تقریباً 10 لاکھ نئے اسمارٹ شناختی کارڈز جاری کیے گئے ہیں جن کی میعاد 30 جون 2023 تک ہے، جس میں والدین کے کارڈز میں پانچ سال سے کم عمر کے بچے شامل ہیں۔پاکستان مین موجود یو این ایچ سی آر کے نمائندہ نوریکو یوشیدہ کا کہنا ہے کہ افغان مہاجرین کی حفاظت کے لیے اسمارٹ کارڈ ضروری ہے پاکستان میں عارضی قیام اور آزادانہ نقل و حرکت کے لیے انہیں شناخت کا ثبوت دیا گیا ہے یو این ایچ سی آر نے کہا کہ آئندہ دنوں میں رجسٹرڈ افغان مہاجرین ملک بھر میں 11 مخصوص مراکز کے ذریعے اپنی رجسٹریشن کے ڈیٹا کو مسلسل بنیادوں پر اپ ڈیٹ کر سکیں گے۔

رجسٹریشن مکمل

مزید :

علاقائی -