جو مرضی کریں لوڈشیڈنگ 2گھنٹے پر لائیں،وزیر اعظم وزراء اور افسروں پر برس پڑے،تمام وضاحتیں مسترد

  جو مرضی کریں لوڈشیڈنگ 2گھنٹے پر لائیں،وزیر اعظم وزراء اور افسروں پر برس ...

  

         اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) وزیراعظم شہباز شریف ملک میں بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ پر وزراء اور افسروں پر برس پڑے اور تمام وضاحتیں مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مجھے وضاحتیں نہیں عوام کو تکلیف سے نجات چاہیے۔ جو کچھ مرضی کریں لوڈ شیڈنگ کو دو گھنٹے پر لائیں تفصیلات کے مطابق وزیراعظم شہبازشریف کی زیر صدارت بجلی کی لوڈشیڈنگ سے متعلق اجلاس ہوا جس میں توانائی بحران پر مشاورت کی گئی، اجلاس میں لوڈشیڈنگ کی وجوہات، محرکات اورسدباب کیلئے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔وزیراعظم شہبازشریف نے لوڈشیڈنگ میں اضافے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کی وضاحتوں کو مسترد کردیا، وزیر اعظم نے کہا ہے کہ عوام تکلیف میں ہیں، اس پرکوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ کچھ بھی کریں 2 گھنٹے سے زیادہ لوڈشیڈنگ برداشت نہیں، عوام کومشکل سے نکالیں، کوئی وضاحت نہیں چاہیے، عوام کو بجلی کی لوڈشیڈنگ سے نجات چاہیے۔وزیر اعظم کی سرکاری افسران کو ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کی مشکلات کو حل کرنا ہماری ذمہ داری ہے، لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے لیے شارٹ اور لانگ ٹرم پلان تیار کیا جائے، شارٹ ٹرم پلان کے تحت لوڈشیڈنگ کے دورانیہ میں فوری واضح کمی لائی جائے، وزیر اعظم نے سستی اور وافر مقدار میں بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں پر کام کرنے کہ بھی ہدایت کی۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ گوادر دورے کے دوران دیکھا پی ٹی آئی حکومت نے گوادر کے لوگوں کو بری طرح ناکام کیا۔وزیراعظم شہباز شریف نے ٹوئٹر پیغام میں کہا ہے کہ اربوں روپے اور قیمتی وقت ضائع کرنے کے باوجود سابق حکومت گوادر بندرگاہ کے لیے بڑی قربانیاں دینے والے مقامی لوگوں کے لیے پانی اور بجلی کے مسائل حل کرنے کے لیے کوئی منصوبہ مکمل نہیں کر سکی۔انہوں نے ٹوئٹ میں مزید لکھا کہ گوادر بندرگاہ اور گوادر ہوائی اڈے کی تعمیر کا بھی یہی حال ہے، بندرگاہ پر کوئی ڈریجنگ نہیں کی گئی اور اس طرح کوئی بڑا کارگو جہاز لنگر انداز نہیں ہو سکتا۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ گوادر یونیورسٹی، ہوائی اڈے کی فوری تکمیل اور پینے کے صاف پانی کے لیے ڈی سیلینیشن پلانٹ کی تنصیب کا حکم دیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یقین ہے پاکستان کی ترقی بلوچستان کے امن، استحکام اور ترقی سے جڑی ہوئی ہے، اتحادی حکومت کا مقصد صوبائی حکومت اور مقامی عمائدین کے ساتھ مل کر بلوچستان کی مدد کرنا ہے تاکہ آگے کا راستہ طے کیا جا سکے۔ دریں اثنا حکومت نے کفایت شعاری مہم پر عملدرآمد شروع کردیا۔ وفاقی کابینہ کے اراکین کے پیٹرول کوٹے پر 40 فیصد کٹوتی اور تمام وزارتوں کے سرکاری افسران کے پیٹرول کوٹے پر بھی کٹ لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ کابینہ ارکان اور سرکاری افسران کے بجلی، گیس اور ٹیلی فون بل پر بھی کٹوتی کا فیصلہ کیا گیا، تمام وزارتوں میں تزئین و آرائش پر بھی پابندی لگا دی گئی۔ تمام وزارتوں میں افسران کے لیے نئی گاڑیاں لینے پر بھی پابندی  لگا دی گئی

شہباز شریف

مزید :

صفحہ اول -