بنوں‘ پولیو کے 7 کیس سامنے آنے کے بعد مہم شروع

  بنوں‘ پولیو کے 7 کیس سامنے آنے کے بعد مہم شروع

  

بنوں (نمائندہ خصوصی) 40دنوں میں پولیو کے 7کیس سامنے آنے کے بعد 6سے13جون تک آٹھ روزہ خصوصی مہم شروع کردی گئی ہے اور اس مرتبہ کراچی فیصل آباد کے بعد پہلی مرتبہ بنوں اور وزیرستان میں پولیو مہم ویکسین انجکشن کے ذریعے لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے مہم کو کامیاب بنانے کیلئے پہلی مرتبہ عوام میں پولیو مہم کے خلاف پروپیگنڈہ رد کرنے اور عوام کو پولیوکی اہمیت آگاہ کرنے کیلئے104علماء کرام کی خدمات حاصل کی گئی ہیں انجکشن بغیر سوئی کے لگانے سے بچوں کو درد محسوس نہیں ہوگا اس سلسلے میں مہم سے پہلے کمشنر ہال بنوں میں میڈیا کے نمائندوں کو خصوصی بریفنگ دی گئی برینگ کے دوران ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر بنوں شبیر خان اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر بنوں ڈاکٹر محمد رحمن آفریدی نے بتایا کہ شمالی وزیرستان میں پولیو کے سات کیسز سامنے آ نے کے بعد ضلع بنوں اور وزیرستان میں  2  لاکھ  38  ہزار سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطروں کیساتھ اب خصوصی ٹیکے (آ ئی پی وی) بھی لگائے جائیں گے جس کیلئے 6  جون سے  13 جون تک آ ٹھ رو زہ خصوصی مہم چلائی جائے گی اس خصوصی مہم کی نگرانی ملکی اور صوبائی سطح کے 113 مانیٹر ز کریں گے اُنہوں نے کہا ہے کہ اس خصوصی مہم میں استعمال ہو نے والا ٹیکہ انتہائی قیمتی ہے اور یہ کراچی اور فیصل آ باد کے بعد پہلی بار بنوں میں لگوائے جا رہے ہیں، اُنہوں نے کہا کہ یہ مہم انتہائی اہم ہے کیونکہ جس رفتار سے پولیو کے کیسز آ رہے ہیں خدشہ ہے کہ بنوں کے مختلف علاقوں سے پائے جانے والے مثبت وائرس بھی کسی بھی وقت ہمارے بچوں کی صحت کو داؤ پر لگا سکتے ہیں اُنہوں نے کہا کہ 6  جون سے 13جون تک ہو نے والے مہم میں ٹیکے لگوانے کیلئے  629  ماہرین کو تربیت دی گئی ہے جن کے ساتھ  629  اسسٹنٹ ہو ں گے اس کے علاوہ 139 سپر وائزر اور موبلائیزیشن کیلئے   104  علماء بھی مہم کا حصہ ہو ں گے اس خصوصی مہم کو مانیٹر کر نے کیلئے  113 صوبائی اور قومی سطح کے ماہرین بنوں میں موجود ہیں اُنہوں نے بتایا کہ پولیو سے بچاؤ کا ٹیکہ نہ تو خطر ناک ہے اور نہ ہی  اسکے مضر اثرات ہیں پولیو سے بچاؤ کا ٹیکہ اور ویکسین اپنی اپنی جگہ مختلف قسم کی قوت مدافعت جسم کو فراہم کر تی ہے اور دونوں کا مشترکہ استعمال بچے کو پولیو سے بچاؤ میں بہترین تحفظ فراہم کرتا ہے اس موقع پر قومی سطح کوارڈینیٹر ڈاکٹر اسرار و،حبیب اور طارق حبیب دیگر انتظامیہ آفسران بھی موجود تھے۔واضح رہے کہ اس ہنگامی مہم کے دوران تمام انکاری بچوں کو ہر صورت ویکسین لگانے کے احکامات جاری کئے گئے ہیں۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -