وزیراعظم کا بجلی کی بدترین لوڈ شیڈنگ کا نوٹس لیکن پھر کیا فرق پڑا؟ یقین کرنا مشکل

وزیراعظم کا بجلی کی بدترین لوڈ شیڈنگ کا نوٹس لیکن پھر کیا فرق پڑا؟ یقین کرنا ...
وزیراعظم کا بجلی کی بدترین لوڈ شیڈنگ کا نوٹس لیکن پھر کیا فرق پڑا؟ یقین کرنا مشکل

  

لاہور (ویب ڈیسک) وزیراعظم شہباز شریف کے نوٹس کے باوجود بجلی بحران میں کمی نہ آ سکی اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

پنجاب سمیت ملک بھر میں لوڈ شیڈنگ کا شیڈول جاری نہ ہو سکا اور مختلف شہروں میں 8 سے 14 گھنٹے بجلی کی بندش معمول بن گئی ہے۔شہریوں کا شکوہ ہے کہ بار بار کی ٹرپنگ کی وجہ سے گھروں میں الیکٹرانکس کا سامان جلنے لگا ہے، گھروں کے پنکھے، ٹیوب لائٹس اور پانی کی موٹریں خراب ہونے لگی ہیں۔

این ٹی ڈی سی ذرائع کے مطابق بجلی کی پیداوار 20 ہزار میگا واٹ ہے جبکہ بجلی کی طلب 27 ہزار 300 میگا واٹ ہے، ملک میں 7 ہزار300 میگاواٹ کا شارٹ فال برقرار ہے۔دوسری جانب ڈسٹری بیوشن کمپنیوں نے وزارت توانائی کو لوڈ شیدنگ کا ذمہ دار قرار دے دیا ہے۔

یاد رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے گزشتہ روز بجلی کی طویل لوڈ شیڈنگ کا نوٹس لیتے ہوئے ہنگامی اجلاس طلب کیا تھا۔ اس دوران وزیراعظم نے سرکاری افسران پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ 2 گھنٹے سے زیادہ کی لوڈ شیڈنگ بالکل بھی برداشت نہیں ہے، کچھ بھی کریں لیکن دو گھنٹے سے زیادہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ کچھ برداشت نہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا مجھے وضاحتیں نہیں چاہئیں، عوام کو مشکل سے نکالیں، عوام کو لوڈشیڈنگ کی تکلیف سے نجات چاہیے، عوام تکلیف میں ہوں اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا۔

مزید :

علاقائی -پنجاب -لاہور -