بنگالی بوجھ نہیں تھے ، انہیں بوجھ بنا کر پیش کیا گیا، وزیر اعظم شہباز شریف

بنگالی بوجھ نہیں تھے ، انہیں بوجھ بنا کر پیش کیا گیا، وزیر اعظم شہباز شریف
بنگالی بوجھ نہیں تھے ، انہیں بوجھ بنا کر پیش کیا گیا، وزیر اعظم شہباز شریف

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن ) وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ بنگالی بوجھ نہیں تھے ، انہیں بوجھ بنا کر پیش کیا گیا، کہا گیا کہ بنگالیوں سے جان چھڑائیں ، آج ان کی برآمدات  40 ارب ڈالرز جبکہ ہماری 27 ارب ڈالرز کی ہیں ۔ 

نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ  اگر آگے جانے ہے تو انا اور ضد سے آگے بڑھنا ہوگا ، بجلی اور تیل کی قیمتیں بڑھانے کا فیصلہ مارچ میں عدم اعتماد کے دوران کیا گیا تھا، دنیا بھر میں تیل کی قیمتیں آسامان سے باتیں کر رہی ہیں ، ہمیں مجبوراً تیل ، پٹرول ، اور گیس کی قیمتیں بڑھانا پڑیں ، جس نے ساڑھے تین سال میں ایک دھیلا کسی کو نہیں دیا  اس نےمارچ مین قیمتیں گرا دیں ، آج بجلی کے منصوبے موجود ہیں مگر تیل ، ڈیزل اور گیس مہنگا منگوانا پڑتا ہے ۔

 وزیر اعظم نے کہا کہ اگر تیل کم منگوائیں گے تو  زر مبادلہ بچے گا مگر لوڈ شیڈنگ بڑھ جائے گی ،معاملہ بیلنس کرنا ہے ، کل کہہ دیا ہے دو گھنٹے سے زیادہ لوڈ شیڈنگ نہیں ہونی چاہئے ، اشرافیہ اگر خود یہ کہے آپ سب کچھ کریں مگر ہم پر بوجھ نہ آئے تو ملک نہیں چل سکتا، قومیں صف بندی اور پلاننگ سے بنتی ہیں ۔

شہباز شریف نے مزید کہا کہ دنیا میں ہمیں اسلامی بلاک میں سب سے آگے ہونا چاہئے تھا ،  سود  پر قرآن میں جو کہا گیا اس کی حکم عدولی کا کوئی سوچ نہیں سکتا،  غریبوں کی مدد کیلئے پی کے ایل آئی ہسپتال   بیس ارب روپے سے بنایا تھا، حکومت بدلی تو ڈاکٹر سعید اور ٹیم کو بے عزت کر کے باہر بھیجا گیا، اپنے دورمیں مریضوں کو ٹرانسپلانٹ کیلئے زرمبادلہ خرچ کر کےبھارت بھیجنا پڑا، پی کے ایل آئی مایہ ناز ہسپتال  تھا،جو سیاست کی نذر ہو گیا۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -