مجھے ہار جیت سے غرض نہیں۔۔۔میری جنگ تھی سو میں لڑ گیا،ہزاروں کشمیریوں کا خون رنگ لانے کو ہی ہے، آزادی کی سحر اب زیادہ دور نہیں 

مجھے ہار جیت سے غرض نہیں۔۔۔میری جنگ تھی سو میں لڑ گیا،ہزاروں کشمیریوں کا خون ...
مجھے ہار جیت سے غرض نہیں۔۔۔میری جنگ تھی سو میں لڑ گیا،ہزاروں کشمیریوں کا خون رنگ لانے کو ہی ہے، آزادی کی سحر اب زیادہ دور نہیں 

  

 مصنف:شہزاد احمد حمید
 قسط:37
سہ پہر اترنے کو ہے۔ مجھے کچھ مکان نظر آرہے ہیں۔ نواز بنا ء پوچھے ہی بتانے لگا؛”جناب! ہم پاک بھارت سرحد پر پہنچ رہے ہیں۔ وہ سامنے جو مکان نظر آرہے ہیں۔ دراصل ہنورمن گاؤں ہے۔71ء کی جنگ سے پہلے پاکستان میں شامل تھا اب بھارتی علاقہ ہے۔ اس کے قریب ہی پاک بھارت کے درمیان لائن آف کنٹرول ہے۔ 1947ء میں کھنچی جانے والی لائن آف کنٹرول کچھ تبدیلیوں کے ساتھ  1972ء میں دوبارہ سے ڈرا کی گئی تھی۔ سرحد پر نواز سے بغل گیر ہوتے ہم دونوں کی آنکھوں میں نمی اتر آئی ہے۔ لمحوں تک ہم بغل گیر ہی رہے۔ نواز کہنے لگا؛”جناب! بہت مدتوں بعد کوئی ایسا اجنبی ملا جو اپنا سا لگا۔“  میں نے کہا؛”تمھاری محبت کا شکریہ۔ بھول میں بھی تمھیں نہ سکوں گا۔یہ شعر تمھیں میری یاد دلا تا رہے گا۔“
ہم مہمان نہیں رونق محفل تھے
مدتوں یاد رکھو گے کوئی آیا تھا 
 یہ باقاعدہ سرحد نہیں۔جنگ میں جو ملک بھی دوسرے کی زمین پر قبضہ کر لے، لائن آف کنٹرول بھی اسی لحاظ سے بدل جاتی ہے۔ مدتوں بعد آج کوئی شخص یہاں سے سرحد کراس کرکے پاکستان جائے گا۔ میرا دوست، ہم سب کا داستان گو سندھو بنا ء کسی پرمٹ، پاسپورٹ کے پاکستان میں داخل ہو گا جبکہ مجھے تو سارے سفری کاعذات سرحدی محافظوں کو چیک کروانے ہیں۔“نواز پر الوداعی نظر ڈالی اور بھارتی سرحدی چوکی پہنچ گیا ہوں۔ 
 میں پانچ دن کے ساتھ کے بعد نواز سے جدا ہوا ہوں۔ میں نے کشمیر میں سارا سفر نواز کے ساتھ ہی کیا ہے۔ کہنے کو یہ پانچ دن ہیں مگر شاید یہ سفر برسوں پہ محیط ہے۔ ایک ایک منٹ کئی کئی گھنٹوں کے برابر۔ کئی دنوں کا ساتھ اب انس میں بدل گیا ہے۔ اس نے مجھے بتایا تھا کہ اس کے دو بھائی، ایک بہن اور چچا سکردو میں ہیں۔ وہ اکیلا ہی ادھر رہ گیا ہے گو اب اس کے بیوی بچے ہیں لیکن خون کی محبت اور یاد کبھی اسے اتنا اداس کر دیتی ہے کہ زندگی ہی پھیکی لگنے لگتی ہے۔ کئی بار کی کوشش کے بعد بھی وہ بہن بھائیوں سے نہیں مل سکا۔ میں سوچنے لگا اپنے مفادات کی خاطر بھارتی سامراجی جنون کیسے کشمیریوں کو اپنا غلام بنائے ہے۔ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی اٹھائی جانے والی آوازیں ہندوستانی حکومت کو سنائی نہیں دیتی ہیں مگر یہ آوازیں اقوام عالم کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ بھی ہیں۔ دونوں طرف سرحد کے آر پارانسانی رگوں میں بہنے والے خون کا رنگ ایک، آسمان سے برستی بارش ایک سی، دونوں جانب ہوا بھی بے رنگ بے ذائقہ، دریا میں گرے پتھر اور پہاڑ سبھی ایک ہی رنگ کے ہیں پھر یہ انسانی تفریق کیسی؟ ہندوستانی حکمرانو؛ہوش کے ناخن لو تمھارے جبر کا نظام اب کچھ وقت کا ہی غلام ہے۔ ہزاروں کشمیریوں کا خون اب رنگ لانے کو ہی ہے۔ آزادی کی جو شمع اس لہو سے روشن ہے اس کی سحر اب زیادہ دور نہیں۔ ظلم کی سیاہ رات اب مہمان ہے آزادی کی صبح کی۔انشااللہ۔تاریخ کے سب سے بڑے دہشت گردو سن لو۔ کشمیر بنے گا پاکستان۔تم حیران ہو کہ تمھارے جبر اور ظلم کے سامنے کشمیری یہ جنگ کیسے لڑ گئے تو سنو؛
 میری ہمتیں ابھی جھکی  نہیں 
میرے حوصلے ابھی بلند ہیں 
مجھے ہار جیت سے غرض نہیں 
میری جنگ تھی سو میں لڑ گیا
ایک لمبے تکلیف دہ مرحلے کے بعد بھارتیوں نے مجھے سرحد پار کرنے کی اجازت دی۔ بیسیوں سوال کئے۔ سوال میں سے سوال۔ سامان اور میری جامہ تلاشی لی گئی۔میرے پاس سے انہیں دو عدد جینز کی پینٹس، ایک پشمینہ کی شال، رات کو پہننے کا سوٹ، دو ٹی شرٹس، دو شرٹس اور چار عدد جراب کے جوڑوں کے سوا کچھ نہیں ملا۔البتہ راہ کی تصاویر کے حوالے سے انہوں نے خوب سوال کئے۔ انہیں بار بار بتایا کہ”میرا ہندوستانی کشمیر آنے کا واحد مقصد دریائے سند ھ کی کہانی لکھناہے۔ یہ تصاویر اسی کی کڑی ہیں۔ میں نے سارے سفر میں حکومتی ہدایات کی کہیں بھی خلاف ورزی نہیں کی۔بڑی مشکل سے ہی میں انہیں اپنی بات کا یقین دلا سکا ہوں۔“
ایک گھنٹے کے صبر آزما سوال و جواب کے بعد لائن آف کنٹرول پار کرنے کی اجازت ملی۔سرحد پار کرکے میں 71ء کے پاکستانی گاؤں ہنورمن سے2022 ء کے پاکستانی گاؤں وانکو پہنچ گیا ہوں۔ سرحد کے اس پار اپنی جبین اپنی دھرتی کی پاک سرزمین پرجھکا دی کہ اس سے بہتر ملک دنیا میں دوسرا کوئی نہیں۔ وطن کی مٹی ماتھے سے ٹکرائی تو عجیب سا سرور پورے بدن میں اتر گیا۔وطن کی مٹی کا انسان سے عجیب تعلق ہے یہ دھرتی ماں شے ہی کچھ ایسی ہے۔
چاند میری زمین پھول میرا وطن
میرے کھیتوں کی مٹی میں لعل  یمن
میرے ملاح لہروں کے پالے ہوئے 
میرے دہکان پسینوں کے ڈھالے ہوئے
  (جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں)

مزید :

ادب وثقافت -