جمہوری انتقالِ اقتدار،آزاد ومنصفانہ انتخابات

جمہوری انتقالِ اقتدار،آزاد ومنصفانہ انتخابات

کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز (سی پی این ای) کے سیکرٹری جنرل عامر محمود نے کانفرنس کے شرکاءکا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ سی پی این ای نے آج ذرائع ابلاغ اور سیاسی جماعتوں کے درمیان اس اہم قومی ایشو پر مکالمہ شروع کرنے کے لئے اس کانفرنس کا انعقاد کیا ہے جس کا موضوع ہے ” جمہوری حکومت کی منتقلی، آزاد اور منصفانہ انتخابات“ ۔

 پاکستان میں جمہوری عمل کے تسلسل میں ہمیشہ سے بے شمار دیدہ اور نادیدہ قوتیں حائل چلی آرہی ہیں، اب جب کہ منتخب حکومت اپنی مُدت مکمل کرنے کے بعد اگلے انتخابات کی طرف جانے والی ہے، یہ رکاوٹیں ایک بار پھر سر اُٹھا رہی ہیں۔ یہ طے ہے کہ حالیہ دنوں میں انتخابی عمل کی شفافیت کے حوالے سے اُٹھنے والے سوالات اور دلائل اپنے اندر وزن رکھتے ہیں مگر ان کے پسِ پشت عزائم بہرحال نیک نہیں ہیں۔ سول سوسائٹی بالخصوص ذرائع ابلاغ چونکہ جمہوریت کے استحکام کے لئے انتخابی عمل کے تسلسل کو ضروری سمجھتے ہیں، اس لئے ان رکاوٹوں کے خلاف سینہ سپر ہو کر سامنے آئے ہیں۔ ویسے بھی آزدی¿ اظہار کو یقینی بنانے کے لئے جمہوریت کا فروغ اور استحکام کلیدی حیثیت کا حامل ہوتا ہے، لہٰذا جمہوریت کے لئے ذرائع ابلاغ کا متوشش ہونا ایک فطری عمل ہے۔ یہی سبب ہے کہ ذرائع ابلاغ نے ان پسِ پردہ سازشوں کا پردہ چاک کرنے میں کسی پس و پیش سے کام نہیں لیا اور عوام کو ان سازشوں سے بروقت آگاہ کیا۔ سیکرٹری جنرل عامر محمود نے کہا سی پی این ای پاکستان کے اخبارات کے مدیران کی واحد نمائندہ تنظیم ہے جس کا قیام 1956 میں عمل میں آیا۔ ان اٹھاون سالوں میں سی پی این ای نے آزادی¿ صحافت کی جدوجہد اور جمہوریت کی بحالی اور استحکام کے لئے اہم کردار ادا کیا ہے۔ ہم ان تمام مدیران کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے پاکستان کی 66 سالہ تاریخ بشمول ڈکٹیٹر ادوار میں بھی قلم کی حُرمت پر آنچ نہ آنے دی اور تمام سختیوں کے باوجود آزادی¿ صحافت کے لئے جدوجہد کو جاری رکھا۔ انہوں نے صحافیوں کی ٹارگٹ کلنگ اور میڈیا پر سیاسی اورغیر سیاسی قوتوں کے دباﺅ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج میڈیا متحد ہے اور سی پی این ای اور تمام صحافتی تنظیمیں میڈیا کی آزادی پر کوئی قدغن برداشت نہیں کریں گے۔

کانفرنس میں جن سیاسی جماعتوں کے رہنماﺅں اور زعماءکو مدعو کیا گیا تھا ان میں ڈاکٹر فاروق ستار (متحدہ قومی موومنٹ)، شرجیل میمن (پاکستان پیپلز پارٹی)، حافظ حسین احمد (جمعیت العلماءاسلام (ف))، ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی (جماعت اسلامی)، علیم عادل شیخ (پاکستان مسلم لیگ (ق))، نادر اکمل لغاری (پاکستان تحریک انصاف)، امیر نواب (عوامی نیشنل پارٹی)، سید غوث علی شاہ (مسلم لیگ (ن))، امتیاز شیخ (پاکستان مسلم لیگ (ف))، ایاز پلیجو (عوامی تحریک) اور خواجہ اظہار الحسن (ایم کیو ایم) شامل تھے۔ میاں نواز شریف کے نوشہرو فیروز میں جلسے کے سبب مسلم لیگ (ن) کانفرنس میں شرکت نہ کر سکی جب کہ امتیاز شیخ اور ایاز پلیجو بھی اپنی غیر معمولی مصروفیات کے باعث آخری لمحات میں کانفرنس میں شرکت نہ کر سکے۔

کانفرنس میں ذرائع ابلاغ کی جانب سے جن مدیران نے خطاب کیا ان میں سی پی این ای کے صدر جمیل اطہر قاضی، سیکرٹری جنرل عامر محمود، خوشنود علی خان، ایم ضیاءالدین، امتیاز عالم، غازی صلاح الدین، الطاف حسن قریشی اور ڈاکٹر جبار خٹک شامل تھے۔

کانفرنس میں پاکستان بھر سے آئے ہوئے مدیرانِ اخبارات کے علاوہ سینئر صحافیوں اور تجزیہ نگاروں سمیت دیگر صحافتی تنظیموں کے رہنماﺅں نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی تاکہ ملک کے مختلف شراکت داروں کے ساتھ ڈائیلاگ کا سلسلہ جاری ہوسکے۔

سی پی این ای نے کانفرنس میں اس بات کا خاص خیال رکھا کہ ہونے والی گفتگو کانفرنس کے اغراض و مقاصد سے ہم آہنگ رہے، اس مقصد کے لئے انہوں نے اس کانفرنس میں ہونے والی تقاریر اس طرح ترتیب دیں کہ تعارفی تقریر اور صدارت سینئر مدیران سے کرائی جائے جب کہ درمیان میں بھی سینئر صحافی اور مدیران اپنی رائے کا اظہار کرتے رہیں تاکہ موضوع کی افادیت برقرار رہے۔

غازی صلاح الدین (سینئر صحافی اور تجزیہ نگار)

 غازی صلاح الدین نے کانفرنس کی تعارفی تقریر میں کہا، اس کانفرنس میں اہم سیاسی رہنما ،سینئر مدیران اور سینئر صحافی موجود ہیں۔ انہوں نے جمہوریت کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ اس عمل میں کیڑے نکالنے کے بجائے یہ سوچا جائے کہ جمہوریت ایک مکمل طور پر تیار شدہ پروڈکٹ نہیں بلکہ ایک پراسیس کا نام ہے۔ یہ پراسیس جب آگے بڑھے گا تو ثمرات بھی سامنے آنا شروع ہوجائیں گے۔ بنیادی بات جمہوریت کا تسلسل ہے۔ انتخابات وقت پر ہونے چاہئیں۔ جمہوریت کے لئے ہم نے بے حد تجربات کئے لیکن اب اس سے اچھا موقع کیا ہوگا کہ ملک کی تاریخ میں پہلی بار انتقالِ اقتدار ہونے جارہا ہے۔ کچھ لوگ سرگوشی کر رہے ہیں کہ انتخابات تین سال تک ملتوی کرنے کی سازش ہورہی ہے۔ الیکشن کمیشن پر سوال اٹھایا جارہا ہے۔ فخرو بھائی پر اعتماد ہے۔ انہوں نے کہا کہ سب الیکشن وقت پر چاہتے ہیں۔ ہم اس تاریخی موقع کو نہ گنوائیں اور اقتدارجمہوریت کے ذریعے منتقل ہونے دیں، یہ عمل جاری رہنا چاہئے۔

جمیل اطہر قاضی (صدر سی پی این ای)

جمیل اطہر قاضی نے کانفرنس کے شرکاءکا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ سی پی این ای اخبارات و جرائد کے مدیران کی واحد نمائندہ تنظیم ہے۔ اس کے قیام کے وقت پاکستان ایک تھا۔ مشرقی اور مغربی پاکستان کے مدیران اس میں شامل تھے۔ مدیران نے نوائے وقت کی پابندی پر تحریک چلائی۔ بنگال کے اخبار اور لاہور کے رسالے کے لئے جدوجہد کی۔

اب انتخابات ہونے والے ہیں، اسمبلیاںپانچ سالہ مُدت پُوری کرنے جارہی ہیں، نگراں حکومت کا قیام ہونے والا ہے، عوام کو ایک بار پھر حق رائے دہی ملنے جارہا ہے ،پرنٹ میڈیا اپنی ذمہ داریوں اور فرائض کا بھرپور احساس رکھتا ہے، کراچی میں قتل عام ہورہا ہے، بلوچستان اور خیبر پختو نخوا میں دہشت گردی ایک چیلنج ہے۔ نگراں حکومت، الیکشن کمیشن، عوام اور پریس کے لئے امتحان ہوگا۔ ووٹ بغیر کسی تعصب اور غیرجانب داری کے ساتھ استعمال کرنا ہوگا، ووٹروں کو فیصلے کی آزادی ہونی چاہئے۔ پاکستانی پریس اپنی رپورٹنگ اور ادارتی خیالات کو مدغم نہ ہونے دے۔ ہرجماعت کا حق ہے کہ اسے میڈیا میں مناسب کوریج ملے۔ اخبارات رائے عامہ کو سیاسی رہنماﺅں کے مو¿قف سے آزادانہ طور پر آگاہ کریں گے۔ اخبارا ت سے تمام امیدواروں کی ان کی خواہش کے مطابق تسلی نہ ہوگی لیکن اپنے طور پر پُوری کوشش کی جائے گی۔ ہمیں زیادہ تر اخلاقی اقدارکا خیال رکھنا ہے اور کسی کو تاہی سے گریز کریں گے۔ تمام فریقوں کو برداشت کا مظاہرہ کرناہوگا۔ پریس اعلیٰ اخلاقی قدروں کی پاسداری کرے گا اور ادارتی خیالات حاوی نہ ہونے دے گا۔ سی پی این ای عدم برداشت، لاقانونیت اور ناجائزہتھکنڈوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرے گی اور اس مقصد کے حصول کے لئے سب کے تعاون کی بھی طلب گارہے۔ جمہوریت کے فروغ کے لئے تمام فریق آئینی حدود میں رہ کر کام کریں تاکہ آئندہ عام انتخابات سابقہ تمام غلطیوں سے پاک ہوں۔ آزادانہ و شفاف انتخابات کو پر امن بنانا ہوگا، اس کے لئے تمام سول سوسائٹی کو پریس کے ساتھ تعاون کرنا ہوگا۔ ایک ایسا معاشرہ جس میں جان و مال کا تحفظ اور روزگار کی سہولت حاصل ہو تعمیر کرنا ہوگا۔

ڈاکٹر جبار خٹک (سینئر ایڈیٹر)

 ایک آزاد الیکشن کمیشن کام کررہا ہے۔ نگراں وزیر اعظم کے لئے مشاورت جاری ہے، انتخابی عمل جلد شروع ہوگا جو جمہوریت کے تسلسل کے لئے ضروری ہے لیکن یہ عمل آزادانہ و منصفانہ ہونا چا ہئے۔ غیر منصفانہ انتخابات کے زمانے گزر گئے۔ ہم عام انتخابات پر امیدوں اور خدشات کا شکار ہیں۔ نئے نئے ایکٹرز انتخابی عمل پر انگلی اٹھارہے ہیںگوکہ پہلے ہونے والے انتخابات اس طرح آزادانہ نہ تھے جواب ہونے جارہے ہیں۔ کچھ خفیہ قوتیں عوام پر حکمرانی کا خواب دیکھ رہی ہیں۔ وہ ان کو زخمی کرنا چاہ رہے ہیں۔ اس کے لئے ان لوگوں کو جو جمہوریت کا تسلسل اور منصفانہ، آزادانہ انتخابات چاہتے ہیں خدشات لاحق ہیں۔ ہم نے پارلیمنٹ کی مُدت پُوری ہوتے دیکھی، تمام سیاسی پارٹیوں نے بلوغت کا مظاہرہ کیا۔ آخری سیشن میں ایک مشترکہ گروپ فوٹو دیکھا جو جمہوریت کے تسلسل کا ایک مظہر تھا۔ اس سے قبل غیر نمائندہ قوتوں نے یہ نہ ہونے دیا۔ جمہوری عمل کو ڈی ریل کرنے کی سازشوںکو ناکام بنائیں گے۔ تمام جمہوریت پسندوں کا یہ ایمان ہے کہ ہر پارٹی کی کامیابی کو تسلیم کیا جائے اور منتخب عوامی نمائندوں کو کام کرنے دیا جائے تو یہ بہتر ہوگا۔

خوشنود علی خان (سینئر ایڈیٹر)

 یہ جمہوریت پسندوں کا اجتماع ہے۔ صدر کی خوبصورت تقریر تھی۔ میرا نقطہ¿ نظر مختلف ہے۔ میں جمہوریت پسندوںکو ناراض نہیں کرنا چاہتا۔

امیر نواب (رہنما عوامی نیشنل پارٹی)

یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ 65 سال بعد بھی انتخابات کے انعقاد سے متعلق خطرات محسوس کررہے ہیں۔ اس ملک میں زیادہ تر آمریت رہی، ہم جمہوریت کو مستحکم نہ کرسکے۔ اگر اس ملک کو بنتے ہی جمہوریت میسر آجاتی تو یہ ملک دو ٹکڑے نہ ہوتا۔ بھارت میں ہم سے زیادہ مسائل ، قومیں، مذاہب او ر تعصبات ہیں لیکن وہ جمہوریت کے ذریعے قائم اور متحد ہیں۔ آزادانہ انتخابات کے لئے سب سے پہلے وقت پر مردم شماری ہونا تھی جو ملک کی معاشی پالیسیوں کے لئے بھی ضروری تھی۔ ایک لاکھ پر ایک نمائندہ ہونا چاہئے مگر جو آبادی بڑھی اس کی نمائندگی نہیں ہے۔ ووٹروں کے اندراج میں نادرا کو مثبت کردار ادا کرنا ہوگا۔ ہماری زیادہ ترآبادی ان لوگوںپر مشتمل ہے جو ووٹروںکے اندراج سے رہ جاتی ہے ۔ شناختی کارڈ ہر اٹھارہ سال کے فرد کا ہونا چاہئے تاکہ وہ ووٹر لسٹوں میں شامل ہو۔ الیکشن کمیشن کا اپنا عملہ نہیں ہوتا ۔

حلقہ بندی سائنٹیفک بنیادوں پر ہونی چاہئے مصلحتوں پر نہیں، یہ غیر جانب دار انتخابات کے لئے ضروری ہے۔ الیکشن کے دن کم رہ گئے ہیں۔ ووٹرز پر کوئی دباﺅ نہیں ہونا چاہئے، بدقسمتی سے ایسا نہیں ہو پایا کیونکہ جمہوری کلچر فروغ نہ پاسکا۔ امن و امان اس وقت کا سب سے بڑا مسئلہ ہے، کوئی شخص اپنی پسند کی مسجد میں نماز نہیں پڑھ سکتا ہے ، امن وامان کے بغیر الیکشن کیسے ہوسکتے ہیں۔

 کراچی میںکلاشنکوف کلچر آچکا ہے۔ انتخابات کے لئے امن عامہ کی صورت حال بہتر بنانا ہوگی، بدترین جمہوریت بہترین آمریت سے بہتر ہے۔ عوام کی عدالت سب سے بڑا احتساب کا ادارہ ہے، جمہوریت کا تسلسل جاری رہنا چاہئے۔

نادر اکمل لغاری

 (صوبائی صدر پاکستان تحریک انصاف)

 ہم ایک فیری لینڈ میں رہتے ہیں۔سچ کو سچ کہا جائے اور جُھوٹ کو جُھوٹ ۔ اگر مجرم کو سزا ملے تو وہ آئندہ یہ عمل نہ دہرائے۔ کیا جمہوری سوچ والا انسان یہ چاہے گا کہ ملک میں دوبارہ آمریت آئے۔ جمہوری دور کے پانچ سال میں ہم نے کیا سیکھا، کیا پایا۔ کیا ہم نے اس دور میںمثبت کام کئے، صرف جمہوریت کے نام پر بگل بجایا جارہا ہے۔ قیام پاکستان سے آج تک سیاسی جماعتوں کے سربراہ تبدیل نہ ہوئے، کیا وہ ہی لوگ عقل کُل ہیں۔ ہمارے ملک میں سیاسی پارٹیوں کے نام شخصیات پر ہوتے ہیں، کیا ان کے اندر الیکشن ہوتے ہیں۔ الیکشن سے پہلے ہی سربراہ خود بنادیئے جاتے ہیں۔ ہمارے ہاں سیاست میں خفیہ ہاتھ ملوث ہوتے ہیں ۔ کیا ادارے آئینی حدود میں کام کررہے ہیں،بدعنوانی کا خاتمہ کیاگیا۔ مردم شماری کیوں نہیں کرائی گئی۔ الیکشن کمیشن پر سیاست ہورہی ہے۔ بعض عناصر الیکشن ملتوی کرانے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ صوبائی الیکشن کمشنر صوبائی حکومتوں کے نامزد کردہ ہیں۔ اداروں پر لوگوں کا اعتماد ختم ہوتا جارہاہے، الیکشن سے قبل سیاسی جماعتوں کے منشور آنے چاہئیں، ان پر بحث ہونی چاہئے، اس میں سے اچھی بات پر عمل کیا جائے۔ آج پاکستان لہوُ لہوُ ہے۔ آبادی کا بیشتر حصہ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہاہے۔ امن و امان کی صُورت حال خراب سے خراب تر ہورہی ہے اورکسی کو پرواہ نہیں۔سیاسی جماعتوں میں انتخابی اتحادوں کی بات ہورہی ہے۔ سیاسی جماعتوں کو اپنے طرز عمل پر غور کرنا چاہئے، سب ٹھیک ہوجائے گا، عوام فکر نہ کریں۔ بد قسمتی سے ملک ایک دہشت گرد ملک بننے جارہا ہے۔ ہم نے PTIمیں انتخابی عمل شروع کیا ہوا ہے، چیف الیکشن کمشنر کو ہماری پُوری حمایت حاصل ہے۔ ہم منصفانہ انتخابات چاہتے ہیں اور بندوق کے زورپر الیکشن کے مخالف ہیں۔

علیم عادل شیخ (رہنما پاکستان مسلم لیگ (ق))

 جمہوریت کا راگ الاپنے پر غصہ آتا ہے۔ جمہوریت ایک عمل ہے، سب ٹھیک ہوجائے گا، مایوسی کفر ہے۔ ہمیں حالات بہتر ہوجانے کی امید رکھنی ہوگی۔ جمہوری دور میں مسخرے بھی منتخب ہوجاتے ہیں۔ آمریت کو لانے والے مجرم ہیں مگر جمہوریت کو کمزور کرنے والوں کو بھی اپنے بارے میں غور کرناچاہئے۔ پاکستان دوسری جنگ عظیم کے بعد تخلیق ہوا۔ اسرائیل اورپاکستان نظریاتی ملک کہلائے جاتے ہیں۔ پاکستان پہلا ملک ہے جس کی جغرافیائی حد پہلے بنی اور قوم بعد میں۔ ہمارا میڈیا بی بی سی سے بھی زیادہ آزاد ہے ۔ اب اس کے اختیارات کے تعین اور تحفظ کا مسئلہ ہے۔ چیف الیکشن کمشنر کی صلاحیتوں پر اعتماد ہے لیکن ان کی کریڈیبلٹی سوالیہ نشان ہے۔ ہمارے ہاں انتخابات ووٹروں سے نہیں بلکہ با اثر لوگوں کا کرشمہ ہوتا ہے۔ ہماری قوم کو ان سے کیا ملتا ہے یہ غورکرنا ہوگا، ہمیں اچھے لوگوں کومنتخب کرنا چاہئے۔ آج کل میڈیا کے ذریعے بھی لیڈر بنائے جارہے ہیں۔ ہمیں اچھی امیدیں رکھناہوں گی۔

الطاف حسن قریشی (سینئر ایڈیٹر)

آزاد منصفانہ انتخابات سے جمہوریت کا بول بالا ہوگا، بعض لوگ اس پر بات نہیں کرنا چاہتے مگر ہمیں اس پر گفتگو کرنا ہوگی۔ جمہوریت کو نقصان پہنچانے میں سیاسی جماعتوں کا بھی کردار رہا ہے۔ بعض طاقتیں وقت پر انتخابات چاہتی ہیں، بعض قوتیں چاہتی ہیں کہ دیانت دار لوگ منتخب ہو کر آئیں تو حالات اچھے ہوں ۔ بعض لوگ محض انتخابات چاہتے ہیں۔ کچھ سیاسی جماعتوں نے آمریت کا ساتھ دیا اور بعض نے مقابلہ کیا۔ تین ماہ میں جو چاہتے ہیں وہ پینسٹھ سال میں نہ ہوا لیکن ایسا کیسے ہوگا۔ ایک دن میں تغیر نہیں آتا ۔ ہمیں ماضی کا جائز ہ لے کر وہ کام کرنا چاہئے کہ انتخابات بھی ہوجائیں اور اچھے لوگ بھی آجائیں، خواہشات بہت زیادہ ہیں۔ الیکشن کمیشن بہتر ہے،وہ اچھے انتخابات کی کوشش کررہا ہے۔ ہمیں دباﺅبڑھانا ہوگا، سیاسی جماعتیں بری شہرت کے حامل لوگوں کی بجائے اچھے امیدوار لائیں ۔ خُوب سے خُوب تر کی کوشش کریں۔ سیاسی شعورکو بڑھائیں۔ میڈیا اچھا کام کررہا ہے مگر احتیاط کی ضرورت ہے۔ تمام سیاسی جماعتوں کو مل کر یہ واضح کردینا چاہئے کہ وہ انتخابات وقت پر چاہتی ہیں، اچھے کردار کے لوگ آگے لائے جائیں ۔ دو تین ماہ میں سیاسی جماعتوں کا کلچر تبدیل نہیں ہوسکتا ، اس میں بتدریج تبدیلی آرہی ہے اور آگے اچھا ہوگا۔(جاری ہے)     ٭

معراج الہدیٰ صدیقی (رہنما جماعت اسلامی)

 آج کا موضوع بڑا اہم ہے۔ جس کا مقصد انتخابات اور جمہوری عمل کے ذریعے ایک نئی زندگی لانا ہے، آج اہل دانش کا اجتماع ہے۔ اسمبلیوں کی مُدت پُوری ہورہی ہے۔ نگران حکومتوں کی تکمیل کا مرحلہ اور انتخابات قریب آرہے ہیں مگر پُورا معاشرہ شکوک وشبہات کا شکار ہے۔ انتخابات کا وقت پر ہونا جمہوریت کو طاقت دینے کے مترادف ہے۔لوگ پاکستان میں جمہوری عمل کا سلسلہ جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ کسی طرح ڈی ریل کرنانہیں چاہتے۔ اگر ایسا ہوا تو پورا ملک اس سازش کا ڈٹ کر مقابلہ کرے گا جس میں سی پی این ای بھی شامل ہوگی۔ کراچی میں صحافیوں کی ٹارگٹ کلنگ ہورہی ہے۔نوجوان صحافی ولی خان بابر کا قتل ہوا،2012 ءمیں تین ہزار قتل، ایک ماہ میں ڈھائی سو سے زائد قتل ، ٹارگٹ کلنگ کاسلسلہ جاری ہے۔ سپریم کورٹ فیصلے سنا تی ہے مگر ٹارگٹ کلنگ بڑھتی جارہی ہے۔ یکایک تبدیلی نہیں آتی، مثبت راہوں پر چلناچاہئے لیکن ہم بدستور منفی راہوں پر چل رہے ہیں، سپریم کورٹ نے خراب سیاسی عمل کواس کی ذمہ دار قراردیا ہے۔ پانچ سال میں گیارہ ہزار لوگ مارے جاچکے ہیں۔ ووٹر لسٹیںصحیح نہیں تھیں۔ پہلے پولنگ اسٹیشنوں پر قبضے ہوتے تھے لیکن اب ووٹر لسٹوں پر قبضہ ہوچکا ہے۔ سپریم کورٹ نے ووٹر لسٹوں کی درستی پر زوردیا لیکن پہلے والے عمل سے زیادہ خرابی ہورہی ہے۔ سپریم کورٹ کی ہدایات کی روشنی میں فہرستیں نہ بنیں تو منصفانہ الیکشن نہیں ہوں گے۔ کراچی کو محفوظ بنانا ہوگا اس کے لئے آزادانہ اور شفاف انتخابات ہونے چاہئیں۔ آئین اور قانون پر عمل درآمد ہوناچاہئے۔ شہر کراچی میں بہنے والے خُون کا حساب لینا چاہئے۔ ڈرون حملوں سے زیادہ لوگ مارے گئے۔ ووٹر لسٹوں کی درستی کے بغیر انتخابات بے کار ہوں گے۔ سیاسی جماعتوں کے اندر اچھی جمہوریت ہونی چاہئے لیکن جاگیردارانہ نظام میں قائد تبدیل نہیں ہوتے۔ آئین کی شق 63-62 پر عملدرآمد اس کی رُوح کے مطابق ہونا چاہئے۔ کراچی میں امن کے قیام کے لئے آزادانہ انتخابات کا انعقاد ضروری ہے۔

ضیاءالدین (سینئر ایڈیٹر)

 میں تمام مقررین کے خیالات سے اتفاق کرتا ہوں۔ پاکستان کے بارے میں پیش گوئی بڑا مشکل کام ہے۔ ہمارے فیصلے جی ایچ کیواور واشنگٹن مےں ہوتے ہیں لیکن وہ بھی اب تھک گئے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ انتخابات ہوجائیں گے۔ پاکستان میں میڈیا ارتقاءکے عمل میںہے، اس میں خامیاں بھی ہوسکتی ہیں۔ 47 19ءسے 1957ءارتقاءکا عمل تھا مگر حادثہ ہوگیا،پھر جمہوری عمل شروع ہوا اور پھر ایک حادثہ ہوگیا۔ یہ مشکل مرحلے ہوتے ہیں۔ پہلے ہم انگریز کے نو آباد یاتی نظام سے لڑے، پھر ہم اپنے قومی حکمرانوں سے لڑے۔ ملک میں پہلی بار ایک منتخب حکومت الیکشن کرارہی ہے، جمہوری طریقے سے ایک نئی حکومت کے آنے کی امید ہے۔ ملک میں پہلی بار آزاد عدلیہ، طاقت ور میڈیا ہے اورکمزورانتظامیہ ہے۔ موجودہ پارلیمنٹ ملک کی پہلی مضبوط پارلیمنٹ ہے۔انیسویں اور بیسویں ترامیم متفقہ طور پر منظور ہوئیں یہ بہت بڑی بات ہے۔ اس سے پہلے ہم تمام غیر جمہوری اقدامات کو سپورٹ کرتے رہے اور کچھ میڈیا مالکان آمروں کے ساتھ رہے۔ میڈیا اب پری پول ریگنگ کو کس طرح کنٹرول کرے۔ ملازمتوں میں دھاندلیوں اورکرپشن پر نظر رکھناہوگی۔ سوال یہ ہے کہ کیا آنے والے انتخابات میں میڈیا بہت سے مسائل پر قابو پالے گا، اس کاکردار بڑا اہم ہے۔

حافظ حسین احمد (رہنما جمعیت العلماءاسلام (ف))

 آج رپورٹر اور ایڈیٹر سے مخاطب ہونے کا فرق معلوم ہوا اور مستقبل قریب میں میڈیا کے رول کا اندازہ ہوا۔ پرنٹ میڈیا سے کوریج مل رہی ہے، الیکٹرانک میڈیا ”جس کی لاٹھی اس کی بھینس“ پر کام کررہا ہے۔آج ہمیں سچ کہنے کی اجازت دی جائے ۔الیکشن کے وقت پر ہونے پر سوالات اُٹھ رہے ہیں، وقت کا تعین ہوگا تو وقت پر ہوں گے۔ خوشی کی بات ہے کہ جمہوری حکومت کے پانچ سال پُورے ہوئے۔ ہمارے مستقبل کے فیصلے ملک کے باہر ہوتے ہیں۔ انتقال اقتدار کا فیصلہ امریکہ کی مرضی سے ہوا۔ پانچ سال کے لئے معاہدہ ہوا تھا۔ ایمرجنسی کے نفاذ پر محترمہ الگ ہوگئی تھیں۔ کیا اگلے پانچ سال کے لئے معاہدہ ہوگا۔ تمام سیاسی جماعتیں آئندہ حکومت کا خاکہ بنائیں تو کیا آئندہ انتخابات منصفانہ ہوںگے۔ اگر تمام سیاسی جماعتیں اور پارلیمنٹ مل کر فیصلہ کریں کہ کوئی بیرونی مداخلت برداشت نہ کی جائے تو پھر آزادانہ انتخابات ہوسکتے ہیں۔ کیا خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں اس قسم کے اجتماعات ہوسکتے ہیں۔ ہم بلوچستان کے لوگ ان حالات میں انتخابات پر یقین رکھتے ہیں، لوگوں کو دیوار میں نہ چُنا جائے۔ اگر یہ صُورت حال جاری رہی تو پھر باہر سے لوگ آئیں گے۔ پچھلے الیکشن کا بائیکاٹ کرنے والوں کو بھی اس عمل میں شامل کیا جائے۔ بلوچستان کے بارے میں پارلیمنٹ کے فیصلوں پر عمل نہ ہوا۔ افغان مزاحمت کاروں سے بات چیت ہورہی ہے۔ امن و امان کے بدتر حالات میں خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں الیکشن نہیں ہوسکیں گے۔ ہمیںالیکشن کمیشن پر اعتماد ہے۔ ہم جب بند گلی میں پہنچتے ہیں تو سپریم کورٹ بھی ساتھ نہیں دیتی۔ انتخابات کے بائیکاٹ سے غیر جماعتی انتخابات ہوتے ہیں۔ الیکشن کے حوالے سے جو بات پیدا کی گئی ہے وہ کچھ تحفظات چاہتی ہے۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے حوالے سے مثبت فیصلے کرنے ہوں گے ،پہاڑوں پر موجود لوگوں سے بات کرنی ہوگی ۔بلوچستان میں حالات بہت خراب ہیںاگر یہی صورتحال رہی تو پہاڑوں پر بیٹھے لوگ امیدواروں کوقتل کریں کے۔ انتخابات کو سبوتاژ کرنے کی سازش ہورہی ہے۔ قوم کو اعتماد میں لے کر انتخابات کرائے جائیں۔ چیف جسٹس بحال ہیں مگر انصاف بحال نہیں ہے۔ الیکشن کمیشن کو متنازعہ بنانے کی کوشش کامیاب نہیں ہونے دی جائے۔ فوری طور پر انتخابات ہونے چاہئیں۔

شرجیل میمن (رہنما پاکستان پیپلز پارٹی)

آج ایک سنجیدہ اور اہم موضوع پر بات ہورہی ہے۔ یہ وقت کی ضرورت ہے۔ اس وقت افواہیں گردش کررہی ہیں۔ سازشوں کا جال بُنا جارہا ہے۔ اس میں میڈیا کا کُھلا مو¿قف آنا ضروری ہے۔ دو جمہوری حکومتوں میں انتقالِ اقتدار ہونے جارہا ہے ،خوشی کی بات ہے کیونکہ اس سے قبل یہ نہ ہوا تھا۔آزادانہ انتخابات کا انعقاد تمام پاکستانیوں کی خواہش رہی ہے۔اس سے قبل ہونے والے الیکشن فری اینڈ فیئر نہ تھے جن میں کسی ایک پارٹی کو مکمل مینڈیٹ سے محروم رکھا گیا آئندہ انتخابات میں بھی یہ ہوسکتا ہے۔جتنی تنقید ہماری حکومت پر ہوئی اس سے قبل کسی حکومت پر نہیں ہوئی۔ پہلے اخبارات اور ٹی وی بند کردیئے جاتے تھے لیکن اس بار نہیں ہوا۔ پیمرا نے بھی میڈیا پر اثر انداز ہونے کی کوششوں کو روکا۔ ہم پر جائز اور ناجائز تنقیدیں ہوئیں۔ میڈیا کے کچھ لوگوں کی طر ف سے حکومت جانے کی تاریخیں بھی دی گئیں لیکن پانچ سال ہم نے پُورے کئے، پاکستان پیپلزپارٹی نے آئندہ کے الیکشن فری اینڈ فیئر بنانے کی پُوری کوشش کی ہے، اس کے لئے قانون سازی بھی کی گئی۔ جو ترامیم کی گئیں وہ تمام سیاسی جماعتوں کی رائے سے نیک نیتی سے کی گئیں۔ صاف شفاف الیکشن ہوں گے، سو فیصد شفافیت کی کوئی ضمانت نہیں دے سکتا ۔ آزاد الیکشن کمیشن ہے۔ چیف الیکشن کمیشن ٹھیک ہے لیکن ماضی کے تجربات سامنے رکھ کر ہمیںمزید وقت کی ضرورت ہے۔ ہم غیر جانب دار نگراں حکومت لانا چاہتے ہیں۔ پولنگ کو بہتر بنانے کی پوری کوشش کی جائے گی۔ ایک دھاندلی حکمران پہلے سے کرلیتے تھے دوسری دھاندلی پولنگ کے دوران ہوتی ہے۔ آج ہم جو بات بات پر اعتراض کررہے ہیں اور عدالتوں میں جارہے ہیں وہ موجودہ جمہوری دور کے ثمرات ہیں۔ عدلیہ کا بھی رول ماضی میں اچھا نہیں رہا۔ ہر ادارے کو اپنا فرض بہتر طریقے سے ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ میڈیا کا کردار بڑا اہم ہے۔ ایک دوسرے پر الزامات سے گریز کرنا چاہئے۔ ابو ظہبی کا معاہدہ نہ ہوتا توپرویز مشرف وردی اتارتا نہ اس کی حکومت ختم ہوتی۔ کراچی،خیبر پختونخوااور بلوچستان کے حالات سابقہ آمرانہ حکومتوں کے اقدامات کا نتیجہ ہے۔ پیپلز پارٹی کے ورکروں نے جمہوریت کے لئے بڑا خُون دیا ہے۔ یہ لڑائی پُورے پاکستان کی ہے، سب پارٹیوں کو مل کر جمہوریت دشمن قوتوں کے خلاف لڑنا ہوگا۔ پُورے ملک کی ووٹرلسٹوں میں گڑ بڑ ہے۔ پولنگ اسٹیشنوں پر قبضہ کراچی کے علاوہ ملک کے دیگر حصوں میں بھی ہوتا ہے۔ یہ اصلاحات پورے ملک کے لئے ضروری ہیں۔تیس پینتیس دن میں ووٹرز لسٹوں کی درستی سپریم کورٹ کا حکم غیر ضروری تھا۔ اخبارات یں چھپوانے کے لئے بیان نہ دیئے جائیں۔ جو جملے فیصلوں میں عدلیہ نہ لکھ سکے وہ کمنٹس کر کے نہ کہے جائیں۔ایک جج نے ریمارکس دئےے کی حکومت اشتہار دے کی ہر شہری اپنی حفاظت خود کرے لیکن میں کہتا ہوں کہ عدلیہ بھی اشتہار دے کی وہ کسی ملزم کو سزا نہیں دے سکتی کیونکہ ہم نے جتنے بھی ملزم رنگے ہاتھوں گرفتار کئے عدلیہ نے ان سب کو رہا کر دیا۔ ولی خان بابر کے قاتلوں کو گرفتار کر کے عدلیہ کے کٹہرے میں کھڑا کیا مگر دو دو سال مقدمہ نہ چلے تو کیا گواہ زندہ رہ سکتے ہیں۔ ہر تاریخ چھ ماہ بعد آتی ہے۔

ڈاکٹر فاروق ستار (ڈپٹی کنوینئر متحدہ قومی موومنٹ)

 اہم موقع پر اہم اجلاس۔ اس نفسا نفسی کے دور میں آپ کی خیر گیری کے لئے آئے ہیں، آپ کے فکر اور تفکرات کو شیئر کرنے آئے ہیں۔ اب ہمارے اقتدار کے خاتمہ کا وقت قریب ہے اور ملک کی بقا اور سلامتی داﺅ پر لگی ہوئی ہے۔ پینسٹھ سال سے تجربات کئے ہیں۔ آج کے دانش وروں کے اجلاس میں اندیشے نظر آرہے ہیں کہ جمہوریت کو پٹڑی سے اترنے کا فوبیا لاحق ہوگیا ہے۔ہماری جمہوریت کو جو خطرات لاحق رہے ہیں وہ ہمارا مائنڈ سیٹ ہے۔ ہمارے اہل قلم، دانش ور اورسیاسی رہنما یہ سوچتے ہیں کہ ہمارے اعتماد میںکہاں خامی ہے۔ ہم اس نظام کے ڈی ریل ہونے کا ہی کیوں سوچتے رہتے ہیں۔ پھر پانچ سال گزر جائیں گے پھر انتخابات ہوں گے۔ جب جمہوریت نہیں ہوتی تو تحریک چلاتے ہیںلیکن آج ہم کیوں خدشات کا شکار ہیں، ہماری جمہوریت کیوں تمام طبقوں کو متحد نہیں رکھ سکتی ۔ ہمارے ہاں جمہوریت کے نظام میں کیا بنیادی کمزوری ہے۔ ہم ایک جمہوری حکومت سے دوسری جمہوری حکومت کو اقتدار سے منتقلی پر کیوں تشویش کا شکار ہیں، ہماری جمہوریت کیوں بانجھ رہی ہے، اس کے بطن سے مقامی حکومتوں نے کیوں جنم نہ لیا، جہاں تک عوام کو نچلی سطح پر اقتدار کی منتقلی ہے تو اس میں مقامی حکومتوں کو با اختیار بنایا جائے۔ امنِ عامہ ٹھیک کریں، پینٹاگون اور ایجنسیوں کے مرہون منت نہ رہیں۔ اہل الرائے، اہل قلم اور لوگوں کو منظم کرنے والوں کو سیاسی منشور دینے کے ساتھ ایک قومی ایجنڈا بھی دینا ہوگا، جس میں انتخابات کا ضابطہ اخلاق بھی موجود ہو اور امنِ عامہ کی یقین دہانی بھی۔ معیشت کی بحالی اور بلوچستان کے مسائل کا حل ضروری ہے۔ اگر قوم پرستوں نے بائیکاٹ کا اعلان کیا تو کیا ہوگا۔ کیا ایک اور مشرقی پاکستان سامنے آئے گا۔بلوچستان میں اگر منفی پولنگ ہوئی تو کیا ہوگا، بلوچ قوم پرستوں سے مذاکرات کرنے ہوں گے ،آج ایک کم سے کم قومی ایجنڈے کی ضرورت ہے جس میں انتخابات، سیاسی اور جمہوری عمل کا تسلسل شامل ہونا چاہئے۔ پینسٹھ سال سے میرے سر پرتلو ار لٹک رہی ہے اور مجھے کوئی تابناک مستقبل نظر نہیں آرہا ۔ مقامی حکومتوں کی جمہوریت کے بغیر مرکزی جمہوریت کا کوئی مقام نہیں ہوگا۔ جمہوری عمل بلدیاتی نظام کے بغیر ادھورا ہے اس لئے سیاسی جماعتیں مقامی حکومتوں کے انتخابات کو یقینی بنانے کا عزم کرے اور جو سیاسی جماعت آئندہ انتخابات میں کامیابی حاصل کرے وہ اپنے سو دن میںمقامی حکومتوں کے انتخابات کروائے تمام سیاسی جماعتیں نیشنل ٹیرررازم پالیسی بنائیں جس میں مقامی حکومت کو کردار دیں کی وہ گلی محلوں کی حفاظت کے لئے کمیونٹی پولیسنگ قائم کرے۔ نئی حکومت سے اپنے پہلے سو دن مکمل کرنے سے قبل مقامی حکومتوں کے لئے بھی سی پی این ای کو بات کرنی چاہئے۔ پاکستان میں ستھری جمہوریت اور حکمرانی ہونی چاہئے۔ چند لوگوں کے بجائے عام لوگ بھی منتخب ہوسکتے ہیں۔

ستر فیصد عوامی نمائندے ٹیکس نہ دیتے ہوں، این ٹی ایم نمبر نہ ہو تو پھر ایسے نمائندوں سے کیا توقع کی جاسکتی ہے۔ اقتدار کبھی جی ایچ کیوسے باہر گیا ہی نہیں ہے۔ پینسٹھ سال کی خرابی پینسٹھ دنوں میں ٹھیک نہیں ہوسکتی لیکن جتنا اچھا ہوسکتا ہے وہ تو کریں۔ سیاست کو تجارت بنانے کے عمل کو روکا جائے۔ سیاسی جماعتوں میں خرید و فروختاور توڑنے کا عمل روکا جائے۔ خیبر پختونخوا میں خواتین کو ووٹ ڈالنے کا بھی حق ملنا چاہیے۔ مقامی سطح پر جمہوریت کے بغیر جمہوری استحکام نہیں ہوسکتا، تمام مقتول لوگوں کے قاتلوں کو بے نقاب ہونا چاہئے۔ بلدیاتی نظام کے خاتمے کے بعد سے کراچی کے حالات خراب ہورہے ہیں۔ نومبر 2008ءکے بعد ٹارگٹ کلنگ شروع ہوئی۔ جن لوگوں سے فوج کی لڑائی ہوئی وہ کراچی آکر اس کو دہشت گردی کا گڑھ بنارہے ہیں۔ ہمیں ایک حقیقی عوامی اور فنکشنل جمہوریت کی ضرورت ہے۔سترہ سو نمائندے ےبس کروڑ کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ سی پی این ای قومی ادارہ ہے ۔

امتیاز عالم (سینئر صحافی، تجزیہ نگار)

 پاکستان کی بانجھ جمہوری سیاست میں جو بچہ پیدا ہوا اسے چُن چُن کر مارا۔ ہم نے جمہوریت کی لڑائی لڑی، پاکستان کی سب سے بڑی لڑائی یہ ہے کہ کیا حکمران عوام ہیں یا نہیں۔ اقتدار اعلیٰ اللہ تعالیٰ کا ہے جس کی نمائندگی عوامی نمائندوں کے ذریعے ہوتی ہے۔ جب جمہوریت آتی ہے تو لوگوں کی توقعات بھی بڑھ جاتی ہیں۔ پھر لوگ مایوس ہو کر چِلّانے لگتے ہیں۔ یہ جمہوریت کی خوبی ہے کہ طمانچے کا جواب نہیںدیا جاتا۔

چاہے حلقہ بندی ہو یا بنیادی جمہوریت ہر جماعت کی اپنی اپنی رائے ہے۔

پہلی ٹرانزیشن فیل،دوسری ایوب، تیسری بھٹو، چوتھی ضیاءالحق، نواز شریف، بینظیر بھٹو اور مشرف۔ٹرانزیشن اب بھی جاری ہے۔ اختلاف رائے اتنانہ بڑھایا جائے کہ نظام ڈی ریل ہوجائے۔ کراچی میں فری الیکشن نہیں ہوسکتے ۔

پہلے کراچی میں لسانی مسئلہ تھا اب فرقہ وارانہ ہوگیا ہے۔ سیاسی جماعتوں کو مل بیٹھ کر بات کرنی ہوگی۔ اسلحہ سب کو گرانا ہوگا۔

ہمارے ہاں بے یقینی کی فضا ہے۔ ہمیںتاریخ سے سبق سیکھنا ہوگا۔ فیڈریشن سے بلوچ علیحدہ ہوگئے ہیں۔ صوبائی خود مختاری اچھی بات ہے۔ اقتدار کے نظریے تبدیل ہورہے ہیں۔ جو الیکشن کمیشن بنا وہ دو بڑی سیاسی جماعتوں کے اشتراک کا مُک مُکا نہیںہے،فخرو بھائی کا انتخاب اچھا ہے۔ ممبران پر اعتراض ہے، اگر ممبران پر اعتراض کیا گیا تو پنڈورا بکس کھل جائے گا۔ الیکشن کمیشن کی ازسر نو تشکیل متنازعہ ہوسکتی ہے۔ ملک کی اصل طاقتیں خفیہ ہیں۔ ہم جانتے ہیںنگران سیٹ اپ کس کا ہوگا۔ساٹھ اورنوّے کی لڑائی میں آئین کے طریق کار پر اتفاق ہونا چاہئے۔ نئے سٹیک ہولڈرز خیال کریں جو مل رہا ہے وہ بھی نہ ملا تو کیا ہوگا۔ بلوچستان کی صورت حال کا احساس کریں۔

پاور اسٹرکچر آئین کے مطابق بنا ہے۔ اب غیر منتخب سویلین اداروں سے بھی جمہوری نظام کو خطرہ ہے۔ اگر جمہوریت ڈی ریل ہوگئی تو عدلیہ اور میڈیا متاثر ہوں گے۔ جمہوریت کا تحفظ کرنا چاہئے، سیاست داں اپنے پروگرام پیش کریں۔ مسائل پر بات کریں۔ ان مسائل پر میڈیا میں بحث ہونی چاہئے۔

پارٹیاں حلف لیں کہ آئینی حدود سے باہر نہ جائیں، بنیادی حقوق کا تحفظ اور قومی مسائل کے حل پر اتفاق کرنا ہوگا۔میڈیا اپنی کریڈیبلٹی برقرار رکھے۔الیکشن کوریج کا ایک ضابطہ اخلاق ہونا چاہئے۔ پی ٹی وی اور اے پی پی کو بھی آزاد و خود مختار ہونا چاہئے۔ اطلاعات تک رسائی کے حق کے بل کو قومی اسمبلی میں لایا جائے، اس سے کرپشن کم ہوتی ہے۔

الیکشن سے پہلے پارٹیاںسر گرم نہ ہوں ورنہ سسٹم ڈی ریل ہوجائے گا، الیکشن کے اعلان کے بعد سیٹ اپ ہوں تو اچھا ہے، آپ محتاط رہیں گے تو جمہوریت ڈیل ریل نہیں ہوگی۔

کانفرنس میں سی پی این ای کی سٹینڈنگ کمیٹی کے اراکین، رحمت علی رازی، اعجاز الحق، سید فصیح اقبال، وامق زبیری، قاضی اسد عابد، ممتاز طاہر، جاوید مہرشمسی، حامد حسین عابدی، غلام نبی چانڈیو، مختار عاقل، انور فاروقی، نصیر ہاشمی، نوید چوہدری، عارف بلوچ، کامران ممتاز، الیاس شاکر اور دیگر سینئر ایڈیٹروں، سینئر صحافیوں اور تجزیہ نگاروں میں طاہر نجمی،اطہر ہاشمی، یونس ریاض، خالق مارشل، یونس مہر، زاہدہ عباسی، فیصل زاہد ملک، نجم الدین شیخ، ہمایوں طارق، مقتدیٰ منصور، عبدالرحمن منگریو، اسلم میاں، غلام ربانی، مظہر اعجاز، شیر محمد کھاوڑ، مبشر میر، سلمان قریشی، منزہ سہام مرزا، رخسانہ سہام مرزا، عثمان رب ساٹھی، قاضی مصطفی عباسی، قاضی سجاد اکبر، ایس بی حسن، اویس اسلم علی، ڈاکٹر توصیف احمد، کامران رضوی، دردانہ شہاب، عمر شہزاد اور دیگر صحافتی تنظیموں کے رہنماﺅں امین یوسف، امتیاز فاران، جی ایم جمال سمیت صحافیوں اور سول سوسائٹی کے لوگوں نے بھرپور شرکت کی۔

 سی پی این ای کانفرنس کا اعلامیہ

 کونسل آف پاکستان نیوز پیپرایڈیٹرز اور سیاسی جماعتوں کا اجتماع یہ سمجھتا ہے کہ

ا ........ آزادانہ ومنصفانہ انتخابات کے انعقاد کے ناطے سے جوشکوک وشبہات پیدا کئے جارہے ہیں اور بے یقینی کی جو صُورت حال پیدا کی جارہی ہے وہ نہایت تشویش ناک ہے، اس کے تدارک کے لئے انتخابات کی تاریخ کا بلا تاخیر اعلان کیاجائے۔

ب .... کراچی،بلوچستان اور ملک کے دوسرے علاقوں میں دہشت گردی کی لہراور فرقہ وارانہ قتل وغارت انتہائی قابل مذمت ہے، اس صُورت حال کو معمول پر لانے کے لئے حکومتیں حرکت میں آئیں۔

پ........ ایک خودمختار اور طاقت ور الیکشن کمیشن کا قیام، شفاف انتخابی فہرستوں کے لئے اقدامات اور انتخابی اصلاحات کے لئے دی جانے والی مثبت تجاویز جن پر قانون سازی متوقع ہے قابل تعریف ہے۔

ت........ جس ا تفاق رائے سے الیکشن کمیشن کا قیام ہوا، امید کی جاتی ہے کہ آئین کے مطابق عبوری حکومتوں کا قیام بھی اتفاق رائے سے عمل میں لایاجائے گا۔

ج........ یہ امر تشویش ناک ہے کہ غیر منتخب قوتیں اور غیر جمہوری عناصر انتخابی عبوری دور کو کسی نہ کسی طورپر الجھا کر جمہوریت کوپٹری سے اتارنے کی کوشش کررہی ہیں۔

د........ یہ اجلاس مکمل طورپر جمہوریت کے تسلسل ، ساٹھ روزہ عبوری حکومت اور منصفانہ ، آزادانہ انتخابات کو ملک بھر کے عوام اور ان کے مستقبل کے لئے لازمی اور ضروری سمجھتا ہے، جمہوریت ہی پاکستان کے عوام کو حقیقی معنوں میں مقتدر بنانے کا واحد ذریعہ ہے اور جمہوریت کو پٹری سے اتارنے اور آئین سے انحراف کی کسی بھی صُورت کی بھرپور مزاحمت کی جائے گی۔

 قانون کی حکمرانی، عدلیہ کی خود مختاری اور میڈیا کی آزادی جمہوریت کی مرہون منت ہے اور تمام سویلین اداروں اور سول سوسائٹی کوجمہوریت کے استحکام کے لئے متحد ہوجانا چاہئے۔

ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ!

1 ........انتخابات مقررہ وقت پر بیک وقت منعقد ہوں۔

2 .... ....عبوری حکومتوں کا قیام ساٹھ روز کے لئے اتفاق رائے سے ہو اور بروقت انتخابات کراکر اقتدار منتخب نمائندوں کو سونپ دیا جائے۔ عبوری دور کو کسی صورت لمبا کرنے کی کوشش تباہ کن ہوگی اور اس کی بھرپور مزاحمت کی جائے گی۔

3....الیکشن کمیشن کے قیام اور اس کی آزادی اور خود مختاری کے لئے اسے جو آئینی تحفظ حاصل ہے وہ ہرحال میں قائم رہنا چاہئے۔

4 ........ کراچی اوربلوچستان سمیت تمام ملک میں امن وامان کے قیام کے لئے تمام اداروں کو مل کر بھرپور کوشش کرنی چاہئے۔ پُر امن ماحول انتخابات کے انعقاد کے لئے اشد ضروری ہے۔

5 ........ میڈیا اورجمہوریت کے تمام ستون انتخابات بروقت کرانے میں بھرپور کردار اداکریں۔

6 ........ سرکاری شعبہ میں پاکستان ٹیلی ویژن ، پاکستان براڈ کاسٹنگ کارپوریشن اور اے پی پی کو انتخابات سے قبل حقیقی معنوں میں آزاد، خود مختار اور غیر جانب دار بنانے کا اہتمام کیا جائے، اسی طرح ہم میڈیا کے انتخابات کے حوالے سے ضابطہ اخلاق کے اجراءاور اس پر عمل درآمد کی ا پیل کرتے ہیں۔

7 اشتہارات کی مرکزی پالیسی کو فوری طور پرختم کیا جائے۔

8 ........ انتخابات کے دوران صحافیوں کو ا پنے پیشہ ورانہ فرائض آزادانہ اور پُر امن ماحول میں ادا کرنے کے قابل بنانے کے لئے ان کے جان ومال کو پُورا تحفظ دیا جائے۔

مزید : کالم